Monday , November 19 2018
Home / مضامین / کرناٹک انتخابات ذات پات کی سیاست کے بعد ہندوتوا پر توجہ مرکوز

کرناٹک انتخابات ذات پات کی سیاست کے بعد ہندوتوا پر توجہ مرکوز

پراتول شرما
کرناٹک میں جیسے جیسے انتخابات کا وقت قریب آتا جا رہا ہے ذات پات پر مبنی سیاست اور فرقہ پرستی و ہندوتوا پر ساری توجہ مرکوز ہوتی جا رہی ہے ۔ کرناٹک میں بی جے پی کیلئے سدارامیا نے ذات پات پر مبنی اقدامات کے ذریعہ مشکلات پیدا کردی ہیں ۔ تاہم اس کے جواب میں ایسا لگتا ہے کہ مرکزی وزیر اننت کمار ہیگڈے نے ہندوتوا کارڈ کے شدت سے استعمال کرنے کا فیصلہ کیا ہے ۔ اننت کمار ہیگڈے کرناٹک سے منتخب ہونے والے بی جے پی کے پانچ مرتبہ کے رکن پارلیمنٹ ہیں جو دہلی میں فیروز شاہ روڈ پر مقیم ہیں۔ ان کے گھر پر لارڈ رام کے نام والا پرچم لہراتا ہے اور وہ سب سے الگ پہچانا بھی جاتا ہے ۔ اننت کمار ہیگڈے اب کرناٹک میں بی جے پی کی فرقہ پرستانہ سیاست کا مرکز بننے لگے ہیں۔
انہوں نے 1994 میں سب سے پہلے اپنے سیاسی سفر کا آغاز کیا تھا ۔ انہوں نے اس وقت کرفیو کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ہبلی میں ایک عیدگاہ میدان پر ترنگا پرچم لہراتے ہوئے توجہ حاصل کی تھی ۔ اس وقت ان کے ساتھ ہندو جاگرن ویدیکے کے ارکان بھی تھے ۔ ان کے اس اقدام سے آر ایس ایس ان کی سمت متوجہ ہوئی اور 1996 میں انہوں نے اترکنڑا حلقہ سے بی جے پی ٹکٹ پر لوک سبھا کیلئے مقابلہ کیا ۔ اس کے بعد سے انہیں پیچھے مڑ کر دیکھنے کی ضرورت محسوس نہیں ہوئی ۔ صرف 1999 میں انہیں کانگریس کی مارگریٹ الوا کے مقابلہ شکست ہوئی تھی ۔ حالیہ عرصہ میں مرکزی وزیر نے ایک تقریب میں ملک میں سکیولرازم کے نظریہ پر ہی سوال اٹھایا تھا اور کہا تھا کہ ان کی حکومت ملک کا دستور بدل کر رکھ دے گی ۔ چونکہ وہ ہندوتوا اور نیشنل ازم کو ایک ہی مانتے ہیں اس لئے ان کے ریمارکس پر کوئی خاص اعتراضات نہیں ہوئے ۔ اننت ہیگڈے نے ہمیشہ ہی اشتعال انگیز بیانات سے تنازعات پیدا کئے ہیں۔ انہوں نے کبھی افسوس کا اظہار بھی نہیں کیا ۔
اب جبکہ کرناٹک میں انتخابات کا وقت قریب آتا جا رہا ہے ہیگڈے پارٹی کا ہندوتوا چہرہ بن کر ابھر رہے ہیں۔ اننت کمار ہیگڈے کو در اصل کرناٹک کا یوگی آدتیہ ناتھ قرار دیا جانے لگا ہے ۔ گذشتہ اکٹوبر میں ہیگڈے نے چیف منسٹر کرناٹک سدارامیا کو مکتوب روانہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ سرکاری تقریب میں شرکت نہیں کرینگے جو ٹیپو سلطان جینتی کے موقع پر منعقد ہو رہی تھیں کیونکہ ان کے خیال میں ٹیپو سلطان ایک بہیمانہ قاتل تھے ۔ ایک موقع پر ہیگڈے نے کہا تھا کہ جب تک اسلام باقی ہے اس وقت تک دنیا میں امن قائم نہیں ہوسکتا ۔ کرناٹک میں چونکہ سیاست پر ذات پات کا زیادہ اثر ہوتا ہے اس لئے اس بار بھی حالت مختلف نہیں ہے ۔ ریاست میں لنگایت برادری کی عددی طاقت کافی ہے اور اس نے خود کو علیحدہ مذہبی گروپ کے طور پر تسلیم کرنے کا مطالبہ کیا تھا ۔ حالانکہ بی جے پی نے لنگایت لیڈر بی ایس یدیورپا کو چیف منسٹر امیدوار قرار دیدیا ہے لیکن ہیگڈے اور پہلی مرتبہ کے ایم پی پرتاپ سمہا کی جانب سے ہندوتوا مسائل کو مسلسل ہوا دی جا رہی ہے ۔ ہیگڈے کی سیاست تاہم ذات پات سے زیادہ ہندوتوا کو ترجیح دیتی ہے ۔ ان کا کہنا ہے کہ دیکھیں کہ اترپردیش میں کیا ہوا ہے ۔ اترپردیش میں عوام نے ذات پات کی تقسیم سے بلند ہو کر بی جے پی کو وٹ دیا ہے ۔ یہی کچھ نئے ہندوستان کی تعمیر ہے ۔
بی جے پی اقتدار والی ریاستوں میں ذات پات کے نظام کے تعلق سے ہیگڈے کا کہنا تھا کہ جب حالات بدلتے ہیں تو برائیاں پہلے باہر ہوتی ہیں اور اچھی چیزیں بعد میں آتی ہیں۔ کچھ دانشور اور سکیولر سوچ رکھنے والے ذات پات کی تقسیم کو ہوا دینا چاہتی ہیں جس کی مثالیں گجرات اور مہاراشٹرا میں موجود ہیں۔ ان کا ادعا تھا کہ ثقافتی قوم پرستی ہماری شناخت ہیں اور ہم اس میں ایک ہی ہیں۔ ہیگڈے کا اتر کنڑا حلقہ ساحلی علاقہ میں ہے اور یہاں فرقہ وارانہ جذبات ہمیشہ شدید ہوتی ہیں۔ 2017 میں یہاں فرقہ وارانہ جھڑپیں بھی ہوئیں جب ایک ایس ڈی پی آئی کارکن محمد اشرف کلائی ‘ آر ایس ایس کارکن شرت مدیوالا اور بجرنگ دل کارکن دیپل راؤ کا قتل ہوا ۔ اس حلقہ میں 19 اسمبلی حلقے ہیں جو تین اضلاع میں پھیلے ہوئے ہیں۔ ان میں بھٹکل اور اڈوپی شہر بھی شامل ہیں۔ 2013 میں یہاں بی جے پی کو صرف تین نشستوں سے کامیاب ملی تھی جبکہ کانگریس نے 13 نشستیں جیتی تھیں۔ حالانکہ اتر کنڑا حلقہ میں برہمن آبادی کم ہے لیکن ہیگڈے برہمن ہونے کے باوجود کامیابی حاصل کر رہے ہیں۔ انہوں نے او بی سیز سے اچھے روابط بنائے ہیں۔ جو حالات ہیں ان کو دیکھتے ہوئے یہ ضرور کہا جاسکتا ہے کہ بی جے پی صدر امیت شاہ اور وزیر اعظم نریندر مودی کی جانب سے وزیر بنائے جانے کے بعد ہیگڈے ریاست میں بی جے پی کا ہندوتوا چہرہ بن گئے ہیں۔وہ کرناٹک کے ساحلی علاقہ کی اسمبلی نشستوں پر ساری توجہ مرکوز کئے ہوئے ہیں اور جس وقت سے مرکز میں وزیر بنادئے گئے ہیں اس وقت سے اس علاقہ کے نوجوانوں کو مختلف اسکیمات کے ذریعہ راغب کرنے کی حکمت عملی پر عمل آوری کر رہے ہیں۔ بی جے پی اس کے باوجود یدیورپا کو بھی نظر انداز کرنا یا پس منظر میں ڈھکیلنا نہیں چاہتی کیونکہ ریاست میں ان کی مقبولیت سے بھی انکار نہیں کیا جاسکتا ۔ کانگریس پارٹی مسلسل یہ الزام عائد کرتی جا رہی ہے کہ ایک طرف ہیگڈے کی حوصلہ افزائی اور دوسری طرف یدیورپا کی مقبولیت سے فائدہ اٹھانے کی کوشش میں بی جے پی دوہرے معیارات پر عمل کر رہی ہے ۔
جس وقت سے یہ اندیشے تقویت پاگئے ہیں کہ ریاست میں مسلم جماعتیںبھی انتخابی میدان میں اترتے ہوئے بھگوا پارٹی کی بالواسطہ طور پر مدد کرینگی اس وقت سے پارٹی کے ہندوتوا ایجنڈہ میں شدت پیدا ہوتی نظر آر ہی ہے ۔ پارٹی کا احساس ہے کہ جہاں مسلم ناموں کے ساتھ مختلف جماعتیں میدان میں آئیں گی اور اشتعال انگیزو جذباتی تقاریر کرینگی تو اس سے ہندو ووٹ بینک کو مستحکم کرنے میں بی جے پی کو مدد ملے گی ۔ گذشتہ دنوں ایک بڑی تاجر مسلم خاتون کی جانب سے ایک پارٹی قائم کرنے کا اعلان بھی ایسا لگتا ہے کہ بی جے پی کی کرناٹک میں بچھائی جانے والی بساط ہی کا ایک حصہ ہے ۔ یہ اطلاعات ہیں کہ ان محترمہ کے مرکزی وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ سے انتہائی بہترین تعلقات ہیں اور راج ناتھ سنگھ ہی انہیں سیاسی میدان اور تجارت کے معاملہ میں بالواسطہ طور پر مدد کرتے ہوئے ان کی حوصلہ افزائی کرنے لگے ہیں۔ اس کے علاوہ دوسری مسلم جماعتوں کے کرناٹک کے انتخابی میدان میں قسمت آزمائی کرنے کے اعلان نے بھی بی جے پی کی صفوں میں یہ امید پیدا کردی ہے کہ وہ کرناٹک میں ایک بار پھر اقتدار حاصل کرتے ہوئے سارے جنوبی ہند میں اپنے پر پھیلانے کے منصوبہ کو قطعیت کے ساتھ پورا کرنے میں کامیاب ہوسکتی ہے ۔
سیاسی حلقوں میں یہ تجزئے بھی کئے جا رہے ہیں کہ مسلم جماعتوں کے داخلے سے بی جے پی کیلئے اپنے منصوبوں کو پورا کرنا زیادہ مشکل نہیں رہ جائیگا ۔ حالانکہ چیف منسٹر سدا رامیا نے ذات پات کے فروغ کا کارڈ کھیلتے ہوئے بی جے پی کیلئے اپنے طور پر مشکلات پیدا کرنے کی کوشش ضرور کی ہے لیکن جس طرح سے ہندوتوا چہرہ کو ریاست میں ابھارا جا رہا ہے اور کٹر نظریات کو فروغ دیا جا رہا ہے اس سے حالات میں کسی بھی وقت تبدیلی آسکتی ہے اور اس میں مسلم جماعتیں بالواسطہ طور پر بی جے پی کیلئے معاون ثابت ہوسکتی ہیں۔ ریاست میں مسلم رائے دہندوں کی تعداد خاطر خواہ ہے اور اگر یہ ایک رائے ہو کر اپنے ووٹ کا استعمال کرتے ہیں تو اس سے ریاست میں حکومت سازی پر اثر انداز ہوسکتے ہیں لیکن اگر ان کے ووٹوں میں تقسیم ہوتی ہے اور پھر کٹر ہندوتوا ووٹ بی جے پی کے حق میں متحد ہوجاتے ہیں تو بی جے پی جنوبی ہند میں اپنے قدم مستحکم کرنے کے منصوبہ میں کامیاب بھی ہوسکتی ہے ۔

TOPPOPULARRECENT