Sunday , May 27 2018
Home / مضامین / کرناٹک انتخابات راہول نے مودی کے دانت کھٹّے کر دیے

کرناٹک انتخابات راہول نے مودی کے دانت کھٹّے کر دیے

ظفر آغا
کرناٹک اسمبلی انتخابات ختم ہوئے۔ اب صرف کرناٹک ہی نہیں بلکہ پورے ہندوستان کو ہی کرناٹک کے انتخابی نتائج کا بے چینی سے انتظار ہے۔ یوں تو 15 مئی کو ووٹوں کی گنتی کے بعد ہی پتہ چلے گا کہ وہاں اونٹ کس کروٹ بیٹھا، لیکن وہاں لوگوں سے بات چیت اور مبصرین سے پوچھ تاچھ کے بعد جو اندازہ ہو رہا ہے وہ یہ ہے کہ کرناٹک میں کانگریس پارٹی کو بی جے پی پر سبقت حاصل ہے۔ لیکن اکثر مبصرین کا خیال ہے کہ کانگریس نمبر ایک پارٹی تو رہے گی لیکن کسی بھی جماعت کو واضح اکثریت شاید نہ ملے۔ اس صورت حال میں دیوگوڑا کی پارٹی جنتا دل (سیکولر) کا رول اہم ہوگا۔ مگر سب کا یہی کہنا ہے کہ گوڑا کی ڈیل امت شاہ سے ہو چکی ہے اور وہ بی جے پی کی ہی مدد کریں گے۔

بہر کیف، نتائج کچھ بھی ہوں لیکن انتخابی تشہیر کے دوران چند باتیں ابھر کر آئیں جو بہت اہم ہیں اور اب ان باتوں کا پورے ملک کی سیاست پر سنہ 2019 تک گہرا اثر پڑے گا۔ اولاً، اس انتخاب میں یہ ثابت ہو چکا ہے کہ مودی کا سحر اب ٹوٹ چکا ہے۔ سنہ 2018 کے مودی وہ مودی نہیں رہے جو سنہ 2014 کے مودی تھے۔ خدا کی پناہ، سنہ 2014 میں مودی اگر پتھر بھی چھوتے تھے تو وہ سونا ہو جاتا تھا۔ وہ لوگوں کے اکاؤنٹ میں 15 لاکھ روپے ڈالنے کی بات کرتے تھے اور ہر کوئی آنکھ بند کر کے ان پر یقین کرتا تھا۔ وہ ملک میں ہر ماہ دو کروڑ نوکریاں دینے کا اعلان کرتے تھے اور ہر نوجوان خوشی سے جھوم جھوم اٹھتا تھا۔ مودی اسمارٹ سٹی، بلیٹ ٹرین اور ہندوستان کو آسمان تک پہنچانے کے سپنے دکھاتے تھے اور ہندوستانی خواب کی دنیا میں جھوم جھوم اٹھتا تھا۔ چار برس بعد نہ کسی کو 15 لاکھ ملے، نہ نوجوانوں کا نوکریوں کا خواب پورا ہوا اور نہ ہی ملک میں کوئی چمک دمک پیدا ہوئی۔ اب عام ہندوستانی کو مودی کا اصل رنگ روپ نظر آ رہا ہے۔ مودی نے جو خواب دکھائے تھے وہ پورے نہ ہوئے، جو امیدیں جگائی تھیں وہ ناامیدیوں اور مایوسیوں میں تبدیل ہو چکی ہیں۔ لوگوں کو اب سمجھ میں آ رہا ہے کہ مودی ووٹ بٹورنے کے لیے جھوٹے وعدے کرتے ہیں اور کام کے نام پر وہ سرف سنگھ کا ایجنڈا نافذ کرتے ہیں۔ یعنی مودی اب ہیرو سے زیرو ہو چکے ہیں۔ اس لیے کرناٹک میں ’مودی کارڈ‘ کوڑی بھر بھی نہیں چلا۔

اس کے برخلاف کرناٹک انتخابی تشہیر کی جو سب سے خاص بات رہی وہ یہ تھی کہ کرناٹک کی سرزمین پر ایک بالکل نئے راہول گاندھی نے جنم لیا۔ سنہ 2018 کا راہول بھی سنہ 2014 کا راہول نہیں رہا۔ راہول گاندھی اب ایک معمر اور قدآور لیڈر بن چکے ہیں۔ وہ ایک شاندار مقرر ہو چکے ہیں۔ ان کی سیاسی سوجھ بوجھ سے عام ہندوستانی متاثر ہو رہا ہے۔ اب راہول گاندھی گھبراتے نہیں۔ بڑے سے بڑے سیاسی مسائل کا وہ کھل کر سامنا کرتے ہیں۔ اس کی تازہ ترین مثال راہول گاندھی کی بنگلورو میں 10 مئی کو ہونے والی پریس کانفرنس تھی۔ ایک دور تھا کہ راہول میڈیا سے گھبراتے تھے لیکن بنگلورو پریس کانفرنس میں جس خود اعتمادی کے ساتھ انھوں نے میڈیا کو ہینڈل کیا وہ دیکھتے بنتا تھا۔ گاندھی خاندان کے مخالفین برسوں سے سونیا گاندھی کے اٹلی میں پیدا ہونے کا راگ الاپتے چلے آ رہے ہیں۔ کسی حد تک یہ بات اس خاندان کی دْکھتی رَگ بن چکی تھی۔ بنگلورو پریس کانفرنس میں یہ سوال جان بوجھ کر راہول گاندھی کو شرمندہ کرنے کے لیے اٹھایا گیا۔ لیکن کانگریس صدر نے جس خوبصورتی سے اس سوال کا جواب دیا اس نے یہ مسئلہ ہمیشہ ہمیشہ کے لیے حل کر دیا۔ ذرا غور فرمائیے، راہول کس بے باک طریقے سے کہتے ہیں ’’ہاں میری ماں اٹلی میں پیدا ہوئیں۔ لیکن انھوں نے اس ملک کے لیے قربانیاں دی ہیں۔ اور میری ماں بہت ساری ہندوستانی ماؤں سے زیادہ ایک ہندوستانی ماں ہیں۔‘‘ اخبار نویس نہ صرف سکتے میں رہ گئے بلکہ اس جواب نے گاندھی خاندان کے دشمنوں کو لاجواب کر دیا اور یہ بھی طے کر دیا کہ اب راہول میڈیا سے نہیں بلکہ میڈیا کانگریس صدر سے سوال پوچھتے گھبرائے گا۔
دراصل مودی کے ملک کے سیاسی افق پر ابھرنے کے بعد جس ایک سیکولر اور لبرل لیڈر کی تلاش میں تھا کرناٹک انتخاب کے دوران وہ تلاش ختم ہو گئی۔ ملک کو راہل گاندھی کے روپ میں وہ لیڈر مل گیا جو سنگھ اور بی جے پی ہیرو نریندر مودی کے دانت کھٹے کر سکتا ہے۔ بلکہ کرناٹک میں راہل گاندھی کے آگے نریندر مودی پھیکے پڑ گئے اور راہول چمک گئے۔ مودی کو اپنی تقریروں پر بڑا ناز تھا۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ وہ ہاتھ اٹھا اٹھا کر لفظوں کا جادو جگا لیتے تھے۔ لیکن ان کی ہر تقریر جھوٹے وعدوں اور اپنے مخالفین کے خلاف بہتان کا پلندہ ہوتی تھیں۔ جب تک مودی کی ساکھ رہی ان کی تقریر کا سحر چلتا رہا۔ لیکن جیسے ہی مودی جھوٹے ثابت ہوئے اور وعدے کھوکھلے خواب رہ گئے ویسے ہی ان کی ساکھ ختم ہو گئی اور بس ان کی تقریروں کا سحر بھی ٹوٹ گیا۔
سنہ 2018 میں راہل گاندھی ایک بے داغ چہرہ ہیں۔ وہ ایک ایسے نوجوان قائد ہیں جو سچی و سادی باتیں کرنے والے سیاستداں ہیں۔ مودی صرف ریڈیو پر ’من کی بات‘ کرتے ہیں جب کہ راہول گاندھی کی ہر تقریر میں حرف حرف دل کی آواز سنائی پڑتی ہے۔ وہ صدق دل سے سنگھ اور بی جے پی کی مخالفت کرتے ہیں۔ آج ہندوستان میں ہزاروں کے مجمع میں کھڑے ہو کر یہ کہنے کی جرا?ت صرف راہول گاندھی میں ہی بچی ہے کہ اس ملک میں ’دو نظریوں کی لڑائی ہے، ایک سنگھ کا نظریہ اور دوسرا کانگریس کا سیکولر نظریہ‘۔ آج کے ہندوستان میں سیاست میں نظریاتی سطح پر اپنے حریف کو چیلنج کرنے کی جرأت راہول گاندھی کے علاوہ شاید ڈھونڈنے سے بھی نہیں ملے۔ اس دور میں سنگھ کا نام لے کر سنگھ کی مخالفت کی ہمت راہل جیسا بے باک لیڈر ہی کر سکتا ہے۔ اگر لیڈر جرأت مند نہ ہو تو پھر وہ لیڈر ہی کیسا! راہل گاندھی نے سنگھ اور بی جے پی کو نظریاتی طور پر چیلنج دے کر اپنی دادی اندرا گاندھی کی جرأت یاد دلا دی۔
الغرض، کرناٹک کے انتخابی نتائج کیا ہوں گے یہ تو پندرہ مئی کو ہی پتہ چلے گا۔ لیکن کرناٹک کے انتخابات میں راہل گاندھی نے مودی کے نہ صرف دانت کھٹے کر دیا بلکہ کرناٹک میں مودی جیسا اونٹ راہول گاندھی کے آگے پہاڑ کے نیچے آ گیا۔ اس طرح ہندوستان کو راہول گاندھی کے روپ میں وہ سیکولر اور لبرل لیڈر مل گیا جس کی تلاش ملک کو 2014 سے تھی۔ اب یہ طے ہے کہ سنہ 2019 کے لوک سبھا انتخابات میں سیکولر خیمے کے لیڈر کانگریس صدر راہول گاندھی ہی ہوں گے۔

TOPPOPULARRECENT