Thursday , December 14 2017
Home / سیاسیات / کرناٹک انتخابات سے قبل مسلم نوجوانوں پر دہشت گردی کے مقدمات ،بی جے پی کی سازش

کرناٹک انتخابات سے قبل مسلم نوجوانوں پر دہشت گردی کے مقدمات ،بی جے پی کی سازش

اکثریتی ووٹرس کو خوش کرنے اور سیکولر ووٹوں کی تقسیم کیلئے مسلم سیاسی جماعت کے وکلاء کی جانب سے مسلم نوجوانوں کو قانونی مدد کا منصوبہ
حیدرآباد۔25اکٹوبر (سیاست نیوز) کرناٹک اسمبلی انتخابات میں بھارتیہ جنتاپارٹی اپنی کامیابی کو یقینی بنانے کے لئے حیدرآباد یا کیرالا میں دہشت گردی کے سائے یا بڑے پیمانے پر آئی ایس آئی ایس کے نیٹ ورک کے انکشاف کے نام پر مسلم نوجوانوں کو گرفتار کرواتے ہوئے اکثریتی طبقہ میں خوف و دہشت پیدا کرنے کی کوشش کرے گی۔ ان مسلم نوجوانوں کی مدد کیلئے مسلم سیاسی جماعت کے وکلاء کی خدمات کا اعلان کرتے ہوئے مسلم اقلیتی ووٹوں کو سیکولر بنیادوں پر متحد ہونے سے روکتے ہوئے انہیںمذہبی خطوط پر منقسم کیا جائے گا۔بھارتیہ جنتا پارٹی ملک میں پیدا ہونے والے مسائل کو حب الوطنی اور قوم پرستی سے جوڑتے ہوئے یہ تاثر دے رہی ہے کہ جو لوگ بی جے پی کے موقف کی حمایت کر رہے ہیں وہ قوم پرست ہیں اور جو اس کی مخالفت کر رہے ہیں وہ دراصل مخالف ملک بات کر رہے ہیں ۔ انتخابات سے قبل ملک میں دہشت گردانہ کاروائی اور دہشت گردی کے الزام میں بے قصور مسلم نوجوانوں کو جیل میں نظر بند کرنا گذشتہ چند برسوں سے معمول کی بات ہوچکی ہے ۔ قومی صیانتی ایجنسی کے ذریعہ راسخ العقیدہ نظر آنے والے مسلم نوجوانوں کو گرفتار کرتے ہوئے انہیںملک میں سب سے زیادہ خطرناک تربیت یافتہ دہشت گرد کے طور پر پیش کرتے ہوئے انہیں ملک کے خلاف سازش جیسے مقدمات میں ماخوذ کیا جا تا ہے اور ا س مقدمہ کے فوری بعد حکومت ہند کی جانب سے بالواسطہ یہ اشارے دیئے جانے لگتے ہیں کہ قومی تحقیقاتی ایجنسی اور ملک میں چوکس چوکیدار کی حکمرانی کے سبب ملک کا اکثریتی طبقہ محفوظ رہا۔بھارتیہ جنتا پارٹی کے دور اقتدار میں گجرات کی جیلوں میں ملک کی کئی ریاستوں سے نوجوانوں کو سازش کے الزام میں ماخوذ کرتے ہوئے بند کیا گیا تھا اور جہاں کہیں ’صاحب‘ کو خود کے حالات خراب لگے وہاں صاحب کے احکام پر سہراب الدین‘ کوثر بی‘ عشرت جہاں کے قتل بھی کروائے گئے اور اس مقصد کیلئے سرکاری محکمہ جات کے استعمال سے صاحب بخوبی واقف ہیں۔اسی طرح انتخابات سے قبل مسلم نوجوانوں کی گرفتاریاں اور ان کو بیجا مقدمات میں پھنساتے ہوئے ان کی انتخابات تک قانونی مدد اور پھر ان سے بے اعتنائی کے گر سے قیادت بھی اچھی طرح واقف ہے۔ گجرات اور کرناٹک انتخابات بھارتیہ جنتا پارٹی کیلئے انتہائی اہمیت کے حامل ہیں لیکن بی جے پی کو اس بات کا بخوبی اندازہ ہے کہ جنوبی ہند کی ریاست کرناٹک میں موجود طبقاتی سیاسی نظام بھارتیہ جنتا پارٹی کیلئے مشکلات کا باعث بن سکتا ہے

اور کرناٹک میں جہاں کسانوں کا بڑا طبقہ ہے وہ مرکزی حکومت سے نالاں ہے اس بات سے بھی بی جے پی واقف ہے اسی لئے مجوزہ انتخابات سے قبل ہی ماحول کو گرمانے کی کوشش کی جانے لگی ہے اور اپنے درپردہ حلیفوں کو اس بات پر آمادہ کیا جا رہاہے کہ وہ کرناٹک میں اپنے امیدواروں کو میدان میں اتارنے کے لئے تیار رہیں جبکہ گذشتہ میں بنگلور ادارہ جات مقامی کے انتخابات کے دوران بھارتیہ جنتا پارٹی کی درپردہ حلیف کو بدترین شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا ۔ باوثوق ذرائع سے موصولہ اطلاعات کے مطابق کرناٹک میں بھارتیہ جنتا پارٹی کی درپردہ حلیف جماعت نے امیدوار تلاش کرنے شروع کر دیئے ہیں لیکن اس کے باوجود ان میں ایک انجان خوف برقرار ہے کیونکہ بہار میں انہیں’’ووٹ کٹوا‘‘ قرار دیتے ہوئے مسترد کردیا گیا تھا اور اترپردیش میں بھی یہی صورتحال کا سامنا کرنا پڑا تھا ۔ مہاراشٹر میں عوام نے دو ارکان اسمبلی کو منتخب کروایا تھا لیکن تین سال کے دوران ہونے والے ادارہ جات مقامی کے انتخابات میں مہاراشٹر کے عوام نے بھی مسترد کرتے ہوئے یہ ثابت کردیا کہ وہ بھی حقائق سے واقف ہو چکے ہیں اور کہا جا رہا ہے کہ ایک رکن اسمبلی خود بھی اپنے سیاسی مستقبل کے متعلق فکر مند ہو چکے ہیں کیونکہ ان کے اپنے حلقہ میں انہیں ووٹ کٹوا جماعت کے رکن اسمبلی کہا جانے لگا ہے جبکہ رکن اسمبلی کی حیثیت سے منتخب ہونے سے قبل ان کی قومی سطح پر شفاف شناخت ہوا کرتی تھی۔ کرناٹک اسمبلی انتخابات میں ووٹ کٹوا کے کردار کے متعلق کہا جا رہا ہے کہ سابق ریاست دکن حیدرآباد کے شہریوں کو ورغلانے او ر شہر حیدرآباد میں مقیم پڑوسی ریاستوں کے عوام کے ذریعہ جماعت کی تشہیر کے ذریعہ ووٹوں کو منقسم کروایاجائے گا لیکن اس سازش کو کامیاب ہونے نہ دینے کا کرناٹک کے سیکولر عوام نے تہیہ کرلیا ہے کیونکہ وہ ہمنا آباد میں نعرۂ بازی کے بعد نوجوانوں پر درج ہونے والے مقدمات کے نتائج سے اندازہ کرچکے ہیں کہ اگر ان کے نمائندے منتخب بھی ہوتے ہیں تو کیا صورتحال پیدا ہوگی اور کس طرح سے فرقہ واریت کو ہوا ملے گی۔گجرات انتخابات میں بھارتیہ جنتا پارٹی کے حق میں نتائج بہتر ہوں یا نہ ہوں ان کرناٹک کیلئے بی جے پی کی کوششیں یہ ثابت کر رہی ہیں کہ اقتدار رکھتے ہوئے بی جے پی اپنی طاقت کو مستحکم کرنے کے لئے ہر چال چلنے کی تیاری میں ہے۔

TOPPOPULARRECENT