Saturday , July 21 2018
Home / Top Stories / کرناٹک انتخابات میں کانگریس کو سب سے بڑی پارٹی کا موقف

کرناٹک انتخابات میں کانگریس کو سب سے بڑی پارٹی کا موقف

انڈیا ٹو ڈے کے سروے میں انکشاف ، بی جے پی کو دوسرا مقام ملے گا
حیدرآباد ۔ 14 ۔ اپریل : ( سیاست نیوز) : انڈیا ٹو ڈے کے سروے میں انکشاف ہوا ہے کہ کرناٹک کے انتخابات میں کانگریس سب سے بڑی پارٹی بن کر ابھرے گی جس کو 90 تا 101 اسمبلی حلقوں پر کامیابی حاصل ہوگی ۔ بی جے پی 78 تا 86 اسمبلی حلقوں پر کامیابی حاصل کرتے ہوئے دوسرے مقام پر رہے گی تاہم صرف 34 تا 43 اسمبلی حلقوں پر کامیابی حاصل کرنے والی جے ڈی ایس ’ کنگ میکر ‘ بن کر ابھرے گی ۔ حکومت کی تشکیل میں جے ڈی ایس کا اہم رول رہے گا ۔ چیف منسٹر امیدواروں میں سدارامیا عوام کے پسندیدہ امیدوار ہیں کرناٹک میں برسر اقتدار کانگریس دوسری مرتبہ حکومت تشکیل دینے کے جن عزائم کا اظہار کررہی ہے ۔ اتنا آسان نہ ہونے کا تازہ سروے میں پیش قیاسی ہوئی ہے ۔ کرناٹک میں حکومت تشکیل دینے کسی بھی جماعت کو 113 اسمبلی کی نشستوں پر کامیابی حاصل کرنا ضروری ہے ۔ انڈیا ٹو ڈے کے سروے میں کسی بھی جماعت کو میجک فیگر عبور کرتے ہوئے نہیں دیکھا گیا ہے ۔ سروے میں حکمران کانگریس کو 90 تا 101 اسمبلی حلقوں میں کامیابی حاصل ہونے اصل اپوزیشن بی جے پی کو 78 تا 86 اسمبلی نشستوں پر کامیابی حاصل ہونے اور 4 تا 7 حلقوں میں دیگر امیدوار کامیاب ہونے کی پیش قیاسی کی گئی ہے ۔ سروے میں انکشاف ہوا ہے کہ سابق وزیراعظم دیوے گوڑا کی قیادت والی جماعت جے ڈی ایس ، حکومت کی تشکیل میں کنگ میکر بن کر ابھرے گی ۔ جس کو 34 تا 43 اسمبلی حلقوں پر کامیابی حاصل ہوگی ۔ جے ڈی ایس کی مدد کے بغیر کانگریس ہو کہ بی جے پی کوئی بھی حکومت تشکیل دینے کا دعویٰ پیش نہیں کرسکتے ۔ چیف منسٹر امیدواروں میں موجودہ چیف منسٹر سدارامیا کو 33 فیصد ، یدرپا کو 26 فیصد اور کمارا سوامی کو 21 فیصد عوام نے پسند کیا ہے ۔ کانگریس پارٹی کو 37 فیصد بی جے پی کو 35 فیصد اور جے ڈی ایس کو 19 فیصد ووٹ ملنے کی پیش قیاسی کی گئی ۔ کانگریس حکومت کی کارکردگی کو 38 فیصد عوام نے پسند کیا ۔ 29 فیصد عوام نے مخالفت کی اور 31 فیصد عوام نے بہتر قرار دیا ۔ لنگایت طبقہ کے ووٹ اثر دار ہونے کا 52 فیصد عوام نے اعتراف کیا ہے جب کہ 28 فیصد عوام نے کوئی اثر نہ ہونے کی پیش قیاسی کی ہے ۔ ان صورتحال میں مسلم جماعتیں کرناٹک میں مقابلہ کرتے ہیں تو نہ صرف مسلم اور سیکولر ووٹ تقسیم ہوں گے ۔ بلکہ فرقہ پرست بی جے پی کو فائدہ ہوگا ۔ ان نازک حالت میں سیکولر ذہنیت کے حامل عوام کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے ووٹوں کے اہمیت کی قدر کریں اور سونچ سمجھ کر فیصلہ کریں ۔۔

TOPPOPULARRECENT