Tuesday , September 25 2018
Home / اداریہ / کرناٹک انتخابی نتائج

کرناٹک انتخابی نتائج

سکوتِ درد سے گھبرا رہا ہوں میں
تلاطم دامن ساحل سے آگے ہے
کرناٹک انتخابی نتائج
کرناٹک اسمبلی انتخابات کے نتائج غیرمتوقع نہیں ہیں۔ بی جے پی نے اپنے پیان انڈیا منصوبے کے ساتھ آگے بڑھنے میں کامیاب ہونے کا مظاہرہ جاری رکھا ہے۔ کانگریس کو ’پی پی پی‘ کا لقب دینے والے وزیراعظم نریندر مودی اپنی پارٹی کو کرناٹک میں قطعی اکثریت دلانے میں ناکام رہے۔ جنتا دل (ایس) کا ’بادشاہ گر‘ کے بجائے ’بادشاہ‘ ہونے کا خواب پورا ہوسکتا ہے۔ کرناٹک کی 224 رکنی اسمبلی کے منجملہ 222 حلقوں کیلئے ہوئی رائے دہی میں بی جے پی کو 104 ،کانگریس کو 78 ، جنتا دل (ایس) کو 37، دیگر کو 2 نشستیں ملی ہیں۔ کانگریس نے سدا رامیا زیرقیادت دوبارہ اقتدار حاصل کرنے کی جدوجہد کرتے ہوئے صرف 78 تک سمٹ کر رہ گئی۔ یہ کھلا راز ہے کہ کانگریس کا تمام بڑی ریاستوں سے تقریباً صفایا ہوچکا ہے۔ اسے صرف کرناٹک پر بھروسہ تھا اور وہ اس ریاست کے ذریعہ ہی آئندہ تین ریاستوں مدھیہ پردیش، راجستھان اور چھتیس گڑھ میں کامیابی کی جانب چھلانگ لگانے کا عزم کرچکی تھی لیکن بی جے پی نے اس کو پنجاب اور پوڈوچیری تک ہی محدود کردینے کی مہم چلائی اور وہ کامیاب دکھائی دے رہی ہے۔ اسی لئے کرناٹک میں اس نے اپنی ساری توانائی جھونک دی تھی تاکہ آئندہ سال 2019ء کے انتخابات میں بھی وہ ہی سرفہرست بن کر ابھرے۔ کرناٹک میں شکست سے نہ صرف کانگریس کے وقار کو دھکہ لگا ہے بلکہ مالی طور پر دیوالیہ کی شکار پارٹی کو کرناٹک جیسی اہم فنڈ فراہم کرنے والی ریاست سے محروم ہونا پڑا ہے۔ سال 2014ء سے متواتر زوال سے دوچار کانگریس نے راجستھان اور مدھیہ پردیش کے حالیہ ضمنی انتخابات میں بی جے پی سے نشستیں چھین لی تھیں لیکن یہی رفتار کرناٹک اسمبلی انتخابات میں دکھائی نہیں دی۔ پنجاب میں بی جے پی کو شکست دینے کے بعد کانگریس کو یہ یقین ہو چلا تھا کہ وہ بی جے پی کو کمزور کرنے میں کامیاب ہوگی لیکن ایسا نہیں ہوا۔ بی جے پی نے جس طرح کی ’’کانگریس مکت بھارت‘‘کا نعرہ دے کر انتخابی مہم چلائی ہے، اس میں اسے بتدریج کامیابی مل رہی ہے۔ وزیراعظم نریندر مودی کو لے کر بی جے پی نے کرناٹک کی انتخابی مہم کے دوران قوم پرستی کا ڈھول بجایا تھا لیکن اس ڈھول کی گونج میں کانگریس کو گم ہونے سے بچانے کے لئے صدر کانگریس راہول گاندھی اور ریاستی چیف منسٹر سدا رامیا نے موثر جواب تیار نہیں کیا۔ چیف منسٹر سدا رامیا اپنی انتخابی مہم کا سارا زور علاقائی مسائل پر لگایا۔ بی جے پی کی اس کامیابی میں لنگایت طبقہ کے ووٹ کام کرگئے ہیں۔ بی جے پی کے چیف منسٹر امیدوار یدی یورپا خود بھی لنگایت طبقہ کے رکن ہیں۔ اس لئے انتخابی مہم کے دوران بی جے پی نے لنگایت طبقہ کو جو کانگریس کا مضبوط ووٹ بینک سمجھا جاتا تھا، اپنی جانب کرلینے میں کامیابی حاصل کی۔ نتائج سے واضح ہوتا ہے کہ سکیولر ووٹوں کی تقسیم نے بی جے پی کو زبردست فائدہ پہونچایا ہے۔ جنتا دل (ایس) نے اپنی سکیولر امیج پر زور دیا تھا لیکن اب وہ بی جے پی کی بھی عزیز پارٹی بن رہی ہے اور کانگریس کی بھی پسندیدہ پارٹی بن چکی ہے، لیکن انتخابات کے لئے مہم چلانے کے دوران کانگریس کی قیادت نے جنتا دل (ایس) کو ’’بی جے پی کی بی ٹیم‘‘ قرار دیا تھا اور وزیراعظم مودی نے رائے دہندوں سے اپیل کی تھی کہ وہ جنتا دل (ایس) کو ووٹ دے کر اپنا ووٹ ضائع نہ کریں۔ ملک کی صورتِ حال کے پیش نظر تمام سکیولر سیاسی پارٹیاں کرناٹک میں کانگریس جنتا دل (ایس) اتحاد کی ترغیب دے رہی ہیں۔ اگر یہ دونوں ایک بہترین اتحادی گروپ بن کر تشکیل حکومت کا دعویٰ کرتی ہیں اور گورنر ان کو حکومت بنانے کے لئے مدعو کرتے ہیں تو جنتا دل (ایس) کا ’’بادشاہ گر‘‘ کے بجائے ’’بادشاہ‘‘ ہونے کا خواب پورا ہوگا۔ سیاسی گلستان میں پھول بھی کھلتے ہیں اور کانٹے بھی۔ انتخابی سفر میں بی جے پی کے حصہ میں خوشیاں ضرور ہیں مگر یہ ادھوری ثابت ہوں گی۔ کرناٹک کے نتائج نے بی جے پی کو سودے بازی کا ایک اور موقع دیا ہے تو وہ سب سے بڑی واحد پارٹی کے طور پر جنتا دل (ایس) کو قریب کرنے یا اس میں پھوٹ ڈال کر اس کے ارکان کا ہائی جیک کرنے میں کامیاب ہوگی۔ بہرحال سیاسی پارٹیاں انتخابی نتائج کے بعد پیدا ہونے والی صورتِ حال میں ایک جیسی خوراک لینے کی کوشش کرتی ہیں۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ ان تین پارٹیوں میں سے کس ایک پارٹی کے درمیان لکیر کھینچی جائے گی۔

TOPPOPULARRECENT