Tuesday , December 11 2018

کرناٹک قانون ساز کونسل پر تنقید بدبختانہ

کونسل کو تحلیل کرنے کے معاملہ پرسیاسی قائدین کا شدید ردعمل

کونسل کو تحلیل کرنے کے معاملہ پرسیاسی قائدین کا شدید ردعمل
گلبرگہ۔4؍جولائی: (سیاست ڈسٹرکٹ نیوز)قانون ساز کونسل کو تحلیل کرنے کی درخواست کرتے ہوئے اسمبلی جے ڈی ایس رکن ایم پی کرشنپا کے ذریعہ پیش کردہ نجی بل سے متعلق آج کونسل میں زبردست بحث ہوئی ، اور سیاسی جماعتوں کو بالائے طاق رکھ کر تمام اراکین نے اس کی مذمت کی اور بتایا کہ اس سے قانون ساز کونسل کی توہین ہوئی ہے۔ بحث کا آغاز کرتے ہوئے کانگریس رکن ایم ڈی لکشمی نارائن نے بتایاکہ اسمبلی میں اس طرح کی پرائیویٹ بل پیش ہونے سے کونسل کی توہین ہوئی ہے۔ ایسے میں اس معاملے میں بحث کی اجازت دینے انہوں نے کونسل چیرمین ڈی ایچ شنکر مورتی سے درخواست کی ۔ایک اور کانگریس رکن آر وی وینکٹیش نے بھی ان کی حمایت میں بتایاکہ ذاتی دشمنی چاہے کچھ بھی ہو اس معاملے پر کونسل کو تحلیل کرنے کی درخواست کرنا درست نہیں ہے، جس سے قانون ساز کونسل سے متعلق عوام میں غلط رائے پیدا ہورہی ہے۔ جے ڈی ایس رکن بسوراج ہوراٹی نے بھی ان کی حمایت کی اور بتایا کہ کونسل پر تنقید کرنا بدبختانہ ہے۔ پورے ملک میں قانون ساز کونسل کو احترام کی نظروں سے دیکھا جاتا ہے۔انہوںنے بھی اس معاملے پر بحث کی اجازت دینے کی درخواست کی ، مگر کونسل چیرمین نے وقفۂ سوالات کے بعد اس معاملے پر بحث کرانے کا تیقن دیا۔ اس مرحلے میں حکمران جماعت کی رکن موٹما نے جے ڈی ایس رکن کے ذریعہ پیش کردہ نجی بل پر شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے سوال کیا کہ کیا قانون ساز کونسل باز آباد کاری مرکز ہے؟۔

TOPPOPULARRECENT