Thursday , August 16 2018
Home / شہر کی خبریں / کرناٹک میں بی جے پی کی خطرناک چال ، غیر مقامی سیاسی جماعتوں سے مدد کا حصول

کرناٹک میں بی جے پی کی خطرناک چال ، غیر مقامی سیاسی جماعتوں سے مدد کا حصول

فرقہ واریت کو ہوا دینے کوشاں ، راست بیان بازی سے احتیاط ، دیگر جماعتوں کا استعمال
حیدرآباد۔ 21ڈسمبر(سیاست نیوز) کرناٹک اسمبلی انتخابات میں پارٹی کارکنو ں کو متحرک ہونے کے علاوہ جنوبی ہند ریاستوں کے ہندی بولنے والے قائدین کو کرناٹک میں انتخابات سے قبل عوام کے درمیان پہنچ کر ان کی رائے جاننے کے علاوہ انہیں بھارتیہ جنتا پارٹی کی سمت راغب کرنے کی مہم شروع کر دی گئی ہے ۔ بی جے پی نے ریاست کرناٹک میںکامیابی کے حصول کیلئے جو منصوبہ تیار کیا ہے اس کے مطابق جنوبی ہند میں دیکھے جانے والے انفارمیشن ٹکنالوجی کے فروغ کی مناسبت سے سوشل میڈیا پر انتخابی مہم شدت سے چلانے کا فیصلہ کیا گیا ہے ۔ جنوبی ہند کی ریاستو ںمیں سوشل میڈیا کا چلن اور معیاری استعمال دیکھتے ہوئے بھارتیہ جنتا پارٹی نے کرناٹک انتخابات کے دوران سوشل میڈیا کا بھر پور لیکن معیاری استعمال کرنے پر توجہ دینے کی اپنے آئی ٹی سیل کو ہدایات جاری کی ہیں۔ بتایاجاتاہے کہ پارٹی اعلی قیادت نے آئی ٹی سیل کو جاری کردہ ہدایات میں یہ واضح کیا ہے کہ وہ جنوبی ہند میں راست فرقہ وارانہ کشیدگی والے پیغامات کی ترسیل سے اجتناب کریں اور مقامی مسائل کے علاوہ موضوعات کی بنیاد پر ہی سوشل میڈیا پر گفتگو کی جائے۔ گجرات انتخابات میں کامیابی کے لئے وزیر اعظم کی جانب سے اورنگ زیب‘ مسجد یا مندر‘ داڑھی اور ٹوپی کے علاوہ دیگر امور کا تذکرہ کئے جانے کے بعد کرناٹک انتخابات میں بھی بھارتیہ جنتا پارٹی کی جانب سے اسی طرح کی انتخابی مہم کی توقع کی جا رہی تھی اور کہا جار ہا تھا کہ بھارتیہ جنتا پارٹی ان حالات میں ووٹوں کی تقسیم کی سیاست کے ذریعہ ہی کرناٹک میں بھی کامیابی حاصل کرنے کا منصوبہ تیار کئے ہوئے ہے اسی لئے غیر مقامی سیاسی جماعتوں کے قائدین کی مدد کرتے ہوئے انہیں امیدوار بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ باوثوق ذرائع سے موصولہ اطلاعات کے مطابق ریاست کرناٹک میں بھارتیہ جنتا پارٹی کی جانب سے فرقہ وارانہ خطوط پر ووٹ کی تقسیم کی کوشش پہلے نہیں کی جائے گی بلکہ کسی مسلم سیاسی جماعت سے مسلمانوں کے ووٹ مسلمانوں کے لئے کی اپیل کرواتے ہوئے اس کے جواب میں فرقہ واریت کو ہوا دی جائے گی۔ بھارتیہ جنتا پارٹی کی حکمت عملی تیار کرنے والوں کا کہناہے کہ 2019میں بھارتیہ جنتا پارٹی کو کامیابی حاصل کرنے کیلئے ضروری ہے کہ وہ اپنی دونوں طرح کی شبیہہ کو باقی رکھے اور وزیر اعظم کو مشورہ دیا جا رہا ہے کہ وہ راست اس طرح کی بیان بازی میں خود ملوث ہونے کے بجائے پہلے کسی درپردہ اپنے سے خود پر حملہ کروائے اور اس کا جواب دیں۔ بتایاجاتاہے کہ کرناٹک انتخابات کے دوران جو حکمت عملی بھارتیہ جنتا پارٹی کی جانب سے اختیار کی جا رہی ہے اس کے مطابق کرناٹک کے پڑوسی ریاستوں سے جاری پانی کی تقسیم کے تنازعات کے علاوہ کسانوں کے مسائل اور شیر میسور ٹیپو سلطان ؒ کو انتخابی موضوع بنایا جائے گا اور اس انتخابی حکمت عملی پر مخالف بی جے پی قائدین کو تنقید کا موقع فراہم کرتے ہوئے بھارتیہ جنتا پارٹی جوابی وار کے نام پر زہر افشانی کو ہوا دے گی۔ کرناٹک اسمبلی انتخابات کیلئے بھارتیہ جنتا پارٹی کے علاوہ برسراقتدار کانگریس کی جانب سے بھی انتخابی مہم کا مقامی سطح پر آغاز کردیا گیا ہے لیکن بھارتیہ جنتا پارٹی نے ’’پریورتن ریالی ‘‘ کے نام پر پارٹی صدر اور مرکزی و زراء کو بھی میدان میں اتار دیا ہے جبکہ کانگریس نے ابھی تک کسی مرکزی قائد کو ریاست کی سیاست میں سرگرم نہیں کیا ہے ۔ بتایاجاتاہے کہ کانگریس نے فیصلہ کیا ہے کہ کرناٹک انتخابات سے قبل چلائی جانے والی انتخابی مہم کے آغاز سے پہلے پارٹی صدر راہول گاندھی کے دورۂ کرناٹک کو یقینی بناتے ہوئے ان کی تہنیتی تقریب منعقد کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ راہول گاندھی سے کرناٹک کے کانگریس قائدین کو کافی توقعات وابستہ ہیں۔ گجرات میں کانگریس کی نشستوں میں ہونے والے اضافہ سے جو صورتحال پیدا ہوئی ہے اس کا فائدہ کرناٹک میں کانگریس کو ہوگا لیکن اگر بھارتیہ جنتا پارٹی کی سیکولر اور مسلم ووٹوں کی تقسیم کی حکمت عملی کامیاب ہوجاتی ہے تو ایسی صورت میں کانگریس کو نقصان کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے ۔ ریاست کرناٹک میں بھارتیہ جنتا پارٹی کو تنہاء اکثریت حاصل کرنے کے کوئی امکان نظر نہیں آر ہے ہیں لیکن اب جو صورتحال ہے اس صورتحال میں بھارتیہ جنتا پارٹی اور کانگریس دونوں سیاسی جماعتیں ہی جنتا دل (سیکولر) پر انحصار کئے ہوئے ہیں اور جنتادل کے متعلق خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں لیکن دونوں سیاسی جماعتوں کے قائدین یہ نہیں کہہ سکتے ہیں کہ جنتا دل کس سیاسی جماعت کی تائید کرے گی کیونکہ موجودہ چیف منسٹر کرناٹک مسٹر سدا رامیا کا تعلق جنتادل (سیکولر) سے رہا ہے اور اگر کانگریس کو اکثریت حاصل نہیںہوتی ہے تو ایسی صورت میں ان کے تعلقات جنتادل کے سرکردہ قائدین سے ہیں اسی لئے وہ تائیدحاصل کرنے میں کامیاب ہو سکتے ہیں تاہم اس بات سے بھی انکار نہیں کیا جا سکتا کہ ریاست کرناٹک میں جنتادل (سیکولر) اور بھارتیہ جنتا پارٹی نے اتحاد کرتے ہوئے جنتادل(سیکولر) کی قیادت میں حکومت تشکیل دی تھی۔

TOPPOPULARRECENT