Tuesday , April 24 2018
Home / Top Stories / کرناٹک میں بی جے پی کی مددکا نیا طریقہ

کرناٹک میں بی جے پی کی مددکا نیا طریقہ

’’کام وہی انداز نیا‘‘
کرناٹک میں بی جے پی کی مددکا نیا طریقہ
جنتادل سیکولر کی تائید سیکولر ووٹوں کی تقسیم کی سازش ، کے سی آر اور حلیف مسلم جماعت بے نقاب

حیدرآباد 16 اپریل (سیاست نیوز) ’کام وہی انداز نیا‘ کرناٹک میں سیکولر ووٹوں کی تقسیم کیلئے تلنگانہ کی برسر اقتدار ٹی آر ایس اور اس کی حلیف مقامی مسلم جماعت نے نیا طریقہ اختیار کیا ہے تاکہ بی جے پی کی مددکا مقصد پورا ہوجائے، ساتھ ہی عوام کو ان پر کوئی شبہ نہ ہو۔ گزشتہ ایک ہفتہ کے دوران اچانک سیاسی تبدیلیوں کے دوران کے سی آر نے بنگلور پہنچ کر کرناٹک انتخابات میں جنتا دل سیکولر کی تائید کا اعلان کیا۔ اتنا ہی نہیں کرناٹک میں بسنے والے تلگو عوام سے اپیل کی کہ وہ جنتا دل سیکولر کے حق میں ووٹ کا استعمال کریں۔ ضرورت پڑنے پر کے سی آر نے انتخابی مہم میں حصہ لینے پر آمادگی ظاہر کی ۔ کے سی آر کی بی جے پی کے حق میں ہمدردی کے اس نئے انداز سے عوام ابھی ابھر نہیں پائے کہ حیدرآباد کی مسلم جماعت نے کے سی آر کے نقش قدم پر چلتے ہوئے جنتا دل سیکولر کی تائید کا اعلان کیا۔ کے سی آر کی طرح مقامی جماعت کے صدر نے بھی ضرورت پڑنے پر انتخابی مہم میں حصہ لینے کی بات کہی۔ کے سی آر کو تلنگانہ میں اپنی حکومت بچانے بی جے پی کی تائید ضروری ہے جس کیلئے انہوں نے کرناٹک میں جنتا دل سیکولر کی تائید کرکے بالواسطہ بی جے پی کے حق میں فیصلہ کیا تاکہ سیکولر ووٹ تقسیم ہوں اور مودی ۔ امیت شاہ منصوبہ کو کامیابی ملے۔ شہر کی مسلم جماعت نے ابتداء میں 50 نشستوں پر امیدوار کھڑا کرنے کا اعلان کیا اور گلبرگہ سمیت بعض حلقوں کے امیدواروں کے ناموں کو قطعیت دیدی گئی۔ کرناٹک کے مسلمانوں کی ناراضگی اور ملک بھر میں سیکولر ووٹوں کی تقسیم کے ذریعہ بی جے پی کو فائدہ پہنچانے بدنامی کے داغ سے بچنے نیا حربہ استعمال کیا۔ راست امیدوار کھڑا کرنے کی بجائے جنتا دل سیکولر کی تائید اور اس کے حق میں مہم چلانے کا فیصلہ کیا گیا ہے ۔ جنتا دل سیکولر صدر ایچ ڈی کمار سوامی نے یہ کہتے ہوئے مسلم جماعت کو بے نقاب کردیا کہ کے سی آر نے مجلس کو جنتا دل سیکولر کی تائید کیلئے راضی کیا ہے۔ دونوں پارٹیوں کی جنتادل سیکولر کی تائید سے واضح ہوگیا کہ علحدہ مقابلہ کی بجائے مسلم اکثریتی علاقوں میں شدت کے ساتھ کمار سوامی کے حق میں مہم چلائی جائیگی تاکہ کانگریس کا ووٹ بینک متاثر ہو۔ مقصد تو ووٹوں کی تقسیم ہے لیکن اختیار کردہ طریقہ کار عوام کو گمراہ کرنے ہے ۔ کرناٹک کے رائے دہندے باشعور ہیں اور وہ ٹی آر ایس اور اس کی حلیف مسلم جماعت کے سیاسی ہتھکنڈوں کو کامیاب ہونے نہیں دیں گے ۔ ملک میں تیسرے محاذ کے قیام کے نام پر بی جے پی سے آنکھ مچولی کرنے والے کے سی آر اچانک بی جے پی کے حق میں نرم پڑگئے جس کی کئی مثالیں ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ایسی پارٹی کی تائید کی جارہی ہے جس کا وجود کرناٹک میں مخصوص علاقوں تک ہے۔ موجودہ اسمبلی میں جنتا دل سیکولر ارکان کی تعداد صرف 29 ہے جبکہ بی جے پی ارکان 43 ہیں۔ 225 رکنی کرناٹک اسمبلی میں کانگریس 122 نشستوں کے ساتھ حکمرانی کر رہی ہے ۔ گزشتہ دنوں انڈیا ٹوڈے سروے میں کانگریس کو واحد بڑی جماعت کے موقف کی پیش قیاسی کی گئی اور بی جے پی کا موقف گزشتہ کے مقابلہ بہتر ہونے کا دعویٰ کیا گیا ۔ اگر سیکولر ووٹ تقسیم ہوتے ہیں تو لازما بی جے پی کو فائدہ ہوگا ۔ حکومت کی تشکیل کیلئے 113 نشستوں کی ضرورت ہے اور 29 نشستوں کے ساتھ جنتادل سیکولر کا 113 نشستوں تک پہنچنا ناممکن ہے۔ اگر معلق اسمبلی تشکیل پاتی ہے تو پھر ایک مرتبہ بی جے پی اور جنتا دل سیکولر اتحاد کے ذریعہ مخلوط حکومت تشکیل دیں گے جس کا تجربہ 2006 میں کیا جا چکا ہے۔ ٹی آر ایس اور حیدرآباد کی مسلم جماعت نے اپنے فیصلہ کے ذریعہ یقینی طور پر مخالف کانگریس ووٹ متحد کرنے کی کوشش کی ہے۔ بظاہر یہ تاثر دیا جارہا ہے کہ مقامی جماعت کرناٹک انتخابات میں حصہ نہیں لے رہی ہے لیکن تائید اور مہم کے ذریعہ بی جے پی کے مقاصد کی تکمیل ہوگی۔ ایچ ڈی کمار سوامی کے سیکولر ہونے پر شبہات برقرار ہیں کیونکہ 2006 میں وہ بی جے پی کی تائید سے ایک سال تک چیف منسٹر کے عہدہ پر فائز رہے اور پھر یدی یورپا قیادت میں بی جے پی حکومت کی تائید کی ۔2004 ء میں مخلوط اسمبلی کی تشکیل پر جنتا دل سیکولر نے کانگریس کی تائید کی لیکن 2 سال بعد 42 ارکان کے ساتھ دھرم سنگھ کی تائید واپس لے لی اور بی جے پی سے ہاتھ ملا لیا تھا ۔ کمار سوامی کا شمار سیکولر سے زیادہ موقع پرست سیاستداں کی حیثیت سے ہوتا ہے۔ خود کو سیکولر قرار دینے والے کے سی آر اور حلیف مقامی جماعت بی جے پی سے قربت کا ریکارڈ رکھنے والی جماعت کی تائید کو کس طرح حق بجانب قرار دیں گے۔ دیکھنا یہ ہے کہ کرناٹک کے عوام سیکولر ووٹوں کی تقسیم کی نئی چالوں کو کسطرح ناکام بنائیں گے۔

TOPPOPULARRECENT