Wednesday , November 21 2018
Home / سیاسیات / کرناٹک میں سدارامیا وزارت اعلیٰ کے مضبوط امیدوار

کرناٹک میں سدارامیا وزارت اعلیٰ کے مضبوط امیدوار

کانگریس 2013 ء اسمبلی الیکشن کے مقابل بہتر مظاہرہ کرے گی، عوام میں مودی لہر کا کوئی اثر نہیں، دنیش گنڈورائو کا دعوی
بنگلورو۔9 اپریل (سیاست ڈاٹ کام) کارگزار صدر کرناٹک پی سی سی دنیش گنڈو رائو نے آج کہا کہ انہیں 12 مئی کے ریاستی اسمبلی چنائو میں کانگریس کے اقتدار پر واپسی کے تعلق سے پورا اعتماد ہے۔ موجودہ لیڈر سدارامیا وزارت اعلی کے عہدے کے لیے نمایاں دعویدار رہیں گے۔ انہوں نے دعوی کیا کہ سدا رامیا حکومت کے خلاف عوام میں کوئی غم و غصہ نہیں اور انہوں نے بی جے پی پر نکتہ چینی میں کہا کہ اس کے صدر امیت شاہ برسر اقتدار پارٹی کے لیے ’’نمایاں مہم چلانے والے لیڈر‘‘ بن چکے ہیں۔ انہوں نے وزیراعظم نریندر مودی کی کرناٹک کی انتخابی مہم سے غیر حاضری کے تعلق سے سوالات بھی اٹھائے۔ گنڈورائو نے نیوز ایجنسی پی ٹی آئی کو بتایا کہ کانگریس یہ الیکشن چیف منسٹر کی قیادت میں لڑ رہی ہے جس کا باضابطہ اظہار کیا جاچکا ہے۔ پوری انتخابی مہم انہی کی قیادت میں چلائی جارہی ہے۔ وہی اس الیکشن میں کرناٹک کانگریس کی طرف سے نمایاں چہرہ ہیں اور ہماری ٹیم کے کیپٹن بھی وہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ چیف منسٹر کے تعلق سے رسمی فیصلہ الیکشن کے بعد کیا جائے گا۔ ہماری جیت کی صورت میں سی ایل پی کی میٹنگ ہوگی اور اس تعلق سے فیصلہ کیا جائے گا۔ لیکن سدارامیا ہماری ٹیم کے کپتان ہیں لہٰذا ہماری جیت کے قوی امکانات ہیں۔ تاہم گنڈورائو نے اس سوال پر جواب نہیں دیا کہ آیا کانگریس کی طرف سے وزارت اعلی امیدوار کا اعلان نہیں کرنا اندرون پارٹی خلفشار یا جھگڑوں کو ٹالنے کی کوشش تو نہیں؟ کیوں کہ صدر کے پی سی سی جی پرمیشور کو بھی اعلی ذمہ داری کے لیے طاقتور دعویدار سمجھا جارہا ہے۔ اگرچہ پارٹی نے چیف منسٹر کا کوئی امیدوار نہیں بنایا ہے لیکن ظاہر طور پر سدا رامیا کو ہی اس ذمہ داری کے لیے مناسب و موزوں لیڈر مناجارہا ہے۔ گنڈو رائو نے کہا کہ انہیں پورا اعتماد ہے کہ کانگریس کا مظاہرہ 2013ء کے اسمبلی چنائو سے کہیں بہتر ہوگا جب پارٹی نے 224 نشستوں کے منجملہ 122 جیتے تھے۔ ’’میرے خیال میں ہم گزشتہ مرتبہ کے مقابل بہتر مظاہرہ پیش کریں گے کیوں کہ گزشتہ مرتبہ کا الیکشن مخالف بی جے پی یا بی جے پی کے خلاف منفی رجحان پر مبنی تھا۔ اس بار کا الیکشن عوام نہ صرف بی جے پی سے ناخوش ہیں بلکہ وہ کرناٹک میں کانگریس سے مطمئن ہیں‘‘۔ انہوں نے دعوی کیا کہ مخالف حکومت کوئی لہر نہیں ہے بلکہ موافق حکمرانی احساسات پائے جاتے ہیں۔ ہم یقینی بنائیں گے کہ مستحق لوگوں کو پارٹی ٹکٹ ملے، اگر ہم یہ کام درستگی سے کرلیں تو میں سمجھتا ہوں پارٹی کو کوئی مسئلہ پیش نہیں آئے گا۔ جب یہ نشاندہی کی گئی کہ 1985ء کے بعد ریاست میں کوئی بھی پارٹی متواتر اقتدار برقرار نہیں رکھ پائی ہے، گنڈورائو نے کہا کہ وہ اندرون پارٹی رسہ کشی یا ناراضگی جیسی وجوہات کے سبب اقتدار سے قاصر رہے ہیں۔ تاہم اس مرتبہ ایسا کچھ نہیں ہے۔ ہم نے نہایت مستحکم اور اچھی حکومت فراہم کی ہے اور ہمارے وعدوں کی تکمیل بھی کی ہے جس کے فوائد عوام تک پہنچے۔ انہوں نے مودی لہر کو خارج از امکان قرار دیتے ہوئے کہا کہ مودی سے یہاں کچھ فرق پڑنے والا نہیں۔ کیوں کہ عوام کرناٹک کی موجودہ حکومت کی کارکردگی سے پوری طرح مطمئن ہیں۔

TOPPOPULARRECENT