Monday , September 24 2018
Home / اضلاع کی خبریں / کرناٹک میں لاٹری گھپلے کی شدت سے تحقیقات

کرناٹک میں لاٹری گھپلے کی شدت سے تحقیقات

بنگلورو۔25؍مئی(سیاست ڈسٹرکٹ نیوز) ایک عددی لاٹری کے گھپلے میں ملوث پولیس افسران پر سخت کارروائی کرنے اپوزیشن پارٹیوں کے مطالبے کو منظور کرتے ہوئے وزیراعلیٰ سدرامیا نے اعلان کیا ہے کہ اس گھپلے میں شامل کسی بھی افسر کو بخشا نہیں جائے گا۔ دہلی میں انہوںنے کہا کہ اس گھپلے کی ابتدائی رپورٹ حکومت کو ملنے کے بعد اس میں ملوث افسران پر کارر

بنگلورو۔25؍مئی(سیاست ڈسٹرکٹ نیوز) ایک عددی لاٹری کے گھپلے میں ملوث پولیس افسران پر سخت کارروائی کرنے اپوزیشن پارٹیوں کے مطالبے کو منظور کرتے ہوئے وزیراعلیٰ سدرامیا نے اعلان کیا ہے کہ اس گھپلے میں شامل کسی بھی افسر کو بخشا نہیں جائے گا۔ دہلی میں انہوںنے کہا کہ اس گھپلے کی ابتدائی رپورٹ حکومت کو ملنے کے بعد اس میں ملوث افسران پر کارروائی کی شروعات کردی جائے گی۔ سدرامیا نے کہاکہ لاٹری گھپلے میں پولیس افسران کے ملوث ہونے کی خبر انہوںنے میڈیا کے ذریعہ ہی معلوم کی ہے۔ حالانکہ ریاستی حکومت نے کافی عرصہ پہلے ہی ایک عددی لاٹری پر پابندی عائد کردی ہے، اس کے باوجود بھی مٹھی بھر پولیس افسران کی سرپرستی میں اگر کوئی لاٹری کی تجارت چلا رہا تھا تو اس میں ملوث افسران کو بخشنے کا سوال ہی نہیں اٹھتا۔وزیر اعلیٰ نے کہاکہ آئی جی پی ، اے ڈی جی پی ، وظیفہ یاب افسران، ایس پی وغیرہ کی طرف سے اس گھپلے میں جو بھی رول ادا کیا گیا ہے، حکومت اس کی مکمل جانچ کرائے گی، کسی بھی حال میں اس معاملے میں ملوث افسران کو بچانے کا سوال ہی نہیں اٹھتا۔ اس دوران اس گھپلے میں مبینہ طور پر ملوث اڈیشنل کمشنر آف پولیس الوک کمار کے تبادلے کی تیاری ریاستی حکومت کی طرف سے شروع کی جاچکی ہے۔ سی آئی ڈی کی تحقیقاتی ٹیم نے اس معاملے میں پوچھ تاچھ کیلئے الوک کمار کو طلب کرتے ہوئے نوٹس بھی جاری کیا ہے۔ بتایاجاتاہے کہ اپوزیشن پارٹیوں کے مطالبے کو منظور کرتے ہوئے سدرامیا کی طرف سے اس کیس میں ملوث آئی پی ایس افسران پر مقدمہ چلانے کی بھی اجازت دے سکتے ہیں۔ الوک کمار کی طرف سے پاری راجن کے ساتھ نہ صرف بات چیت کا معاملہ سامنے آیا ہے، بلکہ یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ سوشیل میڈیا نیٹ ورکنگ سائٹوں پر انہوںنے کھل کر پاری راجن کا دفاع کیا ہے۔ اسی لئے وزیر اعلیٰ نے اس معاملے کو کافی سنجیدگی سے لیتے ہوئے الوک کمار سمیت دیگر افسران پر کارروائی کے بعد اس معاملے کی تحقیقات کو شدت سے آگے بڑھانے کا فیصلہ کیا ہے۔

TOPPOPULARRECENT