Saturday , December 16 2017
Home / Top Stories / کرناٹک میں مسلم رائے دہندوں کا اتحاد فیصلہ کن

کرناٹک میں مسلم رائے دہندوں کا اتحاد فیصلہ کن

بی جے پی کی سیکولر ووٹوں کو منقسم کرنے کی سازش کے جواب میں کانگریس کی ماہرانہ سیاسی پالیسی
حیدرآباد۔ 26اکٹوبر (سیا ست نیوز) ریاست کرناٹک میں موجود 12.5 فیصد مسلمانوں کے ووٹ کو متحد رکھنے کیلئے کانگریس کی جانب سے اختیار کردہ حکمت عملی کو سیاسی مبصرین ماہرانہ سیاسی حکمت عملی قرار دے رہے ہیں اور کہا جا رہا ہے کہ کرناٹک میں برسراقتدار کانگریس کی جانب سے بھارتیہ جنتا پارٹی کو اسی کی پالیسی کے ذریعہ نشانہ بناتے ہوئے کامیاب ہونے سے روکنے کی کوشش کی جا رہی ہے ۔ بھارتیہ جنتا پارٹی نے اترپردیش اور بہارمیں مسلم ووٹو ں کو منقسم کرنے کی کوشش کی اور اس میں بڑی حد تک کامیابی بھی حاصل ہوئی لیکن کرناٹک میں سیکولر طاقتیں اس حکمت عملی کو اختیار کرنے میں بڑی حد تک کامیاب ہوتی جا رہی ہیں اور بھارتیہ جنتا پارٹی کرناٹک کے مسلم رائے دہندوں کو منقسم کرتے ہوئے اکثریتی طبقہ کے رائے دہندوں کو آر ایس ایس کے ذریعہ متحد کرنے کی کوشش میں مصروف ہے اور اب تک جن طبقات کو قریب کرنے سے گریز کیا جاتا تھا ان طبقات سے تعلق رکھنے والے سیاسی قائدین کو قریب کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے ۔ آر ایس ایس کی جانب سے اختیار کردہ حکمت عملی کے مطابق بھارتیہ جنتا پارٹی کرناٹک میں موجود 18 فیصد شیڈولڈ کاسٹ کے ساتھ 9.8 فیصد لنگایت اور 8.16 فیصد وکا لیگا طبقہ سے تعلق رکھنے والے رائے دہندوں پر توجہ مرکوز کئے ہوئے ہے اور ساتھ ہی اس بات کی کوشش کی جارہی ہے کہ 12.5 مسلم آبادی ہے انہیں منقسم کرنے کیلئے 55تا60نشستو ں پر مخالف کانگریس مسلم امیدواروں کو میدان میں اتارنے کی حکمت عملی تیار کی گئی ہے۔ بھارتیہ جنتا پارٹی نے جو حکمت عملی تیار کی ہے اس کے مطابق بی جے پی لنگایت اور وکا لیگا طبقات کو قریب کرتے ہوئے 18فیصد آبادی کو متحد کرنے کی کوشش کررہی ہے جبکہ بھارتیہ جنتا پارٹی کا خیال ہے کہ شیڈولڈ کاسٹ رائے دہندے بہ آسانی بی جے پی کے حق میں 50 فیصد تک رائے دہی کریں گے۔

بھارتیہ جنتا پارٹی نے ایس ۔ ایم ۔ کرشنا اور سابق چیف منسٹر مسٹر بی ۔ایس یدی یورپا کے ذریعہ لنگایت اور وکالیگا کو متحد کرنے کا فیصلہ کیاہے اور ضرورت پڑنے پر ایچ ڈی دیوے گوڑا کی مدد بھی حاصل کرنے کی کوشش کی جائے گی کیونکہ دیوے گوڑا کا تعلق بھی وکالیگا طبقہ سے ہے ۔ کانگریس کے موجودہ چیف منسٹر سدا رامیا جن کا تعلق کوروبا گوڑا طبقہ سے ہے لیکن انہوں نے جاریہ سال کے ابتداء میں طبقہ واری اساس پر سروے کرتے ہوئے کرناٹک کے بیشتر طبقات کو اپنا ہمنوا بنا لیا ہے اور انہوں نے برہمن ‘ لنگایت ‘ وکالیگا اور دیگر طبقات کے اعداد و شمارکے علاوہ مسلم ‘ ایس ۔

سی‘ ایس ۔ٹی اور کوروبا اوڑا کے طبقات کے فیصد اور ان کے لئے اسکیمات کے اعلان کے بعد تمام طبقات میں کانگریس حکومت کی تائید میں لہر جاری ہے لیکن بھارتیہ جنتا پارٹی نے ان طبقات کو اپنے سے قریب کرنے کی جو حکمت عملی تیار کی ہے اس سے زیادہ خطرناک کرناٹک میں مسلمانوں کو منقسم کرنے کی حکمت ثابت ہو سکتی ہے کیونکہ 224 نشست پر مشتمل کرناٹک اسمبلی انتخابات میں 55تا60مخالف کانگریس امیدوار اتارے جاتے ہیں تو ایسی صورت میں اس کا راست فائدہ بھارتیہ جنتا پارٹی کو ہوگااس کے باوجودبھارتیہ جنتا پارٹی نے نتیش کمار کی جنتا دل(یونائیٹڈ)کو اپنی حلیف بنانے کے بعد بھی کرناٹک میں اثر رکھنے والی ایچ ڈی دیوے گوڑا کی جنتادل (سیکولر) سے اتحاد کرنے کی حکمت عملی تیار کی ہے اور اس حکمت عملی کو عملی جامہ پہنانے کیلئے بھارتیہ جنتا پارٹی اعلی قیادت سرگرم کوشش کررہی ہے اوراس بات کی بھی کوشش کی جا رہی ہے کہ اترپردیش اور بہار کی طرح بیرونی سیاسی جماعتوں کو فنڈس کی فراہمی کے ذریعہ اپنے امیدواروں کو میدان میں اتارنے کے لئے تیار کیا جائے ۔ بتایا جاتاہے کہ 25تا30 ایسے امیدوار میدان میں اتارنے کی کوشش کی جائے گی جو کہ مسلم سیاسی جماعت کے پلیٹ فارم سے سیکولر ووٹ کو منقسم کریں گے جبکہ 30تا35مسلم امیدوار جنتادل (سیکولر) کے پلیٹ فارم سے میدان میں اتارے جائیں گے تاکہ مسلمانوں کے ساتھ ساتھ اکثریتی طبقہ کے سیکولر ووٹوں کو منقسم کیا جاسکے۔

اعداد و شمار کے مطابق کرناٹک کی جملہ آبادی 6کروڑ 10لاکھ ریکارڈ کی جا رہی ہے جس میں 1کروڑ 8لاکھ شیڈول کاسٹ ہیں جن کا جملہ فیصد 18 ہے جس میں 180 ذیلی طبقات شامل ہیں۔اسی طرح 75لاکھ مسلم آبادی ہے جو 12.5فیصد ہے۔لنگایت میں 59لاکھ کی آبادی ریکارڈ کی گئی ہے جو کہ 9.8فیصد ہیں اور ان میں 90ذیلی طبقات ہیں۔وکالیگا کی تعداد 49لاکھ ہے جو 8.16 فیصد ہیں اور ان میں 10ذیلی طبقات شامل ہیں۔کروبا کی تعداد 43لاکھ ہے جو کہ 7.1 فیصد ریکارڈ کئے گئے ہیں۔ایس ۔ٹی طبقہ جس میں 42لاکھ آبادی ریکارڈ کی گئی ہے اور 7 فیصد ہیں ان میں 105 ذیلی طبقات ہیں۔کرناٹک میں برہمن سماج کی تعداد 13لاکھ ہے جو کہ 2.1 فیصد ہے۔اکثریتی طبقہ کے رائے دہندوں کو متحد کرنے کے علاوہ اقلیتی رائے دہندوں کو منقسم کرنے کی بھارتیہ جنتا پارٹی کی حکمت عملی کامیاب ہوتی ہے تو ایسی صورت میں کرناٹک میں بی جے پی کو اقتدار حاصل ہو سکتا ہے اور اگر مسلم ووٹ تقسیم نہیں ہوتے ہیں تو ایسی صورت میں کانگریس کرناٹک میں سیکولر حکومت کی برقراری کو یقینی بنا سکتی ہے۔

TOPPOPULARRECENT