Wednesday , October 17 2018
Home / Top Stories / کرناٹک میں مسلم وزراء کی شکست کیلئے بی جے پی اور جنتا دل سیکولر کی سازش

کرناٹک میں مسلم وزراء کی شکست کیلئے بی جے پی اور جنتا دل سیکولر کی سازش

روشن بیگ اور تنویر سیٹھ نشانہ پر، مسلم ووٹ کی تقسیم روکنے غیر سیاسی تنظیمیں متحرک،سازش کو بے نقاب کرنے سوشیل میڈیا کا سہارا

حیدرآباد ۔ 18 ۔ اپریل (سیاست نیوز) کرناٹک کے آئندہ ماہ ہونے والے اسمبلی انتخابات کی سرگرمیاں شدت اختیار کرچکی ہیں تو دوسری طرف بی جے پی اور جنتا دل سیکولر نے کانگریس کو اقتدار سے روکنے کیلئے پوری طاقت جھونک دی ہے۔ اقتدار نہ سہی مخلوط حکومت کی تشکیل کیلئے سوشیل میڈیا ، الیکٹرانک میڈیا اور اخبارات کے ذریعہ عوام کو یہ تاثر دینے کی کوشش کی جارہی ہے کہ کرناٹک کا مستقبل مخلوط حکومت ہے۔ دونوں پارٹیوں کے آئی ٹی سیل سرگرم ہوچکے ہیں اور اس مہم میں سٹہ بازوں کو بھی شامل کرتے ہوئے کانگریس کے امکانات کو نقصان پہنچانے کی سازش ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ جنتا دل سیکولر انتخابات کے بعد بادشاہ گر کا موقف حاصل کرنا چاہتی ہے اور بی جے پی واحد بڑی پارٹی کے طور پر ابھرے گی۔ انڈیا ٹوڈے اور دیگر میڈیا گھرانوں کے اوپنین پولس کے نتائج سے بی جے پی اور جنتا دل سیکولر بوکھلاہٹ کا شکار ہیں۔ کرناٹک کے مقامی میڈیا اور چیانلس نے حالیہ دنوں میں جو سروے کیا ہے ، اس کے مطابق نشستوں میں معمولی کمی کے ساتھ کانگریس دوبارہ برسر اقتدار آئے گی۔ بی جے پی کی نشستوں میں اضافہ ضرور ہوگا لیکن وہ اقتدار سے محروم رہے گی۔ مقامی میڈیا کے اس سروے کو بی جے پی نے قبول کرنے سے انکار کردیا اور بعض قومی چیانلس کی خدمات حاصل کی گئیں تاکہ بی جے پی کے حق میں لہر ظاہر کی جائے۔ کرناٹک میں مسلمان آبادی کا 12 فیصد ہیں، لہذا کانگریس اور جنتا دل سیکولر مسلم آبادی والے حلقوں پر توجہ مرکوز کرچکے ہیں۔ دونوں پارٹیوں کی جانب سے مسلم امیدواروں کو ٹکٹ دیئے جانے کی صورت میں بی جے پی کو راست فائدہ ہوسکتا ہے ۔ بتایا جاتا ہے کہ بی جے پی اور جنتا دل سیکولر کے درمیان خفیہ معاہدہ کے تحت یہ طئے کیا گیا کہ کانگریس کے مضبوط مسلم قائدین کو نشانہ بنایا جائے۔ خاص طور پر ریاستی وزراء روشن بیگ اور تنویر سیٹھ کو شکست سے دوچار کرنے کیلئے حکمت عملی تیار کی جارہی ہے ۔ یہ قائدین جنہوں نے اقلیتوں کو کانگریس سے وابستہ رکھنے میں اہم رول ادا کیا ، انہیں نشانہ بناتے ہوئے مسلم ووٹ تقسیم کرنے کی سازش ہے۔ دونوں مسلم وزراء کے خلاف بی جے پی اور جنتا دل سیکولر دونوں مضبوط امیدوار میدان میں اتار رہے ہیں۔ ان وزراء کو نشانہ بنانے کا مقصد دیگر علاقوں میں انہیں انتخابی مہم میں حصہ لینے سے روکنا ہے ۔ سیکولر ووٹوں کی تقسیم کیلئے اگرچہ جنتا دل سیکولر نے ٹی آر ایس اور مجلس کی تائید حاصل کی لیکن کرناٹک کے اقلیتی رائے دہندے اس اتحاد سے خوش نہیں ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ تلنگانہ سے تعلق رکھنے والی جماعتوں کو کرناٹک کے امور میں مداخلت سے گریز کرنا چاہئے ۔ دونوں ریاستوں کی سیاسی صورتحال اور مسائل مختلف ہیں اور دوسری ریاست کے قائدین ہمیں اس بات کیلئے مجبور نہیں کرسکتے کہ کس پارٹی کی تائید کریں۔ بتایا جاتا ہے کہ مجلس کی جانب سے انتخابات میں حصہ نہ لینے کے اعلان کے باوجود مجلس سے وابستہ قائدین آزاد امیدوار کی حیثیت سے مقابلہ کر رہے ہیں۔ ظاہر ہے کہ اس مقابلہ سے کانگریس کے ووٹ تقسیم ہوں گے۔ گلبرگہ میں سابق وزیر قمرالاسلام کی بیوہ کو کانگریس نے امیدوار بنایا ہے۔ اسی حلقہ سے آزاد امیدوار کی حیثیت سے مسلم قائد نے مقابلہ کا اعلان کیا۔ ریاست میں سہ رخی مقابلہ کو دیکھتے ہوئے سماج وادی پارٹی اور بی ایس پی نے خود کو مقابلہ سے دور رکھا ہے تاکہ ووٹ کی تقسیم سے بی جے پی کو فائدہ نہ پہنچے۔ عام آدمی پارٹی نے 40 سے زائد نشستوں پر مقابلہ کا اعلان کیا ہے اور ابھی تک امیدواروں کی دو فہرستیں جاری کردی گئیں۔ کرناٹک سے تعلق رکھنے والی کئی سماجی اور فلاحی تنظیموں نے متحدہ طور پر مہم کا آغاز کیا ہے تاکہ سیکولر ووٹ کی تقسیم کو روکا جائے ۔ اس سلسلہ میں دیہی اور شہری علاقوں میں عوام سے ملاقاتیں کرتے ہوئے شعور بیدار کیا جارہا ہے ۔ اس کے علاوہ سوشیل میڈیا کے ذریعہ بی جے پی اور جنتا دل سیکولر کی سازش کو بے نقاب کرنے کی مساعی جاری ہے۔ اس خاموش مہم کو عوام کی زبردست تائید حاصل ہوئی ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ سوشیل میڈیا پر بلا لحاظ مذہب و ملت ، رائے دہندوں نے کرناٹک میں بی جے پی کے اقتدار میں واپسی کی مخالفت کی ہے۔ 24 اپریل پرچہ جات نامزدگی کے ادخال کا آخری دن ہے جس کے بعد انتخابی مہم کا حقیقی منظر عوام کے روبرو ہوگا۔ بی جے پی نے وزیراعظم نریندر مودی اور صدر بی جے پی امیت شاہ کے علاوہ اترپردیش کے چیف منسٹر یوگی ادتیہ ناتھ کو اسٹار کیمپینر کی حیثیت سے میدان میں اتارنے کا فیصلہ کیا ہے ۔ جنتا دل سیکولر کیلئے چیف منسٹر تلنگانہ چندر شیکھر راؤ اور مجلس کے صدر اسد الدین اویسی ، بعض علاقوں میں انتخابی جلسوں سے خطاب کرسکتے ہیں۔ واضح رہے کہ کرناٹک کے مسلمانوں کی کامیاب مہم کے نتیجہ میں مجلس کو کرناٹک میں مقابلہ سے دور رہنا پڑا۔

 

600 گرام گوشت اور شراب فری
آزاد امیدوار کا وعدہ،بیف کی سیاست عروج پر
حیدرآباد ۔ 18 ۔ اپریل (سیاست نیوز) الیکشن میں امیدواروں کی جانب سے رائے دہندوں کو لبھانے کیلئے نت نئے انداز اختیار کئے جاتے ہیں۔ اہم سیاسی جماعتیں انتخابی منشور کے ذریعہ وعدے کرتی ہیں لیکن کرناٹک میں ایک آزاد امیدوار نے رائے دہندوں کو مٹن اور شراب مفت فراہم کرنے کا وعدہ کرتے ہوئے ہلچل مچادی ہے۔ بنگلور سے 80 کیلو میٹر دوری پر واقع اسمبلی حلقہ چنتا منی سے آزاد امیدوار سریش نے ایک پمفلٹ جاری کیا جسے انتخابی منشور کا نام دیا گیا ہے، جس میں انہوں نے رائے دہندوں کو ہفتہ میں ایک مرتبہ 600 گرام مٹن اور 18 سال سے زائد عمر کے افراد کو ماہانہ اساس پر شراب مفت فراہم کرنے کا وعدہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ عوام کو مفت شراب کی سربراہی سے حلقہ میں شراب مافیا کا خاتمہ ہوگا۔ سوشیل میڈیا میں سریش کی جانب سے جاری کردہ منشور ریاست بھر میں بحث کا موضوع بن چکا ہے ۔ اس منفرد پیشکش کے ذریعہ ہوسکتا ہے کہ وہ الیکشن میں بہتر مظاہرہ کریں کیونکہ مٹن اور شراب کی فراہمی کا وعدہ نوجوان نسل اور متوسط طبقات میں مقبول ہوچکا ہے ۔ سیاسی مبصرین نے کہا کہ عجب نہیں اس حلقہ سے آزاد امیدوار کی کامیابی ہو۔ کرناٹک میں مٹن اور چکن کی قیمتوں میں زبردست اضافہ کے پس منظر میں یہ وعدہ عوام کیلئے کسی نعمت سے کم نہیں۔ 2014 ء کے سروے کے مطابق کرناٹک کے 78.9 فیصد عوام نان ویجیٹیرین ہے ۔ دیگر حلقوں میں امیدواروں کی جانب سے رائے دہندوں کیلئے خفیہ طور پر مٹن اور شراب کی دعوتوں کا اہتمام کیا جارہا ہے۔ شادیوں کی آڑ میں سیاسی پارٹیاں نان ویجیٹیرین دعوتوں کا اہتمام کررہی ہیں، تاکہ الیکشن کمیشن کی نظر سے بچ سکے۔ رائے دہی کی تاریخ 12 مئی تک کرناٹک میں بیف اور الکحل کی سیاست شدت اختیار کرسکتی ہے۔

TOPPOPULARRECENT