Tuesday , December 18 2018

کرناٹک میں مسلم ووٹ تقسیم کرنے بی جے پی کا نیا منصوبہ

حیدرآباد کی مسلم جماعت کی جنتا دل سیکولر سے مفاہمت کی کوشش، 100نشستوں پر بی جے پی کو فائدہ کا امکان
مسلم جماعت کو بدنامی سے بچانے بی جے پی تھنک ٹینک متحرک

حیدرآباد۔/6 مارچ، ( سیاست نیوز) شمال مشرقی ریاستوں میں غیر متوقع کامیابی کے بعد بی جے پی نے ساری توجہ کرناٹک پر مرکوز کردی ہے۔ کانگریس مکت بھارت کے نعرہ کے ساتھ مودی اور امیت شاہ کی جوڑی کانگریس اقتدار والی ریاستوں پر قبضہ کرنے کی منصوبہ بندی کے ساتھ آگے بڑھ رہی ہے۔ تریپورہ میں بائیں بازو کے قلعہ پر زعفرانی پرچم لہرانے اور میگھالیہ میں کانگریس کو اقتدار سے بیدخل کرنے کے بعد کرناٹک میں سدارامیا حکومت کو زوال سے دوچار کرنے کی منصوبہ بندی کی گئی ہے۔ سدارامیا اگرچہ عوام میں کافی مقبول ہیں لیکن بی جے پی کا کہنا ہے کہ تریپورہ میں مانک سرکار کی مقبولیت کے باوجود سی پی ایم کی حکومت نہیں بچ سکی لہذا کرناٹک میں بھی بی جے پی دوبارہ برسراقتدار آئیگی اور کانگریس کے قبضہ سے ایک اہم مضبوط ریاست چھین لی جائیگی۔ باوثوق ذرائع کے مطابق کانگریس ووٹ بینک لنگایت اور مسلمان پر بی جے پی نے توجہ مرکوز کی ہے اور دونوں طبقات کے ووٹ تقسیم کرکے کانگریس کو اقتدار سے بیدخل کرنے کا منصوبہ تیار کیا ہے۔ لنگایت طبقہ کرناٹک میں کسی بھی پارٹی کو اقتدار دلانے بادشاہ گر کا موقف رکھتا ہے اور فی الوقت یہ طبقہ کانگریس کے ساتھ دکھائی دے رہا ہے۔ دوسری طرف بی جے پی اقلیتی ووٹ حاصل کرنے کے موقف میں نہیں ہے لہذا وہ کسی طرح مسلم ووٹ تقسیم کرنے کی منصوبہ بندی کررہی ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ اس سلسلہ میںغیر معلنہ حلیف مسلم جماعت کو زائد نشستوں پر مقابلہ کیلئے آمادہ کیا جارہا ہے۔ بہار، یو پی اور مہاراشٹرا میں حیدرآباد کی مسلم جماعت نے مقابلہ کرکے جس طرح مسلم ووٹ تقسیم کئے اور بی جے پی کو راست فائدہ پہنچایا اسی طرح کرناٹک میں بھی 50 سے زائد مسلم اکثریتی حلقوں میں مسلم جماعت کے مقابلہ کی تیاری کی جارہی ہے ۔ بتایا جاتا ہے کہ مسلم ووٹوںکی تقسیم کی منصوبہ بندی اور اسکیچ دہلی میں امیت شاہ اور ان کے مشیر تیار کرلئے جبکہ اس پر عمل آوری مقامی مسلم جماعت کی ذمہ داری ہوگی۔ مسلم ووٹ کی تقسیم کے سلسلہ میں شہرت حاصل کرنے کے بعد بی جے پی نے مسلم جماعت کو مزید کسی اُلجھن یا بدنامی سے بچانے نئی حکمت عملی تیار کی ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ بڑے پیمانے پر سیکولر ووٹ تقسیم کرنے حیدرآباد کی پارٹی کرناٹک میں سابق وزیر اعظم دیوے گوڑا کی پارٹی جنتا دل سیکولر سے مفاہمت کی تیاری کررہی ہے۔ اطلاعات کے مطابق اس سلسلہ میں ابتدائی دور کی بات چیت مکمل ہوچکی ہے۔ اگر دونوں جماعتوں میں مفاہمت ہوجائے تو 100 سے زائد نشستوں پر سیکولر اور بالخصوص مسلم ووٹ تقسیم کرنے میں مدد ملے گی۔ ایچ ڈی دیوے گوڑا اپنے سیکولر امیج کی وجہ کرناٹک میں مقبولیت رکھتے ہیں لہذا اس پارٹی کا سہارا لیکر برسراقتدار کانگریس کو نقصان پہنچانے تیاریاں کی جارہی ہیں۔ سوالیہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا جنتا دل سیکولر اس سازش کا حصہ بن جائے گی۔؟ کرناٹک کے کئی علاقوں میں جنتا دل سیکولر کا ووٹ بینک ہے تاہم وہ اپنے طور پر اقتدار حاصل کرنے کے موقف میں نہیں۔ ایسے میں وہ اپوزیشن کا موقف حاصل کرنے کی کوشش کرسکتی ہے۔ کرناٹک میں چونکہ اصل مقابلہ کانگریس اور بی جے پی کے درمیان ہے لہذا جنتا دل سیکولر، حیدرآباد کی مسلم جماعت اور بعض دیگر علاقائی جماعتوں کے میدان میں اُترنے سے اندیشہ ہے کہ سیکولر ووٹ تقسیم ہونگے۔ اطلاعات کے مطابق امیت شاہ نے اس قدر ٹھوس حکمت عملی تیار کی ہے جس سے بی جے پی کو فائدہ ہوجائے اور مسلم ووٹ تقسیم کرنے والوں پر کوئی الزام نہ آئے۔ اگر جنتا دل سیکولر اور حیدرآباد کی مسلم پارٹی متحدہ طور پر مقابلہ کریں تو ووٹوں کی تقسیم کا الزام مقامی مسلم جماعت پر نہیں آئیگا جس طرح بہار، یو پی اور مہاراشٹرا میں آچکا ہے۔ جیسے جیسے کرناٹک کے انتخابات کا مرحلہ قریب آرہا ہے نئی دہلی میں بی جے پی کے تھنک ٹینک ’ مشن کرناٹک‘ کی تیاری میں جُٹ گئے ہیں۔ الیکشن کمیشن کی جانب سے انتخابی اعلامیہ کی اجرائی کے ساتھ ہی سیکولر اور مسلم ووٹ تقسیم کرنے کے آلۂ کار میدان میں آجائیں گے۔

TOPPOPULARRECENT