Wednesday , April 25 2018
Home / شہر کی خبریں / کرناٹک میں مسلم ووٹ کی تقسیم، بی جے پی کی سازش

کرناٹک میں مسلم ووٹ کی تقسیم، بی جے پی کی سازش

حیدرآباد کی مسلم جماعت سے فائدہ کی امید، 50 نشستوں پر مقابلہ، مقامی مسلمانوں کی ناراضگی

حیدرآباد ۔ 9 ۔اپریل (سیاست نیوز) کرناٹک اسمبلی انتخابات کو ایک ماہ باقی ہے اور انتخابی نتائج کے سلسلہ میں مایوس بی جے پی نے دیگر ریاستوں کی طرح ووٹوں کی تقسیم پر انحصار کا فیصلہ کیا ہے۔ کرناٹک میں کانگریس کے حق میں عوامی لہر اور امیت شاہ کے مسلسل دوروں کے باوجود بی جے پی کو حوصلہ افزاء نتائج کی امید نہیں ہے۔ پارٹی نے وزیراعظم نریندر مودی پر مکمل انحصار کا فیصلہ کیا ہے ۔ تاہم مودی لہر کے اثرانداز نہ ہونے کی صورت میں سیکولر ووٹوں کی تقسیم بی جے پی کیلئے مددگار ثابت ہوگی۔ اطلاعات کے مطابق بی جے پی نے حیدرآباد کی مسلم سیاسی جماعت اور سابق وزیراعظم دیوے گوڑا کی جنتادل سیکولر کو زائد حلقوں میں مقابلہ کیلئے تیار کرتے ہوئے سیکولر ووٹوں کی تقسیم کی حکمت عملی تیار کی ہے۔ کرناٹک میں برسر اقتدار کانگریس اور بی جے پی میں اصل مقابلہ ہے جبکہ جنتا دل سیکولر تیسری بڑی جماعت کے طور پر اپنا وجود رکھتی ہے۔ سیکولر ووٹوں کی تقسیم کے بغیر بی جے پی کامیابی کا تصور نہیں کرسکتی۔ اترپردیش ، بہار اور مہاراشٹرا کی طرح کرناٹک میں بھی مسلم اکثریتی حلقوں میں جنتا دل سیکولر اور حیدرآباد کی سیاسی جماعت کے مقابلہ کو یقینی بنایا جاسکتا ہے ۔ بتایا جاتاہے کہ اندرونی طور پر اس بات کی کوشش کی جارہی ہے کہ مقامی قائدین کے ذریعہ ان دونوں پارٹیوں کو مسلم اکثریتی علاقوں میں مقابلہ کرنے کیلئے آمادہ کیا جائے۔ دونوں جماعتوں کے مقابلہ کی صورت میں بی جے پی کی کامیابی یقینی ہوگی۔ کرناٹک میں اسمبلی کی 223 نشستیں ہیں اور حیدرآباد کی مسلم سیاسی جماعت 50 نشستوں پر مقابلہ کی تیاری کر رہی ہے ۔ یہ وہ نشستیں ہوں گی جہاں مسلمانوں اور دلتوں کی قابل لحاظ آبادی ہو۔ بظاہر یہ تاثر دیا جائے گا کہ مسلم دلت اتحاد کے ذریعہ کانگریس اور بی جے پی کو شکست دی جائے گی لیکن یہ نعرہ محض کانگریس کی مخالفت کیلئے استعمال ہوگا۔ جنتا دل سیکولر مسلم اکثریتی علاقوں میں مسلم امیدواروں کو میدان میں اتارے گی ۔ اس طرح کانگریسی امیدواروں کی کامیابی کے لئے درکار ووٹ دونوں پارٹیوں میں منقسم ہوجائیں گے۔ بی جے پی اس بات کی کوشش کر رہی ہے کہ حیدرآباد کی سیاسی جماعت اور جنتادل سیکولر میں انتخابی مفاہمت ہو تاکہ دونوں متحدہ طور پر مضبوطی سے مقابلہ کرسکے۔ ایسی صورت میں سیکولر ووٹوں کی تقسیم کے امکانات مزید بڑھ جائیں گے۔ دوسری طرف کرناٹک کے مسلمان اور مسلم تنظیمیں حیدرآباد کی مسلم سیاسی جماعت کے انتخابات میں حصہ لینے کی مخالفت کر رہی ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ اس سلسلہ میں انفرادی طور پر اور تنظیموں نے اجتماعی طور پر بھی حیدرآباد کی مسلم جماعت کے ذمہ داروں سے نمائندگی کی اور خواہش کی کہ وہ سیکولر ووٹوں کی تقسیم کا سبب نہ بنیں۔ ( باقی سلسلہ صفحہ 10 پر )

TOPPOPULARRECENT