Tuesday , June 19 2018
Home / Top Stories / کرناٹک میں مفت ایل پی جی و طبی خدمات کی فراہمی

کرناٹک میں مفت ایل پی جی و طبی خدمات کی فراہمی

چیف منسٹر سدا رامیا نے اسمبلی میں بجٹ پیش کیا، سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں اضافہ، کسانوں کو راحت
بنگلورو۔16 فبروری (سیاست ڈاٹ کام) کرناٹک کے چیف منسٹر سدا رامیا نے اپنی ریاست میں ماقبل اسمبلی انتخابات پیش کردہ 2018-19ء کے بجٹ میں صحت، طبی دیکھ بھال و علاج کی فراہمی، ایل پی جی کی مفت سربراہی کے علاوہ خشک اراضیات پر کاشت کرنے والے کسانوں کے لیے متعدد اسکیموں کا اعلان کیا ہے۔ چیف منسٹر نے کہا کہ ریاست کے 5.93لاکھ سرکاری ملازمین اور 5.73 وظیفہ یابوں کے ل یے چھٹویں پے کمیشن پر عمل آوری سے سرکاری خزانہ پر 10,508 کروڑ روپئے کے زائد مصارف عائد ہوں گے۔ پے کمیشن نے ملازمین کی تنخواہوں کے ڈھانچہ میں 30 فیصد اضافہ کی سفارش کی ہے۔ نیز خدمات کو بہتر و موثر بنانے کے لیے دیگر اقدامات کی تجاویز بھی پیش کی گئی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت اپنے فلاحی اقدامات کو روبعل لاتے ہوئے اچھے موقف میں رہے گی۔ سدا رامیا نے جن کے پاس فینانس کا قلمدان بھی ہے بنیادی زرعی قرض کی امداد باہمی سوسائٹی کے رکن کی کسان کی موت کی صورت میں اس سوسائٹی سے لیے گئے ایک لاکھ روپئے کی حد تک قرض معاف کرنے کی اسکیم کا اعلان بھی کیا۔

بجٹ میں کوئی نیا ٹیکس عائد نہیں کیا گیا ہے۔ تاہم دیسی ساختہ شراب پر مزید آٹھ فیصد اکسائز ڈیوٹی عائد کی گئی ہے جس کا انحصار سلاب پر رہے گا۔ صحت و طبی دیکھ بھال کی اسکیم ’اروگیا کرناٹک یوجنا‘ اس ماہ شروع ہوگی جس کو اختتام سال تک ریاست بھر میں روبعمل لایا جائے گا۔ یہ اسکیم ابتدائی سطح سے دستیاب رہے گی۔ علاوہ ازیں تمام افراد کو دوسری اور تیسری سطحوں پر بھی علاج و معالجہ کی سہولتیں فراہم کی جائیں گی۔ چیف منسٹر سدا رامیا نے کہا کہ 9000 سے زائد موجودہ مراکز کو مزید بہتر بنایا جائے گا۔ آئندہ سات سال کے دوران 5000 افراد کی آبادی کے لیے ایک ذیلی طبی مراکز قائم کرتے ہوئے عوام کو انتہائی اعلی معیاری ابتدائی طبی دیکھ بھال کی خدمات فراہم کی جائے گی۔ محکمہ صحت و خاندانی بہبود کے لیے 6,645 کروڑ روپئے مختص کئے گئے ہیں۔ اس اعلان سے چند دل قبل ہی مرکزی بجٹ میں حکومت نے بقول اس کے دنیا کی سب سے بڑی عوامی صحت اسکیم کا اعلان کیا تھا جس کے تحت 10کروڑ خاندانوں کا احاطہ کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ مرکز کی پردھان منتری اجولہ اسکیم کے جواب میں سدارامیا نے ’مکھیہ منتری انیلا بھاگیہ یوجنا‘ کے آغاز کا اعلان کیا ہے۔ 1,350 کروڑ روپئے کے مصارف سے کرناٹک کے 30 لاکھ خاندانوں کو دو گیاس سلینڈرس اور دو برنر والے اسٹوز مفت فراہم کئے جائیں گے۔

اروناچل پر ہندوستانی عوام کا حق، حکومت کا ادعا
نئی دہلی۔16 فبروری (سیاست ڈاٹ کام) وزیراعظم نریندر مودی کے دورۂ اروناچل پردیش پر چین کے اعتراض کے جواب میں سخت ردعمل میں کہا کہ اس شمال مشرقی ریاست پر ہندوستانی عوام کا حق ہے اور یہ ملک کا اٹوٹ حصہ ہے۔ مودی نے گزشتہ روز اروناچل کا دورہ کیا تھا جس پر چین جو اس ریاست کو جنوبی تبت کا حصہ بنانا چاہتا ہے، ہندوستان سے سرحدی تنازعہ کو مزید پیچیدہ کرنے سے احتراز کرنے کی اپیل کی تھی۔

TOPPOPULARRECENT