Saturday , May 26 2018
Home / شہر کی خبریں / کرناٹک میں واپسی کیلئے بی جے پی کی حکمت عملی ‘ سکیولر ووٹوں کی تقسیم پر انحصار

کرناٹک میں واپسی کیلئے بی جے پی کی حکمت عملی ‘ سکیولر ووٹوں کی تقسیم پر انحصار

گجرات نتائج کے بعد ہمنوا جماعتوں کے رول کا تعین کیا جاسکتا ہے ۔ قابل لحاظ مسلم آبادی والے حلقوں میں مقابلہ کے مشورے
حیدرآباد۔ 20 نومبر (سیاست نیوز) کرناٹک میں واپسی کے لیے بی جے پی نے اترپردیش اور بہار کی طرح سکیولر ووٹ کی تقسیم کی حکمت عملی تیار کی ہے اور اس سلسلہ میں اپنی ہمنوا جماعتوں سے مذاکرات کا آغاز کردیا ہے۔ جنوبی ہند میں قدم جمانے بی جے پی کرناٹک سے کامیابیوں کا آغاز کرنا چاہتی ہے۔ آندھر اپردیش میں بی جے پی کو مضبوط حلیف جماعت تلگودیشم کا سہارا مل چکا ہے اس کے باوجود عوام میں توقع کے مطابق نشستوں پر کامیابی عطاء نہیں کی۔ ٹاملناڈو اور تلنگانہ میں بی جے پی مضبوط سہاروں کی تلاش میں ہے۔ کرناٹک میں پارٹی استحکام کیلئے موجودہ نائب صدر ایم وینکیا نائیڈو اور سینئر بی جے پی قائد اننت کمار نے گزشتہ چار برسوں میں جدوجہد کی تھی لیکن کرناٹک کے ووٹرس کا رجحان سکیولر جماعتوں کے حق میں دیکھا گیا۔ بی جے پی کا راست مقابلہ کانگریس سے ہے لیکن ریاست میں جنتادل سکیولر اپنا علیحدہ ووٹ بینک رکھتی ہے۔ بی جے پی کو موجودہ حالات میں سکیولر ووٹوں کی تقسیم پر انحصار کرنے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں۔ یہ الگ بات ہے کہ وہ اپنے بااعتماد سہاروں کے کرناٹک میں اثرانداز ہونے کے بارے میں پوری طرح مطمئن نہیں ہیں۔ مبصرین کے مطابق جس ریاست میں بھی بی جے پی کا کانگریس یا کسی اور پارٹی سے راست مقابلہ رہا وہاں اسے شکست فاش ہوئی۔ لہٰذا وہ اپنی ہمنوا جماعت یا دیگر سہاروں کی تلاش کررہی ہے ۔ بی جے پی صدر امیت شاہ نے اگرچہ کرناٹک کیلئے اپنی حکمت عملی تیار کرلی تاہم وہ گجرات کے نتائج تک اسے مخفی رکھنا چاہتے ہیں۔ گجرات کے نتائج کے بعد بی جے پی کرناٹک کی حکمت عملی پر عمل آوری کا آغاز کرے گی۔ یوں تو کرناٹک میں ابھی سے انتخابی ماحول گرم ہوچکا ہے لیکن بی جے پی کو میدان عمل میں آنے کی کوئی جلدی نہیں ہے۔ سابق چیف منسٹر یدی یورپا کو چیف منسٹر کے چہرے کی حیثیت سے پیش کیے جانے کا امکان ہے تاہم پارٹی کے بعض گوشے ان کی جگہ کسی نوجوان اور متحرک قائد کو عوام میں متعارف کرنے کا مشورہ دے رہے ہیں۔ یدی یورپا پر کرپشن کے الزامات ہیں جس سے پارٹی کو نقصان کا اندیشہ ہے۔ گجرات میں بی جے پی کی صحت ٹھیک نہیں لہٰذا امیت شاہ اور نریندر مودی نے آبائی ریاست پر دوبارہ قبضے کیلئے اپنی مکمل طاقت جھونک دی ہے۔ اگر نتائج توقع کے برخلاف آئیں اور نشستوں کی تعداد میں کمی ہو تو اس کا اثر کرناٹک کی حکمت عملی پر ضرور پڑے گا۔ یو پی اور بہار میں سکیولر اور بالخصوص مسلم ووٹوں کی تقسیم کے ذریعہ بی جے پی کو فائدہ پہونچانے والی مسلم جماعت پر کرناٹک میں بھی انحصار کیا جاسکتا ہے۔ مہاراشٹرا و کرناٹک کے مجالس مقامی کے انتخابات میں اس غیر معلنہ اور مخفی ہمدرد پارٹی نے سکیولر ووٹوں کی تقسیم کے ذریعہ بی جے پی کو فائدہ پہنچایا تھا۔ جماعت کو کرناٹک میں کس طرح استعمال کرنا ہے اس کا فیصلہ گجرات نتائج کے بعد ہوگا۔ بی جے پی ذرائع نے بتایا کہ حیدرآباد کی اس جماعت کو مسلم قابل لحاظ آبادی والے علاقوں میں مقابلہ کی صلاح دی گئی ۔ ایسی 60 نشستوں کی نشاندہی کی گئی جہاں جماعت کے امیدواروں کو میدان میں اتارکر کانگریس کو نقصان پہنچایا جاسکتا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ مسلم جماعت کی مہم کی ہر طرح سے مدد کی جائیگی اور ملک کے دیگر علاقوں میں موجود بی جے پی نام نہاد مسلم حامیوں کو میدان میں اتارا جائیگا۔ اگر مسلم جماعت 60 نشستوں پر مقابلہ کرتی ہے تو 30 نشستیں وہ بی جے پی کو بطور تحفہ پیش کرسکتی ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ اس تحفے کا معاوضہ کیا ہوگا ۔ مسلم اور سکیولر ووٹ منقسم کرنے جماعت نے گلبرگہ سے اپنی سرگرمیوں کا آغاز کیا ہے۔ گلبرگہ روایتی طور پر مسلمانوں کا گڑھ ہے وہاں ووٹ کی معمولی تقسیم بی جے پی کیلئے فائدہ مند ہوسکتی ہے۔ اب جبکہ قمرالاسلام جیسی شخصیت دنیا میں نہیں رہی لہٰذا بی جے پی کو گلبرگہ میں قدم جمانے کا موقع مل سکتا ہے اور اس کی مدد کیلئے مسلم جماعت میدان میں کود پڑی ہے۔ 2019 انتخابات سے قبل مسلم جماعت کیلئے بی جے پی کی مدد کا کرناٹک میں آخری موقع ہوسکتا ہے کیونکہ اسکے بعد ریاستوں کے انتخابات نہیں ہیں۔ بتایا جاتا ہیکہ مختلف ریاستوں میں جماعت نے جس انداز میں بی جے پی کی مدد کی اسی کو پیش نظر رکھ کر عام انتخابات میں مرکزی حکومت سے خدمت کا صلہ دیا جائیگا جو نئے اداروں کی منظوری اور جماعت کے مقابلہ پر کمزور امیدوار کھڑا کرنے کی صورت میں ہوسکتا ہے۔ کرناٹک میں چیف منسٹر سدارامیا ایک چٹان کی طرح بی جے پی کے سامنے کھڑے ہیں اور وہ نہ صرف سکیولر ووٹ متحد رکھنے میں کامیاب ہیں بلکہ مختلف طبقات کی تائید حاصل کرکے کانگریس کا موقف مستحکم رکھا ہے۔ دیکھنا یہ ہے کہ امیت شاہ کے اشارے پر مسلم جماعت کرناٹک میں کیا گل کھلائے گی۔

TOPPOPULARRECENT