Wednesday , November 22 2017
Home / Top Stories / کرناٹک میں ٹیپو سلطان یوم پیدائش تقاریب کے دوران تشدد

کرناٹک میں ٹیپو سلطان یوم پیدائش تقاریب کے دوران تشدد

بی جے پی اور ہمنوا تنظیموں کا بائیکاٹ،سنگباری سے بچنے کی کوشش میں وی ایچ پی لیڈر گرکر ہلاک

مڈی کیری (کرناٹک) ۔ 10 ۔ نومبر (سیاست ڈاٹ کام) 18 ویں صدی کے میسور کے حکمراں ٹیپو سلطان کی یوم پیدائش تقاریب کے موقع پر تشدد پھوٹ پڑا جس میں ایک مقامی وی ایچ پی لیڈر ہلاک اور دیگر کئی زخمی ہوگئے۔ سینئر پولیس عہدیداروں نے بتایا کہ 60 سالہ کٹپا کی باؤنڈری وال سے گرنے کے سبب موت واقع ہوگئی۔ آج ضلع میں بند کے دوران ہجوم نے سنگباری شروع کردی اور اس سے بچنے کی کوشش میں کٹپا دیوار سے گر پڑا۔ دیگر دو افراد بھی شدید زخمی ہوگئے ۔ پولیس نے کہا کہ بعض نامعلوم افراد کی فائرنگ میں کوئی زخمی نہیں ہوا۔ گڑبڑ اس وقت شروع ہوئی جب ایک گروپ نے یوم پیدائش تقریب کے مقام تک نکالے جانے والے جلوس پر اعتراض کیا اور سنگباری کے ذریعہ حملہ کرنے کی کوشش کی ۔ پولیس نے صورتحال کو قابو میں کرنے کیلئے آنسو گیس کے شل چھوڑے اور ہلکا لاٹھی چارج کیا۔ بی جے پی اور چند دیگر تنظیموں نے حکومت کی جانب سے پہلی مرتبہ ٹیپو سلطان کی یوم پیدائش تقاریب منانے کے فیصلہ کے خلاف بند کا اعلان کیا تھا ۔ بی جے پی نے ان تقاریب کا ریاست گیر سطح پر بائیکاٹ کرنے کا بھی اعلان کیا اور ٹیپو سلطان کو ایک کٹر مذہبی شخص قرار دیا جنہوں نے ہندوؤں کے ساتھ ناروا سلوک اختیار کیا تھا۔ احتجاجیوں نے سیکوریٹی حصار کو توڑ دیا تھا جس کے بعد زائد فورس طلب کرلی گئی اور سارے ضلع کوڈاگو میں امتناعی احکامات نافذ کردیئے گئے ۔

 

اے ڈی جی پی لاء اینڈ آرڈر الوک موہن نے کہا کہ کمپاؤنڈ وال سے گرنے کے سبب ایک شخص کی موت ہوئی ہے۔دریں اثناء ریاستی وزیرداخلہ جی پرمیشور نے کہاکہ پولیس کی مزید جمعیت چامراج نگر اور میسورو اضلاع سے ضلع کوڑاگو روانہ کردی گئی ہے۔ انھوں نے عوام سے امن کی برقراری کی اپیل کی۔ بی جے پی نے تقاریب کے مکمل بائیکاٹ کا اعلان کرتے ہوئے اُن کی پارٹی کے کوئی عوامی نمائندے جو چاہے کسی بھی سطح کے ہوں سرکاری تقاریب میں شرکت نہیں کریں گے۔ علاوہ ازیں پارٹی کی ریاستی شاخ کے صدر پرہلاد جوشی نے کہاکہ ٹیپو سلطان ’’جنونی اور مخالف کنڑا‘‘ تھا۔ کئی تنظیموں اور افراد نے بھی ریاستی حکومت کے ٹیپو سلطان کی یوم پیدائش تقاریب10 نومبر کو منانے کے اقدام کی مخالفت کی ہے۔ ٹیپو سلطان سابق مملکت میسور کے حکمراں تھے اور انہیں برطانیہ کی ایسٹ انڈیا کمپنی کا کٹر دشمن سمجھا جاتا ہے۔ وہ مئی 1799 ء میں قلعہ سری رنگا پٹنم کے قریب برطانوی افواج سے مقابلہ کرتے ہوئے شہید ہوگئے۔ چیف منسٹر کرناٹک سدارامیا نے یوم پیدائش تقاریب منانے حکومت کے فیصلہ کا دفاع کیا۔ آر ایس ایس اور دیگر فرقہ پرست پارٹیوں کی جانب سے مخالفت کی مذمت کی۔ منگلورو یونائیٹیڈ کرسچین اسوسی ایشن نے بھی تقاریب کے انعقاد کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ ٹیپو سلطان کئی کلیساؤں کی ساحلی علاقہ میں تباہی اور دور اقتدار میں کئی عیسائیوں کو ہراساں کرنے کا ذمہ دار تھا۔ احتجاج پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے سدارامیا نے بند کے اعلان کی مذمت کرتے ہوئے کہاکہ یہ نظم و ضبط کے مسائل پیدا کرنے، نقض امن پیدا کرنے اور خلل اندازی کی کوشش ہے۔

Top Stories

TOPPOPULARRECENT