Friday , September 21 2018
Home / اضلاع کی خبریں / کرناٹک میں پولیس افسران کے عنقریب تبادلے

کرناٹک میں پولیس افسران کے عنقریب تبادلے

گلبرگہ ۔6؍مئی( سیاست ڈسٹرکٹ نیوز): شہر میں پچھلے پانچ سال سے زیادہ عرصہ سے مختلف عہدوں پر فائز پولیس افسران کا فوراً شہر کے باہر تبادلہ کیا جائے گا۔ ریاستی حکومت نے اس سلسلے میں فیصلہ لے لیا ہے، شہر میں دفتر پولیس کمشنر سمیت تمام پولیس تھانوں ، نظم وضبط ، سی سی بی ، ٹریفک اور دیگر شعبوں کے تحت کام کرنے والے افسران میں سے جنہوں نے ایک ہ

گلبرگہ ۔6؍مئی( سیاست ڈسٹرکٹ نیوز): شہر میں پچھلے پانچ سال سے زیادہ عرصہ سے مختلف عہدوں پر فائز پولیس افسران کا فوراً شہر کے باہر تبادلہ کیا جائے گا۔ ریاستی حکومت نے اس سلسلے میں فیصلہ لے لیا ہے، شہر میں دفتر پولیس کمشنر سمیت تمام پولیس تھانوں ، نظم وضبط ، سی سی بی ، ٹریفک اور دیگر شعبوں کے تحت کام کرنے والے افسران میں سے جنہوں نے ایک ہی مقام پر پانچ سال یا اس سے زیادہ کا عرصہ پورا کرلیا ہے، ان کا تبادلہ کردیا جائے گا۔ جن افسران کا تبادلہ کیا جائے گا، ان میں اے سی پی اور انسپکٹرس شامل ہیں۔ انہوںنے کہاکہ شہر بنگلور کے علاوہ میسور، بلگاوی ، ہبلی ، دھارواڑ، منگلور ، کلبرگی میں بھی یہ ضابطہ نافذ ہوگا ، جہاں پانچ سال سے زیادہ کسی بھی ایگزیکیٹیو عہدہ پر اگر کسی افسر نے کام کیا ہے تو اس کا تبادلہ کیا جائے گا۔ انہوںنے کہاکہ کے ایس آر پی میں کام کرنے والے جوانوں کو اب تک ترقی دینے کا نظام رائج نہیں تھا۔ اب اس شعبے میں 18 سال سے زیادہ کام کرچکے کانسٹبلوں کو ہیڈکانسٹبل ، ہیڈکانسٹبلوں کواسسٹنٹ سب انسپکٹر ،اسسٹنٹ سب انسپکٹروں کو سب انسپکٹرس اور سب انسپکٹرس کو انسپکٹر کا عہدہ از خود دیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ کے ایس آر پی میں طویل خدمات انجام دیتے ہوئے جو کانسٹبل ریٹائر ہوچکے ہیں انہیں بھی ترقی کی مناسبت سے سہولیات مہیا کرائی جائیں گی۔ 732 کانسٹبلوں کو ہیڈکانسٹبل، اور 449 ہیڈکانسٹبلوں کو اسسٹنٹ سب انسپکٹر س کے طور پر ترقی دینے کیلئے احکامات جاری بھی کئے جاچکے ہیں۔ انہوںنے کہاکہ سینئر پولیس افسران کے گھروں پر پولیس کانسٹبلوں کو آڈرلی کے طور پر کام کرنے کا رواج برقرار رکھا جائے یا ختم کیا جائے، اس سلسلے میں انہوںنے سینئر افسران سے بات چیت کا سلسلہ شروع کیا ہے، اور ڈائرکٹر جنرل آف پولیس اوم پرکاش کو ہدایت دی ہے کہ تین ماہ کے اندر اس سلسلے میں رپورٹ پیش کی جائے ۔ رپورٹ ملنے کے بعد حکومت یہ قطعی فیصلہ کرے گی کہ یہ نظام باقی رکھا جائے یا نہیں۔ وزیر داخلہ نے بتایاکہ پولیس والوں کو کوارٹرس فراہم کرنے کیلئے رواں سال 11500 مکانات کی تعمیر کی جارہی ہے، ساتھ ہی پرانے وبوسیدہ کواٹرس کی تجدید ومرمت بھی شروع کی جارہی ہے۔ پولیس والوں کو راشن کی فراہمی میں پچھلے تین ماہ سے پریشانی کا اعتراف کرتے ہوئے وزیر داخلہ نے کہاکہ محکمۂ مالیات کی طرف سے اگر محکمۂ شہری رسد وخوراک فنڈز مہیا کرائے جائیں گے تو اس صورتحال سے نمٹا جاسکے گا۔اخباری کانفرنس میں داخلہ سکریٹری ، ایس کے پٹنائک ، ڈی جی پی اوم پرکاش ، وزیر داخلہ کے مشیر کیمپیا اور اڈیشنل ڈی جی پی پروین سود موجود تھے۔

TOPPOPULARRECENT