Monday , October 15 2018
Home / شہر کی خبریں / کرناٹک میں کانگریس کو دوبارہ اقتدار دلانے کا عہد

کرناٹک میں کانگریس کو دوبارہ اقتدار دلانے کا عہد

بی جے پی کی مدد کیلئے ووٹ کٹوا پالیسی کامیاب نہیں ہوگی ، محمد علی شبیر کی بنگلور کے رکن اسمبلی ضمیر احمد سے بات چیت
حیدرآباد ۔ 20 ۔ دسمبر : ( سیاست نیوز ) : قائد اپوزیشن تلنگانہ قانون ساز کونسل محمد علی شبیر نے کہا کہ مقامی جماعت کی ووٹ کٹوا پالیسی کرناٹک میں کامیاب نہیں ہوگی کانگریس پارٹی کرناٹک میں بھی بی جے پی کو دھول چٹاتے ہوئے اقتدار کو دوبارہ اپنے پاس رکھے گی حال ہی میں جنتا دل سے کانگریس میں شامل ہونے والے بنگلور کے رکن اسمبلی ضمیر احمد نے کانگریس کے 20 قائدین کے ساتھ حیدرآباد پہونچکر قائد اپوزیشن تلنگانہ قانون ساز کونسل محمد علی شبیر سے ملاقات کی اور تازہ سیاسی صورتحال پر تبادلہ خیال کرتے ہوئے 2018 کے دوران کرناٹک میں منعقد ہونے والے انتخابی مہم میں حصہ لینے کی اپیل کی ۔ جس پر محمد علی شبیر نے مثبت ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ اور دوسرے قائدین کرناٹک میں کانگریس کی انتخابی مہم میں حصہ لیں گے ۔ قائد اپوزیشن تلنگانہ قانون ساز کونسل نے کہا کہ انہیں باوثوق ذرائع سے اطلاع ملی ہے کہ حیدرآباد کی مقامی ووٹ کٹوا جماعت سیکولر ووٹرس کو منتشر کرنے اور فرقہ پرستوں کے لیے ماحول سازگار بنانے کے لیے کرناٹک کے انتخابی میدان میں اپنے حواریوں کو اتارنے کی کوشش کررہی ہے ۔ مگر ان کی یہ ناپاک کوشش کبھی کامیاب نہیں ہوگی کیوں کہ کانگریس کے نوجوان قائد راہول گاندھی کانگریس کی باگ دوڑ اپنے ہاتھ میں لے چکے ہیں اور گجرات میں وزیراعظم نریندر مودی کو بہت بڑا جھٹکا دے چکے ہیں یہ تو ابتداء ہے ۔ کرناٹک میں بی جے پی کو دھول چٹانے کی باری ہے ۔ بی جے پی نے ابھی تک غیر جمہوری طریقہ کار اپناتے ہوئے مختلف ریاستوں پر قبضہ کرچکی ہے اور رائے دہندوں میں ڈر و خوف پیدا کرنے کے لیے اس کی محاذی تنظیمیں ، آر ایس ایس وشوا ہندوپریشد سرگرم ہوچکی ہیں ۔ اس کا بھی مقابلہ کیا جائے گا ۔ جس طرح ناندیڑ کے مقامی انتخابات میں ووٹ کٹوا جماعت کو سبق سکھایا گیا ۔ اس طرح کرناٹک کے مسلم غالب علاقوں بالخصوص نظام اسٹیٹ میں شامل حلقوں کے لیے خصوصی حکمت عملی تیار کرتے ہوئے کام کیا جائے گا ۔ گجرات انتخابات سے جہاں وزیراعظم کا گراف گھٹا ہے وہیں قومی سطح پر کانگریس کے صدر راہول گاندھی کا وقار بلند ہوا ہے ۔ کئی سیاسی جماعتوں کے قائدین یہاں تک کہ این ڈی اے حلیفوں نے بھی اس کو تسلیم کیا ہے ۔ ملک کے عوام کو احساس ہوگیا کہ ملک میں صرف کانگریس ہی سیکولرازم کا تحفظ کرسکتی ہے ۔ کانگریس پارٹی نے دونوں تلگو ریاستوں میں مسلمانوں کو تعلیم اور ملازمتوں میں 4 فیصد تحفظات فراہم کیا ہے اور تلنگانہ میں بھی کانگریس کو مستحکم کرنے کے لیے بڑے پیمانے پر اقدامات کیے جارہے ہیں راہول گاندھی کی قیادت میں تلنگانہ میں بھی کانگریس پارٹی بھاری اکثریت سے کامیابی حاصل کرے گی ۔۔

Top Stories

TOPPOPULARRECENT