Tuesday , August 21 2018
Home / Top Stories / کرناٹک میں کانگریس کی کامیابی، حیدرآباد کا اہم رول

کرناٹک میں کانگریس کی کامیابی، حیدرآباد کا اہم رول

ارکان اسمبلی کیلئے ہوٹلوں کا حصول دشوار کن، محمد علی شبیر اور اتم کمار ریڈی کو تلخ تجربہ

کے دو اہم قائدین کا اہم رول رہا جنہوں نے ارکان اسمبلی کو انحراف سے بچانے کی کامیاب حکمت عملی تیار کی۔ غلام نبی آزاد کی منصوبہ بندی اور نئی دہلی سے احمد پٹیل کی مسلسل نگرانی کے سبب لمحہ آخر میں ارکان اسمبلی کو کیرالا کے بجائے حیدرآباد منتقل کردیا گیا جو کانگریس کی نظر میں محفوظ پناہ گاہ ہے۔ غلام نبی آزاد جو سابق میں کرناٹک اور متحدہ آندھرا پردیش کے انچارج کی حیثیت سے پارٹی کو برسراقتدار لانے میں اہم رول ادا کرچکے ہیں لہذا ہائی کمان نے انہیں کرناٹک بحران کے حل کی ذمہ داری دی کیونکہ وہ پارٹی میں منصوبہ بندی اور حکمت عملی کی تیاری میں شہرت رکھتے ہیں۔ غلام نبی آزاد کی کامیاب حکمت عملی کے نتیجہ میں کانگریس کے تمام ارکان اسمبلی متحد رہے اور انحراف کی کوششیں کامیاب نہیں ہوئیں۔ بنگلور میں اسمبلی کی کارروائی کے دوران 2 کانگریسی ارکان اچانک لاپتہ ہوگئے تھے جو بعد میں بی جے پی کے ایک لیڈر کی ہوٹل میں پائے گئے۔ غلام نبی آزاد جو بنگلور میں کیمپ کرتے ہوئے صورتحال پر نظر رکھے ہوئے تھے انہوں نے دونوں ارکان کو کانگریسی کیمپ میں واپس لانے میں کامیابی حاصل کی۔ یدی یورپا کے اسمبلی میں استعفی کے فوری بعد غلام نبی آزاد نے پردیش کانگریس کمیٹی کے قائدین اتم کمار ریڈی اور محمد علی شبیر کو مبارکباد پیش کی کہ انہوں نے ارکان اسمبلی کے قیام اور ان کی حفاظت کیلئے ہر ممکن اقدامات کئے تھے۔ گزشتہ دو دن کے دوران کئی ڈرامائی تبدیلیاں دیکھی گئیں۔ دو دن قبل رات تقریباً 3 بجے اتم کمار ریڈی اور محمد علی شبیر کو غلام نبی آزاد اور احمد پٹیل کا فون آیا اور اطلاع دی گئی کہ ارکان اسمبلی کوچی کے بجائے حیدرآباد آرہے ہیں۔ دونوں قائدین نے رات دیر گئے ہوٹلس کی تلاش شروع کی۔ ارکان اسمبلی کو ہوٹلس میں قیام کے سلسلہ میں کانگریس قائدین کو تلخ تجربہ سے گزرنا پڑا۔ ہوٹل مالکین پر نریندر مودی حکومت کا خوف اس قدر طاری تھا کہ کئی ہوٹلوں نے کمرے دینے سے انکار کردیا۔ دلچسپ بات تو یہ رہی کہ کانگریس سے تعلق رکھنے والے قائدین کی ہوٹلوں میں بھی کانگریس ارکان اسمبلی کو کمرے فراہم کرنے کیلئے بہانے بنائے گئے۔ بتایا جاتا ہے کہ سبی رام ریڈی کی ہوٹل پارک حیات میں یہ کہتے ہوئے کمرے نہیں دیئے گئے کہ ضرورت کے مطابق 60 کمرے بیک وقت دستیاب نہیں ہیں۔ دراصل ہوٹل مالکین پر مودی حکومت کا خوف واضح دکھائی دے رہا تھا۔ اس صورتحال سے بچنے کیلئے اتم کمار ریڈی اور محمد علی شبیر نے ہوٹل تاج کرشنا میں میریج پارٹی کے نام پر 120 کمرے بک کروادیئے۔ ہوٹل مالک کو جب ارکان اسمبلی کی آمد کا پتہ چلا تو انتظامیہ نے یہ کہتے ہوئے انکار کردیا کہ میریج پارٹی کے نام پر وہ ایم ایل ایز کو ٹہرنے کی اجازت نہیں دے سکتے۔ چونکہ ہوٹل میں پہلے بکنگ کرلی گئی تھی لہذا کانگریس قائدین نے انکار کی صورت میں قانونی کارروائی کا انتباہ دیا جس پر ہوٹل انتظامیہ نے کسی رعایت کے بغیر مکمل رقم جمع کرانے کی شرط رکھی۔ قائدین نے کسی طرح انتظام کرتے ہوئے 25 لاکھ روپئے جمع کرائے جس کے بعد کانگریس کے ارکان اسمبلی کو قیام کی اجازت دی گئی۔ محمد علی شبیر کو ہوٹل کے انتظامات کی ذمہ داری دی گئی تھی اور تمام ارکان اسمبلی کی نقل و حرکت پر نظر رکھنا اور ضرورت کی تکمیل کرنا ان کے ذمہ تھا۔ محمد علی شبیر سے غلام نبی آزاد اور احمد پٹیل مسلسل ربط میں رہے۔ سپریم کورٹ کی جانب سے آج اعتماد کا ووٹ حاصل کرنے کی ہدایت کے بعد کل رات 8 بجے کانگریس ارکان اسمبلی ہوٹل تاج کرشنا سے روانہ ہوئے۔ محمد علی شبیر کو اسکارٹ کرتے ہوئے کرنول کی سرحد تک چھوڑنے کی ذمہ داری دی گئی تھی۔ ہوٹل کے باہر میڈیا کو چکمہ دیتے ہوئے عقبی راستے سے ارکان اسمبلی کی بسوں کو نکالا گیا اور رات تقریباً 1:40 بجے ارکان اسمبلی کرنول سرحد پہنچے جہاں 20 منٹ چائے کا وقفہ دیا گیا۔ چائے نوشی کے بعد محمد علی شبیر حیدرآباد واپس ہوگئے۔ رات بھر انہیں ارکان اسمبلی کے موومنٹ کے سلسلہ میں غلام نبی آزاد اور احمد پٹیل کے فون آتے رہے۔ اسمبلی میں کامیابی کے بعد غلام نبی آزاد نے محمد علی شبیر کی تعریف کی اور کہا کہ جس طرح حیدرآباد میں ارکان اسمبلی کیلئے انتظامات کئے گئے اس کے باعث بی جے پی خرید و فروخت نہیں کرسکی۔بتایا جاتا ہے کہ جنتا دل سیکولر کے ارکان اسمبلی کے حیدرآباد میں قیام کا انتظام برسراقتدار ٹی آر ایس کی جانب سے کیا گیا تھا اگر حکومت کی تائید نہ ہوتی تو جے ڈی ایس ارکان کو بھی کسی ہوٹل میں جگہ نہ ملتی۔ حکومت نے رومس کا انتظام کیا جبکہ کرایہ جے ڈی ایس کی جانب سے ادا کیا گیا۔

TOPPOPULARRECENT