Monday , January 22 2018
Home / اداریہ / کرناٹک ‘ نفرت کی مہم کو فروغ

کرناٹک ‘ نفرت کی مہم کو فروغ

قافلہ پہنچے گا کیسے منزلِ مقصود پر
راہ برگر رہزنوں سے پیار کی باتیں کریں

کرناٹک ‘ نفرت کی مہم کو فروغ
پڑوسی ریاست کرناٹک میں اسمبلی انتخابات کے شیڈول کا اب بہت جلد اعلان ہوسکتا ہے ۔ ریاست میں جاریہ سال کے اوائل ہی میں اسمبلی انتخابات ہوسکتے ہیںاور ایسا لگتا ہے کہ سیاسی جماعتوں نے اس کیلئے اپنی تیاریوں کا آغاز بھی کردیا ہے ۔ ان کی تیاریاں انتخابات کا سامنا کرنے والے امیدواروں کا انتخاب یا پھر عوام میںپیش کرنے کیلئے کوئی ترقیاتی منصوبہ یا ایجنڈہ نہیں رہ گیا ہے بلکہ وہ صرف فرقہ پرستی اور نفرت انگیز مہم پر ہی اکتفا کرنا چاہتی ہیں۔ خاص طور پر بی جے پی کی جانب سے ریاست میں اقتدار حاصل کرنے کیلئے سماج میں نفرتیں پیدا کی جا رہی ہیں۔ بی جے پی کی یہ روایت رہی ہے کہ وہ ہر ریاست میں جہاں ہیں انتخابات ہونے والے ہوتے ہیں وہاں فرقہ پرستی اور نفرت انگیز مہم کو بڑھاوا دیتی ہے ۔ اس طرح کی بے شمار مثالیں ہمارے سامنے موجود ہیں۔ گجرات میں اسمبلی انتخابات کے دوران جس طرح سے پاکستان ‘ مسلم چیف منسٹر اور ایسے ہی مسائل کو اٹھایا گیا تھا وہ سب کے سامنے ہے۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ ملک کے وزیر اعظم نے محض پارٹی کے ایک معمولی کارکن کا رول ادا کرتے ہوئے ایسے مسائل کو ہوا دی تھی اور ایسے ریمارکس کئے تھے جن میں معمولی سے بھی سچائی یا صداقت نہیں تھی ۔ ہمارے سامنے اترپردیش کی مثال موجود ہے ۔ وہاں بھی اسمبلی انتخابات کے دوران ریاست کے ترقیاتی مسائل پر کوئی توجہ نہیں دی گئی بلکہ قبرستان اور شمشان جیسے ریمارکس کئے گئے ۔ یہ بھی کہا گیا کہ اگر عید پر برقی سربراہ کی جاتی ہے تو دیوالی پر بھی کی جانی چاہئے ۔ انتہائی افسوس کی بات یہ تھی کہ یہ ریمارکس بھی پارٹی کے کسی معمولی لیڈر یا ذمہ دار نے نہیں کئے تھے بلکہ ملک کے وزیر اعظم نے کئے تھے ۔ ایسا تاثر عام ہوتا جا رہا ہے کہ انتخابی ماحول میں نریندر مودی ملک کے وزیر اعظم کم اور پارٹی کے کارکن زیادہ ہوجاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ وہ ایسے ریمارکس کرجاتے ہیں جو فرقہ واریت کو ہوا دیتے ہیں اور یہ ہندوستان جیسے ملک کے وزیر اعظم کے عہدہ پر فائز شخص کو ذیب نہیںدیتے ۔ گذشتہ لوک سبھا انتخابات سے قبل اترپردیش میں مظفر نگر میں فرقہ وارانہ فسادات کو ہوا دی گئی تھی اور کیرانہ سے ہندووں کے نقل مقام کی فرضی کہانیاں پیش کی گئی تھیں۔
ملک کی تقریبا ہر اس ریاست میں جہاںا سمبلی انتخابات ہونے والے ہوتے ہیں وہاں بی جے پی کسی ترقیاتی منصوبے یا ایجنڈہ کو پیش کرنے اور عوام کی تائید حاصل کرنے کی بجائے فرقہ پرستی کو ہوا دی جاتی ہے ۔ کہیں مسلمانوں کی آبادی پر سوال پیدا ہوتا ہے تو کہیں گئو رکھشا کے نعرے دئے جاتے ہیں۔ کہیں لو جہاد کی بات کی جاتی ہے تو کہیں مسلمانوں کے داخلی مسائل کو ہوا دی جاتی ہے ۔ اب اترپردیش میں لاؤڈ اسپیکر کے استعمال کو فرقہ وارانہ رنگ دینے کی کوشش کی جا رہی ہے اور اس کا اصل نشانہ مساجد ہی ہوسکتی ہیں۔ کرناٹک میں اب بی جے پی کے ان تمام قائدین کی پریڈ شروع ہوچکی ہے جو مسلمانوں کو نشانہ بنانے اور ملک میں فرقہ وارانہ منافرت پھیلانے کیلئے شہرت رکھتے ہیں۔ یہ الگ بات ہے کہ یہ قائدین چیف منسٹر جیسے عہدہ پر بھی فائز ہوگئے ہیں لیکن وہ اپنی نفرت انگیز مہم کو ترک کرنے تیار نہیں ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ چیف منسٹر یو پی آدتیہ ناتھ اور بی جے پی کے صدر امیت شاہ جیسے قائدین کرناٹک میںسدارامیا حکومت کو مخالف ہندو قرار دینے لگے ہیں۔ ان قائدین کو یہ جواب دینے کی ضرورت ہے کہ کسی حکومت کے ہندو یا مسلمان ہونے پر بحث کی جانی چاہئے یا پھر کسی حکومت کے عوام کے حق میں بہتر یا ناقص ہونے پر تبصرے ہونے چاہئیں ؟ ۔ کسی حکومت کو اس کی کارکردگی کی اساس پر جانچنا ہی اصل پیمانہ ہونا چاہئے ۔
کرناٹک جنوبی ہند کی ایک اہم ریاست ہے ۔ یہاں بی جے پی ایک مرتبہ اقتدار پر فائز ہوچکی تھی تاہم وہ عوام کی تائید سے محروم ہوگئی ۔ بی جے پی ملک کی بیشتر ریاستوں میں اقتدار حاصل کرچکی ہے لیکن جنوب میں آج بھی اس کے قدم نہیں جم سکے ہیں۔ پارٹی چاہتی ہے کہ جنوب میں بھی اسے شمالی ہند کی طرح استحکام حاصل ہو۔ اسی مقصد سے کرناٹک کو باب الداخلہ بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے ۔ کیرالا میں اس کی کوششیں ناکام ہوگئیں۔ تلنگانہ میں وہ اثر انداز نہیں ہو پار ہی ہے ۔ آندھرا میں اس کا وجود غیر مستحکم ہے ۔ ایسے میں کرناٹک کو نشانہ بناتے ہوئے یہاں اقتدار حاصل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے اور اس کیلئے فرقہ پرستی کے ایجنڈہ ہی کا سہارا لیا جارہا ہے ۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ریاست کے عوام بی جے پی کے اس ہتھکنڈہ کو سمجھیں اور ترقی کو بنیاد بناکر کسی بھی پارٹی کے ایجنڈہ اور منصوبہ کی بنیاد پر اس کی تائید کریں۔

TOPPOPULARRECENT