Monday , July 16 2018
Home / شہر کی خبریں / کرناٹک کے انتخابی نتائج ، بی جے پی کے زوال کا پیش خیمہ ثابت ہوں گے

کرناٹک کے انتخابی نتائج ، بی جے پی کے زوال کا پیش خیمہ ثابت ہوں گے

عوام فرقہ پرست پارٹیوں کو یکسر مسترد کردیں گے ، جناب روشن بیگ سے خصوصی انٹرویو
محمدمبشرالدین خرم
حیدرآباد۔7نومبر۔ کرناٹک کے انتخابی نتائج بھارتیہ جنتا پارٹی کے زوال کا پیش خیمہ ثابت ہوں گے اور کرناٹک کے عوام بھارتیہ جنتا پارٹی و دیگر فرقہ پرست سیاسی جماعتوں کو یکسر مسترد کرتے ہوئے سیکولر جماعت کی کامیابی کو ممکن بنائیں گے۔ جناب آر روشن بیگ ریاستی وزیر شہری ترقیات کرناٹک نے خصوصی انٹرویو کے دوران یہ بات کہی ۔ انہوں نے بتایا کہ کرناٹک میں انتخابات کے اعلان سے قبل بھارتیہ جنتا پارٹی نے انتخابی سرگرمیاں شروع کرتے ہوئے عوام کی نبض ٹٹولنی شروع کردی ہے اور انہیں اس بات کا اندازہ ہوچکا ہے کہ کرناٹک میں بی جے پی کو کوئی خاطر خواہ کامیابی حاصل نہیں ہوگی بلکہ حکومت سازی کا تو بھارتیہ جنتا پارٹی نے تصور کرنا بھی چھوڑ دیا ہے۔ جناب روشن بیگ نے کہا کہ ریاست کرناٹک کے عوام فرقہ پرست طاقتوں کو مسترد کرچکے ہیں اور اس بات کا اندازہ بی جے پی قیادت کو ہوچکا ہے اسی لیئے اب اس بات کی کوشش کی جا رہی ہے کہ فرقہ پرستی کو ہوا دیتے ہوئے ایسی سیاسی جماعتوں کا استعمال کیا جائے جو ہندو۔مسلم منافرت پیدا کرے اور بھارتیہ جنتا پارٹی کو اس کا راست فائدہ پہنچے۔ انہوں نے بتایاکہ امیت شاہ کی پریورتن ریالیوں کی ناکامیوں کے بعد اب ٹیپو سلطان شہیدؒ کے یوم پیدائش کو نشانہ بناتے ہوئے اکثریتی طبقہ کو یہ تاثر دینے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ حکومت اقلیت نواز پالیسی اختیار کئے ہوئے ہے۔ جناب آر روشن بیگ نے کہا کہ بھارتیہ جنتا پارٹی کرناٹک انتخابات میں کامیابی کے حصول کے لئے کئی حربے اختیار کر رہی ہے جس میں آر ایس ایس کی مدد بھی لی جا رہی ہے ۔ انہوں نے بتایا کہ 2مرکزی وزارء کو بھارتیہ جنتا پارٹی نے کرناٹک کے امور کی نگرانی تفویض کی ہے اس کے باوجود کرناٹک میں عوامی تائید کے حصول میں ہونے والی ناکامیوں سے بی جے پی اعلی قیادت بوکھلاہٹ کا شکار ہے۔ اسی لئے کرناٹک انتخابات کو فرقہ وارانہ خطوط پر کروانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ ریاستی وزیر کرناٹک نے کہا کہ بھارتیہ جنتا پارٹی کا یہ خواب کبھی شرمندہ تعبیر نہیں ہوگا کیونکہ انہیں سیکولر عوام کی تائید حاصل نہیں ہوسکتی۔ انہوں نے حکومت کرناٹک کی فلاح و بہبود اسکیمات کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا حکومت کرناٹک نے گذشتہ انتخابات کے بعد عوام کی فلاح و بہبود کے لئے جو کارنامے انجام دیئے ہیں اس کے سبب عوام کانگریس کو دوبارہ منتخب کریں گے۔ انہو ںنے بتایا کہ کرناٹک کانگریس نے گذشتہ انتخابات کے دوران بھی جبکہ ملک میں بی جے پی اور فرقہ پرست قوتوں کی لہر کی باتیں کہی جا رہی تھیں اس وقت کامیابی حاصل کی جو کہ کرناٹک کے عوام کی سیکولر اور ترقی پسند ذہنیت کی عکاس کامیابی تھی۔ جناب روشن بیگ نے کہا کہ جس طرح بہار اور اترپردیش میں مسلم اور سیکولر ووٹوں کی تقسیم اور اکثریتی ووٹ کو متحد کرنے کیلئے بھارتیہ جنتا پارٹی نے اپنے مخفی سیاسی آلۂ کاروں کو استعمال کیاتھا اسی طرح کرناٹک میںبھی ان کے امیدوار میدان میں اتارنے کے متعلق منصوبہ بندی کی جا رہی ہے لیکن و ہ اس بات کا چیالنج کرتے ہیں کہ جس طرح بھارتیہ جنتا پارٹی کے ایجنٹوں کو بہار اور اترپردیش میں ناکامی کا سامنا کرنا پڑا وہی صورتحال کرناٹک میں بھی پیدا ہوگی ۔ انہوں نے کہا حیدرآباد سے تعلق رکھنے والی سیاسی جماعت کو کرناٹک میں ایک نشست پر بھی کامیابی حاصل ہوتی ہے تو وہ اپنی سیاسی زندگی سے کنارہ کشی اختیار کرلیں گے۔ روشن بیگ نے مقامی جماعت کے قائدین کو مشورہ دیا کہ وہ حیدرآباد میں اپنی نشستوں کی حفاظت کی فکر کریں کیونکہ کرناٹک میں فرقہ پرستی کا سامنا کرنے کیلئے کانگریس مستحکم ہے اور جانتی ہے کہ فرقہ پرستوں کا کس طرح سے جواب دیا جائے۔ انہوں نے بتایا کہ بھارتیہ جنتا پارٹی نے کرناٹک انتخابات میں کامیابی کے حصول کیلئے آر ایس ایس کی خدمات حاصل کرنے کی مثالیں پیش کرتے ہوئے کہا کہ عیدالاضحی کے موقع پر حالات کو بگاڑنے کی کوشش کی گئی لیکن حکومت نے ان حالات پر منظم طریقہ سے قابو پایا اس کے علاوہ گذشتہ تین برسوں سے 10نومبر کو ٹیپو سلطان شہید ؒ کے یوم پیدائش کا انعقاد عمل میں لایاجارہا ہے اور اس سال انتخابات کے پیش نظر ان تقاریب کو بھی فرقہ وارانہ رنگ دینے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ جناب روشن بیگ نے کہا کہ شمالی ہند میں خوف ودہشت کا ماحول پیدا کرتے ہوئے ہندستان بھر میں حالات کو بگاڑنے کی کوشش کی گئی اور بی جے پی یہ تصور کر رہی ہے کہ کرناٹک کو جنوبی ہند میں داخلہ کا راستہ بنایا جائے لیکن کانگریس اسی محاذ پر ان فرقہ پرستوں کو شکست فاش دیتے ہوئے جنوبی ہند میں بی جے پی کے بڑھتے قدم روکنے کی بھرپور کوشش کرے گی۔انہوں نے فہرست رائے دہندگان سے مسلم رائے دہندوں کے نامو ں کو نکالنے کیلئے کی جانے والی سازشوں کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ مسلم رائے دہندوں کو فہرست رائے دہندگان کا جائزہ لیتے ہوئے اس بات کی طمانیت حاصل کرنی چاہئے کہ ان کے نام فہرست رائے دہندگان میں موجود ہیںکیونکہ آر ایس ایس اس محاذ پر بھی سرگرم رول ادا کرتے ہوئے مسلم ناموں کو حذف کرنے کی مہم چلا رہی ہے اور خاموشی سے یہ کوششیں کی جا رہی ہیں۔جناب روشن بیگ نے کہا کہ کرناٹک میں کانگریس نے مسلمانوں کی خدمت کا جو ریکارڈ قائم کیا ہے اس کی کہیں نظیر نہیں ملتی اسی لئے مسلمانوں کا کانگریس پر اٹو ٹ اعتماد ہے ۔مسلمانوں کے علاوہ دیگر طبقات بھی کانگریس کی تائید کے ذریعہ ملک کے شیرازے کو بکھیرنے سے بچانے کی کوشش میں ہیں جبکہ بی جے پی بعض مفادات حاصلہ کے ذریعہ مسلمانوں کے ووٹوں کی تقسیم کے ذریعہ کامیابی کا خواب دیکھ رہی ہے۔

TOPPOPULARRECENT