Monday , August 20 2018
Home / Top Stories / کرناٹک کے بعد تلنگانہ اور آندھراپردیش اگلا نشانہ

کرناٹک کے بعد تلنگانہ اور آندھراپردیش اگلا نشانہ

ٹی آر ایس اور تلگو دیشم کی مشکلات، کے سی آر اور نائیڈو فکرمند

حیدرآباد ۔ 15 ۔ مئی (سیاست نیوز) کرناٹک اسمبلی نتائج نے تلنگانہ اور آندھراپردیش کی برسر اقتدار پارٹیوں کیلئے مشکلات پیدا کردی ہیں۔ ٹی آر ایس اور تلگو دیشم نے کرناٹک میں بی جے پی کی مخالفت کی تھی ۔ اس کے باوجود تلگو رائے دہندوں کے علاقوں میں بی جے پی نے پہلے سے بہتر مظاہرہ کیا۔ ٹی آر ایس کے سربراہ کے چندر شیکھر راؤ نے جنتا دل سیکولر کی تائید کی جس نے تیسرے محاذ کی تشکیل میں تعاون کا یقین دلایا تھا ۔ کے سی آر نے انتخابی مہم میں حصہ لینے کا تیقن دیا لیکن انھوں نے پھر ٹی آر ایس کے کسی قائد نے جنتا دل سیکولر کی انتخابی مہم میں حصہ نہیں لیا۔ دوسری طرف این چندرا بابو نائیڈو نے آندھراپردیش سے ناانصافی کی شکایت کرتے ہوئے تلگو رائے دہندوں سے اپیل کی تھی کہ وہ بی جے پی کے حق میں ووٹ نہ دیں۔ تلگو دیشم نے کس پارٹی کی تائید کی جائے ، اس کا اشارہ نہیں دیا۔ اب جبکہ انتخابی نتائج منظر عام پر آچکے ہیں ، دونوں پارٹیوں کا کرناٹک میں کوئی خاص اثر نہیں دیکھا گیا۔ حیدرآباد کرناٹک جہاں اسمبلی کی 40 نشستیں ہیں، 20 سے زائد نشستوں پر بی جے پی کو کامیابی حاصل ہوئی ۔ یہ وہ علاقے ہیں جہاں تلگو رائے دہندوں کی قابل لحاظ تعداد بستی ہے۔ اس علاقہ میں 2013 ء میں بی جے پی کو صرف 6 نشستیں حاصل ہوئی تھی۔ بی جے پی کے قومی جنرل سکریٹری رام مادھو نے کہا کہ تلگو رائے دہندوں نے بی جے پی کی تائید کرتے ہوئے چندرا بابو نائیڈو کے منصوبوں کو ناکام کردیا ہے۔ عوام نے نائیڈو کی سیاست کو مسترد کردیا اور جنوبی ہند میں بی جے پی کی پیشقدمی کا آغاز ہوچکا ہے۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ کرناٹک میں بی جے پی کی کامیابی سے تلنگانہ اور آندھراپردیش میں بی جے پی کے بہتر مظاہرہ کے امکانات روشن ہوجائیں گے۔ دونوں ریاستوں میں بی جے پی کا موقف مستحکم ہوگا اور کیڈر کے حوصلے بلند ہوں گے۔ بی جے پی کے قومی صدر امیت شاہ نے کرناٹک کے بعد تلنگانہ اور آندھراپردیش کو نشانہ پر رکھا ہے۔ وہ جون کے پہلے ہفتہ میں تلنگانہ کا ایک روزہ دورہ کریں گے جس میں پارٹی کے تنظیمی استحکام سے متعلق اہم فیصلے کئے جائیں گے ۔ بی جے پی کی کامیابی نے کے سی آر اور چندرا بابو نائیڈو کے مسائل میں اضافہ کردیا ہے۔ یہ دونوں پارٹیاں مرکز کی مخالفت کی تیاری کر رہی تھیں ۔ کے سی آر نے تیسرے محاذ کا نعرہ لگایا جبکہ چندرا بابو نائیڈو نے پارلیمنٹ میں حکومت کے خلاف تحریک عدم اعتماد پیش کی تھی ۔ گزشتہ دنوں تروپتی میں امیت شاہ کے قافلہ پر تلگو دیشم کارکنوں نے سنگباری کی تھی۔ ان واقعات کے پس منظر میں امکان ہے کہ امیت شاہ دونوں ریاستوں میں پارٹی کو مستحکم کرنے پر خصوصی توجہ دیں گے۔ اسی دوران ٹی آر ایس کے ذرائع نے بتایا کہ جنتا دل سیکولر کی تائید کے باوجود اس کی نشستوں میں کمی سے کے سی آر مایوس ہیں۔ انہیں امید تھی کہ جنتا دل سیکولر اپنی نشستوں کی تعداد 40 سے بڑھانے میں کامیاب ہوجائے گی لیکن نتائج میں اس کی نشستیں دو گھٹ کر 38 ہوچکی ہیں۔ کے سی آر اور ان کے ساتھیوں کو 2019 انتخابات کے سلسلہ میں یہ فکر لاحق ہوچکی ہے کہ کانگریس سے زیادہ بی جے پی تلنگانہ میں ان کے لئے خطرہ بن سکتی ہے ۔ بی جے پی نے بنیادی سطح سے پارٹی کے استحکام کیلئے اپنے کیڈر کو متحرک کردیا ۔ بتایا جاتا ہے کہ گزشتہ 6 ماہ سے آر ایس ایس کا کیڈر دیہی علاقوں میں بی جے پی کے حق میں مہم چلا رہا ہے۔ تلنگانہ میں 2019 ء میں اقتدار حاصل کرنے کی جدوجہد میں مصروف کانگریس پارٹی کو بھی کرناٹک کے نتائج سے جھٹکا لگا۔ اگر کرناٹک میں کانگریس اقتدار بچانے میں کامیاب ہوتی تو اس کے مثبت اثرات تلنگانہ پر پڑسکتے تھے لیکن کرناٹک میں اقتدار سے محرومی نے پردیش کانگریس کمیٹی قائدین کو مایوس کردیا ہے۔ کانگریس نے ٹی آر ایس حکومت کے خلاف بس یاترا کے ذریعہ مہم کا آغاز کیا تھا۔ کانگریس قائدین پرامید تھے کہ کرناٹک میں دوبارہ کامیابی سے تلنگانہ میں پارٹی کو فائدہ ہوگا لیکن اب کرناٹک کے نتائج اور بی جے پی کی کامیابی کے تسلسل نے جنوبی ہند کی دونوں ریاستوں کی حکومتوں کو تشویش میں مبتلا کردیا ہے۔

TOPPOPULARRECENT