Tuesday , December 12 2017
Home / Top Stories / کرناٹک کے مسلمانوں نے کانگریس کے خلاف جانے اور اے ائی ایم ائی ایم ‘ ایس ڈی پی ائی کی حمایت کرنے والوں کے سماجی بائیکاٹ کا دیاانتباہ

کرناٹک کے مسلمانوں نے کانگریس کے خلاف جانے اور اے ائی ایم ائی ایم ‘ ایس ڈی پی ائی کی حمایت کرنے والوں کے سماجی بائیکاٹ کا دیاانتباہ

بنگلورو۔سابق عہدیداروں اور مسلم سماج کے قائدین نے ایک انتہائی سخت اقدام اٹھاتے ہوئے اعلان کیاہے کہ وہ کرناٹک میں کانگریس کے متعلق نرم رویہ رکھتے ہیں اور اگرکوئی کل ہند مجلس اتحاد المسلمین ( اے ائی ایم ائی ایم) اور سوشیل ڈیموکرٹیک پارٹی آف انڈیا( ایس ڈی پی ائی) یا پھر جنتا دل ( یو) کے متعلق حمایت کی بات کرتا ہے تو اس کاسماجی بائیکاٹ کیاجائے گا۔

دکن کرانیکل میں شائع خبر کے مطابق دودن قبل مسلم قائدین اور سابق مسلم افسروں کے ایک اجلاس منعقد ہوا جس میں مسلمانوں ووٹوں کو تقسیم سے بچانے کے متعلق پروگرام کو قطعیت دی گئی۔

خبر کے مطابق جن لوگوں نے اجلاس میں شرکت کی ان کا احساس ہے کہ کسی بھی صورت میں مسلمانوں کے ووٹوں کو تقسیم ہونے سے بچانا چاہئے کہ کیونکہ تقسیم کا راست فائدہ بی جے پی کو ہوگا۔مسلمان لیڈروں کی بنگلور سے تعلق رکھنے والوں کی کثیرتعداد کے علاوہ شیو ا موگ‘ کولار ‘ ٹمکارواور چترادرگا سے کچھ مسلمان اس اجلا س شریک ہوئی او رمستقبل کی حکمت عملی تیارکی۔

اجلا س میںیہ بھی فیصلہ لیاگیا ہے کانگریس کی حمایت میں سارے ملک سے مذہبی رہنماؤں کو بھی مدعو کیاجائے گا۔ غیرمصدقہ ذرائع کی خبر ہے کہ کانگریس کے ایک بڑے مسلم لیڈر اس مہم کے پیچھے ہیں۔اجلاس کی وجوہات کا حالیہ دنوں میں ایس ڈی پی ائی نے ایک ریالی منعقد کی تھی جس میں ایک لاکھ کے قریب لوگوں نے شرکت کی۔

ذرائع کی خبر ہے کہ ’’ ایس ڈی پی ائی 60سیٹوں پر جبکہ حیدرآباد کی ایم ائی ایم 40اسمبلی سیٹوں پر مقابلہ کریگی۔ جس کی وجہہ سے کانگریس کے اقلیتی ووٹ تقسیم ہوجائیں گے جو اسکے کے لئے تشویش کی بات ہے‘‘۔ کرناٹک میں اسمبلی انتخابات2018اپریل میں ہونے والے ہیں۔

ریاست کرناٹک میں مسلمانوں کی آبادی ایک اندازے کے مطابق 12.91فیصد ہے۔ وہیں پر ریاست کے ہرضلع میں مسلمانوں کی کچھ نہ کچھ آبادی موجود ہے۔بالخصوص ان علاقوں میں جہاں پر سلاطین حیدرآباد کی حکومت تھی جیسے گلبرگہ‘ بیدر‘ بیجا پور‘ رائچور اور دھرواڑ شامل ہیں

TOPPOPULARRECENT