کرناٹک کے نتائج کے بعدمجلس کا موقف کیا رہے گا ؟

جے ڈی ایس پر عوام کی نظریں، کمار سوامی چیف منسٹر کے عہدہ کے خواہاں
حیدرآباد ۔ 14 ۔ مئی (سیاست نیوز) کرناٹک اسمبلی انتخابات کے نتائج کو صرف چند گھنٹے باقی ہیں اور میڈیا کے مختلف گوشوں میں امکانی نتائج کے بارے میں قیاس آرائیوں کا سلسلہ جاری ہے۔ سیاسی مبصرین نے بھی کرناٹک کے نتائج پر جنتا دل سیکولر کے رول کے بارے میں اندازے قائم کرتے ہوئے بادشاہ گر کے موقف کے امکانات کو مسترد نہیں کیا۔ اگزٹ پول نتائج بھلے ہی کسی ایک پارٹی کے حق میں نہ ہوں لیکن معلق اسمبلی کی صورت میں جنتادل سیکولر کی تائید کسی بھی پارٹی کیلئے ضروری اور اہمیت کی حامل رہے گی ۔ انتخابی مہم کے دوران جنتا دل سیکولر کو ٹی آر ایس اور مجلس کی تائید کے بعد ان اطلاعات کو تقویت حاصل ہوگئی تھی کہ سیکولر ووٹ تقسیم کرنے کیلئے ان جماعتوں نے جنتادل سیکولر کا ساتھ دیا ۔ بی جے پی کی بالواسطہ تائید کیلئے ٹی آر ایس اور اس کی جماعت نے کرناٹک کی سیاست میں مداخلت کی کوشش کی ۔ ٹی آر ایس کی جانب سے اگرچہ انتخابی مہم میں حصہ نہیں لیا گیا لیکن مجلس کے صدر نے بنگلور اور دیگر مقامات پر جنتا دل سیکولر کی انتخابی ریالیوں سے خطاب کیا ۔ سیکولر ووٹ کی تقسیم کی کوششوں سے ناراض مقامی رائے دہندوں نے جنتا دل سیکولر اور اس کی تائیدی جماعتوں سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ اس بات کی ضمانت دیں کہ معلق اسمبلی کی صورت میں بی جے پی کی تائید نہیں کی جا ئے گی۔ جنتا دل سیکولر کے سرپرست اور سابق وزیراعظم ایچ ڈی دیوے گوڑا نے ایک مرتبہ وضاحت کی کوشش کی کہ معلق اسمبلی کی صورتحال میں وہ بی جے پی کی تائید کے خلاف ہیں لیکن ان کے فرزند ایچ ڈی کمارا سوامی جن کی نظریں چیف منسٹر کی کرسی پر ہیں، انہوں نے تاحال بی جے پی کی تائید کے امکانات کو کھلا رکھا ۔ اطلاعات کے مطابق اگزٹ پول کے فوری بعد کمارا سوامی نے اپنے حامیوں کے ساتھ اجلاس منعقد کرتے ہوئے حکمت عملی پر غور کیا ۔ وہ چاہتے ہیں کہ جو بھی پارٹی انہیں چیف منسٹر کے عہدہ کا پیشکش کرے گی ، اس کی تائید کی جائے گی ۔ نتائج میں اگر کانگریس واحد بڑی جماعت کے طور پر ابھرتی ہے تب بھی بی جے پی اس بات کی کوشش کرے گی کہ جنتا دل سیکولر کی تائید سے حکومت تشکیل دیں۔ جس طرح گوا میں کانگریس بڑی جماعت ہونے کے باوجود بی جے پی نے حکومت بنائی ، اسی طرح کرناٹک کے لئے بھی منصوبہ بندی کی گئی ہے۔ اگر جنتا دل سیکولر تشکیل حکومت کے لئے بی جے پی سے ہاتھ ملاتی ہے تو اس وقت سیکولرازم کے دعویدار ٹی آر ایس اور مجلس کا کیا موقف ہوگا جنہوں نے اس پارٹی کی تائید کی تھی ۔ کرناٹک کے عوام کو جنتا دل سیکولر کے سیکولرازم کے دعویٰ پر اعتبار نہیں ہے اور وہ نتائج کے بعد اس کی تائید کرنے والوں سے سوال کرنا چاہتے ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ جنتا دل سیکولر کی تائید کرنے والی جماعتوں بالخصوص مجلس کے صدر نے انتخابی مہم کے دوران اس بات کی ضمانت نہیں دی کہ معلق اسمبلی کی صورت میں جنتادل سیکولر کسی بھی قیمت پر بی جے پی کے ساتھ نہیں جائے گی ۔ آثار و قرائین کے اعتبار سے ایچ ڈی کمار سوامی سے کچھ بھی توقع کی جاسکتی ہے ۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ مسلمانوں کے ووٹ جنتا دل سیکولر کو دلانے کیلئے جس طرح مہم چلائی گئی تھی ، بی جے پی سے اتحاد کی صورت میں کیا مجلس اخلاقی ذمہ داری قبول کرے گی ؟ اگر واقعی سیکولر ووٹ تقسیم کرنے کا کوئی منشاء نہیں تھا تو پھر کرناٹک کے مسلمان حیدرآباد کی جماعت سے مطالبہ کرسکتے ہیں کہ وہ اخلافی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے پارلیمنٹ اور اسمبلی کی نشستوں سے استعفیٰ دیدیں۔ اترپردیش ، بہار اور مہاراشٹر ا میں سیکولر ووٹوں کی تقسیم کے ذریعہ جس طرح بی جے پی کو فائدہ پہنچانے کی کوشش کی گئی، اس سے کرناٹک کے عوام چوکس تھے لیکن مجلس کے صدر نے جنتا دل سیکولر کے حق میں انتخابی مہم چلا کر وہی کام کیا جو بی جے پی چاہتی تھی ۔ دیکھنا یہ ہے کہ نتائج کے بعد کرناٹک کا سیاسی منظر کیا رہے گا ۔ اگر جنتا دل سیکولر بی جے پی کے ساتھ جاتی ہے تو مسلمان اور دیگر سیکولر عوام ان پارٹیوں سے ضرور سوال کریں گے جنہوں نے ووٹ کی تقسیم میں اہم رول ادا کیا۔

TOPPOPULARRECENT