Sunday , November 19 2017
Home / سیاسیات / کرناٹک کے وزیر تعلیم تنویر سیٹھ کے استعفیٰ کا مطالبہ مسترد

کرناٹک کے وزیر تعلیم تنویر سیٹھ کے استعفیٰ کا مطالبہ مسترد

اسمبلی میں چیف منسٹر اور اپوزیشن لیڈر میں لفظی جھڑپ
بیلگاوی (کرناٹک) 3 ڈسمبر (سیاست ڈاٹ کام) کرناٹک قانون ساز اسمبلی آج متواتر دوسرے دن بھی اپوزیشن کے احتجاج سے دہل گئی جبکہ بی جے پی نے ایک عوامی تقریب میں موبائیل فون پر مخرب اخلاق تصاویر دیکھتے ہوئے ٹی وی کیمرہ میں پکڑے جانے پر ریاستی وزیر تنویر سیٹھ سے استعفیٰ کا مطالبہ کیا ہے۔ تاہم چیف منسٹر سدرامیا نے تنویر سیٹھ کے استعفیٰ کو خارج از امکان قرار دیا اور الزام عائد کیاکہ بی جے پی ایک غیر اہم مسئلہ پر انھیں (سیٹھ) نشانہ بنا رہی ہے کیوں کہ وہ اقلیتی فرقہ سے تعلق رکھتے ہیں۔ چیف منسٹر کے ردعمل کو تحکمانہ اور تکبرانہ قرار دیتے ہوئے بی جے پی نے احتجاج جاری رکھتے ہوئے حکومت اور تنویر سیٹھ کے خلاف نعرے بلند کئے۔ ایوان میں مسلسل شور شرابہ اور افراتفری پر اسپیکر کے بی کولیواؤ نے اجلاس کو غیر معینہ مدت کے لئے ملتوی کردیا۔ اس طرح اسمبلی کا 10 روزہ سرمائی اجلاس آج اختتام پذیر ہوگیا۔ قبل ازیں ایوان کی کارروائی شروع ہوتے ہی بی جے پی ارکان نے وسط میں پہنچ کر نعرے بلند کئے اور تنویر سیٹھ سے استعفیٰ کا مطالبہ کیا۔ واضح رہے کہ وزیر ثانوی و تحتانوی تعلیم تنویر سیٹھ 10 نومبر کو اُس وقت تنامعہ میں پھنس گئے جب انھوں نے ضلع رائچور میں ٹیپو سلطان کی یوم پیدائش تقریب میں اپنے موبائیل پر قابل اعتراض تصاویر دیکھتے ہوئے پکڑے گئے اور یہ مناظر ایک ٹیلی ویژن چیانل نے منظر عام پر لایا تھا۔ اپوزیشن بی جے پی لیڈر جگدیش شیٹر نے بتایا کہ ایک عوامی تقریب میں فحش تصاویر دیکھنے پر وزیر تعلیم سے استعفیٰ کا مطالبہ کیا جارہا ہے۔ کیا اس حکومت میں اخلاقیات ہے جوکہ ایک وزیر کی بیجا مدافعت کررہی ہے۔ اپوزیشن کے الزام پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے چیف منسٹر سدارامیا نے کہاکہ بی جے پی تنازعات پیدا کرنے میں ماہر ہے اور اب ایک غیر اہم مسئلہ کو تنازعہ بنانے کی کوشش میں ہے جوکہ بعید از حقیقت ہے۔ تنویر سیٹھ کو معصوم قرار دیتے ہوئے انھوں نے کہاکہ بی جے پی کو یہ اخلاقی حق نہیں ہے کہ وزیر کے استعفیٰ کا مطالبہ کرے جبکہ ان کے استعفیٰ کا سوال ہی نہیں پیدا ہوتا اور ان کے استعفیٰ کا مطالبہ سیاسی شعبدہ بازی کے سوا کچھ اور نہیں ہے۔ جوابی حملہ کرتے ہوئے جگدیش شیٹر نے کہاکہ چیف منسٹر غیر اخلاقیات کی تائید کررہے ہیں۔ سدارامیا نے کہاکہ وہ اس بات کے قائل ہیں کہ تنویر سیٹھ نے کوئی غلط کام نہیں کیا ہوگا۔ لیکن سی آئی کی سائبر کرائم برانچ کو ہدایت دی گئی ہے کہ اس معاملہ کی تحقیقات کریں اور رپورٹ وصول ہونے کے بعد ضروری کارروائی کی جائے گی جس پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے بی جے پی نے احتجاج کا سلسلہ جاری رکھا۔ بالآخر اسپیکر نے ایوان کی کارروائی کو 10 منٹ کے لئے ملتوی کردیا۔ ایوان کی کارروائی شروع ہونے کے بعد بی جے پی ارکان کے وسط میں پہنچ کر احتجاج کرنے پر افراتفری کی صورتحال پیدا ہوگئی۔ اسپیکر نے بعض اہم معاملات سے نمٹنے کے بعد غیر معینہ مدت کے لئے اجلاس ملتوی کردیا۔

TOPPOPULARRECENT