Wednesday , July 18 2018
Home / Top Stories / کرناٹک ۔ یدوراپا کو ایوان میں اپنی طاقت کا مظاہرہ کرنے کے لئے پندہ دن کا وقت ملا۔حلف برداری کے بعد خرید وفروخت کاکھیل شروع

کرناٹک ۔ یدوراپا کو ایوان میں اپنی طاقت کا مظاہرہ کرنے کے لئے پندہ دن کا وقت ملا۔حلف برداری کے بعد خرید وفروخت کاکھیل شروع

نئی دہلی۔ سپریم کورٹ نے چہارشنبہ کی رات کو نصف شب کے بعد سنوائی کرتے ہوئے یہ ثابت کردیا کہ عدالت کے دروازے کسی بھی وقت ہندوستانی عوام کے لئے کھلے ہیں۔

دراصل کانگریس پارٹی نے سپریم کورٹ کے رجسٹرار کو چہارشنبہ کی رات نو بجے ایک درخواست پیش کرتے ہوئے کہاکہ تھا کہ وہ کرناٹک گورنر کی جانب سے عجلت میں یدوراپا کو حکومت بنانے کے لئے کی گئی پیشکش کے خلاف ہیں اور اس کو غیر جمہوری اقدام مانتے ہیں اور اس ضمن میں آج رات ہی سنوائی کے ذریعہ گورنر کی فیصلے کے خلاف عدالت کی کاروائی چاہتے ہیں۔

کانگریس پارٹی کی جانب سے پارٹی کے ترجمان وسینئر ایڈوکیٹ ابھیشیک منوسنگھوی عدالت میں پیش ہوئے اور انہو ں نے کرناٹک گورنر وجوبھائی والا کے فیصلے کو چیالنج کرتے ہوئے کہاکہ جے ڈی ( ایس) او رکانگریس ریاست کی سب سے بڑی پارٹی ہیں اس کے باوجود گورنر نے یدوراپا کو حکومت تشکیل دینے کی دعوت دیتے ہوئے اپنے عہدے کے دستوری مرعات کا استحصال کیاہے۔ نصف شب کے بعد کانگریس کی درخواست پر سنوائی شروع ہوئی

۔ چیف جسٹس آف انڈیا دیپک مشرا کی قیادت میں سپریم کورٹ کی بنچ نے گورنر کے فیصلے کو تبدیل کرنے سے صاف انکار کرتے ہوئے کہاکہ گورنر وجو بھائی والا نے اپنے دستوری اختیار کے تحت یہ فیصلہ سنایا ہے اور اس کو تبدیل کرنے کے ہم مجاز نہیں ہیں۔

مگر بنچ نے مکل روہتگی جو بی جے پی کے وکیل کی حیثیت سے عدالت میں پیش ائے ہوئے تھے ان سے پوچھا کہ اگر بی جے پی کے جادوائی اعداد نہیں تو وہ کس طرح ایوان میں اپنی طاقت کامظاہرہ کریگی۔

جس پر مکل روہتگی نے کچھ بھی کہنے سے انکار کردیا۔ صبح تقریبا 5بجے تک عدالت میں کاروائی چلتی رہی ۔ مگر عدالت میں پیش ائی بحث سے یہ بات تو صاف ہوگئی ہے کہ اب ملک کی سیاست میں ایم ایل ایز‘ اور سیاسی قائدین کی خرید وفروخت کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں ہے۔

راجیہ سبھا الیکشن کے دوران گجرات میں کانگریس اراکین اسمبلی کی کراس ووٹنگ کے سبب احمد پٹیل شکست فاش ہوجاتے مگر کانگریس نے سپریم کورٹ کا دروازہ کھٹکٹھایا اور جیت حاصل کی ۔ اسی طرح ہارس ٹریڈنگ اب ملک کی سیاست میں تیزی کے ساتھ پھیلتا جارہا ہے۔

طنزیہ طورایسی تیسی ڈیموکریسی نامی ایک تنظیم کے ٹوئٹر ہینڈل پر ٹوئٹ پوسٹ کیاگیا ہے کہ ’’ کم سے کم اب ہم تو اس کو ہارس ٹریڈنگ کہنا بند کردیں اور بااحترام تہذیب کو گائے ٹریڈنگ کہنا کیوں نہ شروع کردیں؟

TOPPOPULARRECENT