Tuesday , December 12 2017
Home / ہندوستان / کرنسی بحران :عوام کی تکالیف برقرار

کرنسی بحران :عوام کی تکالیف برقرار

نئی دہلی ۔ /17 نومبر (سیاست ڈاٹ کام)کرنسی بند کرنے کے 9 دن بعد بھی ملک بھر بینکوں اور اے ٹی ایمس کے باہر عوام کی طویل قطاریں دیکھی گیئں ہیں ۔ اس بحران نے کئی منفی اثرات مرتب کئے ۔ لیبر کش طبقہ بیروزگاری کے دہانے پر پہونچ گیا ہے کیونکہ تعمیراتی اور دیگر سرگرمیاں بند ہوچکی ہیں ۔ شاہراہوں پر ٹرکس بھی نہیں چل رہے ہیں ۔
قطار میں ٹھہری ایک لڑکی زخمی
مدھیہ پردیش کے علی راج پور میں ایک 17 سالہ لڑکی جو بینک کے باہر قطار میں کھڑی ہوئی تھی ، سکیورٹی گارڈ کی بندوق اتفاقی طور پر چل جانے سے زخمی ہوگئے ۔ اس لڑکی کے پیر پر گولی لگی جسے ہاسپٹل میں شریک کیا گیا ہے ۔
رقمی تبادلہ نہ ہونے پر خودکشی
جنوبی دہلی میں ایک 25 سالہ نوجوان نے مبینہ طور پر خودکشی کرلی ۔ چونکہ وہ 12 لاکھ روپئے کی کرنسی کا تبادلہ کرانے میں ناکام رہا ۔  اس نوجوان کی نعش فیان سے لٹکتی پائی گئی ۔ مقامی افراد نے بتایا کہ پرانی کرنسی کے تبادلے کی اس نے متعدد مرتبہ کوشش کی تھی لیکن ناکام رہا جس کے بعد سے وہ مایوسی کا شکار ہوگیا تھا ۔ اس کے علاوہ گزشتہ چند ماہ سے مالی مشکلات سے بھی دوچار تھا ۔
قطار میں کھڑے شخص کی موت
مدھیہ پردیش میں ایک 70 سالہ ریٹائرڈ فوجی جو اپنی کرنسی تبدیل کرانے کیلئے بینک کے باہر طویل قطار میں کھڑا تھا ، قلب پر حملے کے باعث اس کی موت واقع ہوگئی ۔ ضلع کلکٹر نے بتایا کہ وہ گزشتہ دو تا تین دن سے مسلسل بینک آرہا تھا لیکن رقم تبدیل کرانے میں ناکام رہا ہے ۔
بی جے پی کے پاس کرایہ دینے رقم نہیں
لکھمپور میں بی جے پی کو ایک انوکھا مسئلہ درپیش ہے ۔ یہاں پارٹی آفس کو ماہانہ کرایہ ادا نہ کرنے پر بند کردیا گیا ۔ لکھمپور کی نشست سے چیف منسٹر سونووال نے اسمبلی کیلئے  منتخب ہونے کے بعد مستعفی ہوگئے تھے ۔ یہاں /19 نومبر کو ضمنی رائے دہی ہوگی ۔ بی جے پی نے اپنا آفس قائم کیا لیکن کرایہ ادا کرنے کیلئے اس کے پاس نقد رقم  نہیں ہے ۔
کرانہ شاپس میں اناج ختم
نیلسن سروے میں یہ انکشاف ہوا کہ ملک کی دو تہائی سے زاپد کرانہ شاپس میں اناج کا ذخیرہ نہیں ہے ۔ اس کے علاوہ ہول سیلرس اور ڈسٹری بیوٹرس ، چھوٹے ٹاؤنس و دیہی علاقوں کو نظر انداز کررہے ہیں ۔

TOPPOPULARRECENT