Sunday , November 19 2017
Home / ہندوستان / کرنسی بحران پر دس اپوزیشن جماعتیں متحد

کرنسی بحران پر دس اپوزیشن جماعتیں متحد

مشترکہ لائحہ عمل اختیار کرنے کا فیصلہ ، کل پارلیمنٹ کے احاطے میں احتجاجی دھرنا منظم کیا جائے گا
نئی دہلی ؍ کولکتہ ؍ ممبئی ۔ 21 نومبر ۔ ( سیاست ڈاٹ کام) ملک کی دس اپوزیشن جماعتوں نے غیرمعمولی اتحاد کا مظاہرہ کرتے ہوئے کرنسی بند کرنے کے حکومت کے اقدام کے خلاف پارلیمنٹ کے اندر اور باہر جدوجہد جاری رکھنے کا فیصلہ کیا ۔ کانگریس لیڈر راہول گاندھی نے الزام عائد کیا کہ بینکس چند افراد کو عقبی دروازے سے نقد ادا کرتے آرہے ہیں جبکہ غریب قطاروں میں کھڑے ہیں۔ بڑی کرنسی بند کرنے کی وجہ سے عوام کو ہونے والی مشکلات کا اندازہ کرتے ہوئے کانگریس ، ترنمول کانگریس ، جنتادل(یو) ، بی ایس پی ، سی پی آئی (ایم) ، سی پی آئی ، این سی پی ، آر جے ڈی، جے ایم ایم اور ڈی ایم کے نے آج صبح قومی دارالحکومت نئی دہلی میں ایک اجلاس منعقد کیا تاکہ حکومت پر دباؤ ڈالنے کے مقصد سے مشترکہ لائحہ عمل تیار کیا جاسکے ۔ ان پارٹیوں کے قائدین ہر دن صبح پارلیمنٹ کا سیشن شروع ہونے سے پہلے اجلاس منعقد کرتے ہوئے مشترکہ لائحہ عمل کو قطعیت دیں گے ۔ آج یہ فیصلہ کیا گیا ہے کہ تمام دس جماعتوں کے ارکان پارلیمنٹ چہارشنبہ کو پارلیمنٹ میں گاندھی جی کے مجسمہ کے قریب دھرنا منظم کریں گے ۔ اس کے بعد راشٹرپتی بھون تک مارچ کیا جائے گا جس کی تاریخ کو بعد ازاں قطعیت دی جائے گی ۔کانگریس نائب صدر راہول گاندھی نے آج صبح کئی اے ٹی ایمس کا دورہ کرتے ہوئے عوام سے ملاقات کی ۔ انھوں نے دعویٰ کیاکہ عوام نے یہ شکایت کی ہے کہ نقد رقم کا ایک بڑا حصہ بینکوں میں عقبی دروازے سے منتخبہ افراد تک پہونچ رہا ہے اور عام آدمی بینکوں کے باہر گھنٹوں طویل قطاروں میں کھڑا ہے ۔ وزیراعظم کے اس تبصرے پر کہ کرنسی بند کرنے کے اس فیصلے کے بعد ملک کی شکل سونے میں تبدیل ہوجائے گی ، راہول گاندھی نے کہاکہ اُن کا یہ احساس ہے کہ وزیراعظم کے 15 یا 20 حاشیہ برداروں کے خزانے بھر جائیں گے اور اُن کے قرضوں کو معاف کردیا جائے گا ۔ غریب عوام جو قطاروں میں کھڑے تھے اُنھیں صرف نقصان ہی برداشت کرنا ہوگا۔ چیف منسٹر مغربی بنگال ممتا بنرجی نے کہاکہ وزیراعظم اُن جماعتوں کو دھمکی دے رہیں ہیں جو کرنسی بند کرنے کے خلاف آواز اُٹھارہے ہیں ۔ انھوں نے حکومت کے اس اقدام کے خلاف دہلی کی سڑکوں پر احتجاج کا انتباہ دیا۔ کولکتہ میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ممتا بنرجی نے کہاکہ وزیراعظم کو بردباری کا مظاہرہ کرنا چاہئے ، ضرورت پڑنے پر وہ کل جماعتی اجلاس طلب کریں۔ یہاں انا کی لڑائی نہیں ہورہی ہے ۔ ممتا بنرجی نے کہاکہ ہم سب ملکر اس مسئلے کو حل کرنے کی کوشش کریں کیونکہ عوام متاثر ہورہے ہیں۔ممتا بنرجی نے کہاکہ وہ دہلی کے علاوہ لکھنو اور بہار اور پنجاب میں مختلف مقامات جائیں گی ، جہاں کرنسی بند کرنے کے خلاف احتجاج کیا جائے گا ۔ انھوں نے کہا کہ یہ کوئی سیاسی مسئلہ نہیں ہے ۔ ہم عام آدمی کے تعلق سے بات کررہے ہیں۔ سی پی آئی ایم کے جنرل سکریٹری سیتارام یچوری نے کہا کہ نریندر مودی نے 500 اور 1000 روپئے کی کرنسی بند کرنے کا جو فیصلہ کیا ، ایک ایسا منصوبہ ہے جو ملک کا بدترین دشمن بھی تیار نہیں کرسکتا ۔ انھوں نے کہاکہ بینکوں کو جن کارپوریٹ اداروں نے قرض واپس نہیں کیا ، اُس کی بازیابی پر حکومت کو توجہ دی جانی چاہئے ۔ اگر دو سال خشک سالی کے بعد ہمارا بدترین دشمن دیہی ہندوستان کو نقصان پہونچانا چاہئے تو بھی وہ ایسا نہیں کرسکتا جو کام مودی نے کیا۔  چیف منسٹر مہاراشٹرا دیویندر فڈنویس نے کرنسی بند کرنے کے فیصلے کی مدافعت کی اور کہاکہ جو لوگ مودی کی مخالفت کررہے ہیں وہ ملک کو نقصان پہونچارہے ہیں ۔ عوام کو چاہئے کہ وہ متحد ہوکر کالا دھن کے خلاف اس فیصلہ کن لڑائی کو کامیابی دلائیں۔

TOPPOPULARRECENT