Monday , December 11 2017
Home / Top Stories / کرنسی بحران کے سبب اموات کا اُری دہشت گرد حملے سے موازنہ

کرنسی بحران کے سبب اموات کا اُری دہشت گرد حملے سے موازنہ

بی جے پی کی پالیسیاں 40 افراد کے قتل کی ذمہ دار ، غلام نبی آزاد کا ریمارک ، پارلیمنٹ میں ہنگامہ
نئی دہلی ۔ /17 نومبر (سیاست ڈاٹ کام) اپوزیشن نے آج پارلیمنٹ کی کارروائی مفلوج کردی ۔ راجیہ سبھا میں وزیراعظم نریندر مودی سے کرنسی بند کرنے کے موضوع پر مباحث کے دوران موجود رہتے ہوئے ان سے جواب کا مطالبہ کیا گیا اور اس پر کئی مرتبہ ایوان کی کارروائی ملتوی ہوگئی ۔ حکومت نے اس مطالبہ کو یکسر مسترد کردیا ۔ قائد اپوزیشن غلام نبی آزاد نے کرنسی بند کرنے کی وجہ سے ’’بحران‘‘ کے سبب مرنے والوں کا اری دہشت گرد حملے سے موازنہ کیا جس پر کافی ہنگامہ آرائی ہوئی اور آخر کار ایوان کی کارروائی کو دن بھر کیلئے ملتوی کردیا گیا ۔ کانگریس زیرقیادت اپوزیشن ارکان نے راجیہ اور لوک سبھا میں کارروائی شروع ہوتے ہی گڑبڑ کردی ۔ یہ سلسلہ آخر تک جاری رہا ۔ لوک سبھا میں آج صرف وقفہ سوالات کے دوران ہی معمول کی کارروائی چلائی جاسکی ۔ حالانکہ اس وقت بھی ہنگامہ آرائی ہورہی تھی اور پھر ایوان کی کارروائی کو 12 بجے کے بعد دن بھر کیلئے ملتوی کردیا گیا ۔

راجیہ سبھا میں کوئی کارروائی نہیں چل سکی ۔ کل یہاں کرنسی بند کرنے کے مسئلہ پر 7 گھنٹے بحث ہوئی تھی ۔ آج بھی کانگریس اور دیگر اپوزیشن ارکان نے کہا کہ ایسے اہم مسئلہ پر بحث کے دوران وزیراعظم نریندر مودی کو موجود رہنا چاہئیے ۔ اچانک کرنسی بند کرنے کی وجہ سے عوام کو جو مشکلات پیش آرہی ہے اس پر وزیراعظم کو جواب بھی دینا چاہئیے ۔ اس دوران اناڈی ایم کے ارکان نے ایوان کے وسط میں پہونچ کر ہنگامہ آرائی شروع کردی اور کرناٹک سے کاویری ندی کا پانی ٹاملناڈو کو جاری کرنے کا مطالبہ کیاایوان کی کارروائی ملتوی کردی گئی ۔ اپوزیشن اور حکمراں ارکان میں زبردست جھڑپ ہوگئی جب کانگریس لیڈر غلام نبی آزاد نے اری دہشت گرد حملے میں ہلاکتوں کا کرنسی بحران کے نتیجہ میں ہونے والی اموات سے موازنہ کیا ۔

حکمراں جماعت نے اس تبصرہ کو مخالف قوم قرار دیتے ہوئے معذرت خواہی کا مطالبہ کیا ۔ غلام نبی آزاد نے وزیراعظم کی موجودگی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ جب تک وہ ایوان میں نہیں آئیں گے کارروائی چلنے نہیں دی جائے گی ۔ انہوں نے کہا کہ عوام کرنسی بند کرنے کی وجہ سے بری طرح متاثر ہے اور مرنے والوں کی تعداد 40 تک پہونچ گئی ہے ۔ اری دہشت گردی حملے میں کم از کم اتنے لوگ ہلاک نہیں ہوئے تھے اور کرنسی بحران کی وجہ سے دوگنی تعداد میں اموات ہوئی ہیں ۔ واضح رہے کہ اری دہشت گرد حملے میں 18 فوجی جوان ہلاک ہوئے تھے ۔ غلام نبی آزاد نے اس حملے کے بعد ہندوستان کے لائن آف کنٹرول پر سرجیکل اٹیک کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ بی جے پی پر فضائی حملہ ہونا چاہئیے ۔ تمہاری غلط پالیسیاں کئی افراد کے قتل کی ذمہ دار ہیں ۔ غلام نبی آزاد کا یہ ریمارک ریکارڈ سے حذف کردیا گیا ۔

TOPPOPULARRECENT