Tuesday , February 20 2018
Home / شہر کی خبریں / کرنسی تبدیلی کی مہلت ختم ہونے کے باوجود کروڑہا روپیوں کی منسوخ شدہ کرنسی برآمد

کرنسی تبدیلی کی مہلت ختم ہونے کے باوجود کروڑہا روپیوں کی منسوخ شدہ کرنسی برآمد

بیرون ممالک میں کرنسی تبدیلی کا عمل تیزی سے جاری ، نیپال اور بھوٹان میں کرنسی تبدیلی پر حکومت کارروائی سے قاصر
حیدرآباد۔5فروری(سیاست نیوز) کروڑہا روپئے کی منسوخ کرنسی اب دوبارہ کیوں برآمد ہو رہی ہے اور منسوخ کرنسی کی تبدیلی کے لئے کونسی راہیں اختیار کی جا رہی ہیں جو لوگ اب بھی کرنسی کی تبدیلی کے لئے کروڑہا روپئے لئے گھوم رہے ہیں؟ حکومت ہند کی جانب سے کرنسی تنسیخ کے فیصلہ کے بعد منسوخ کرنسی کی تبدیلی کے کئی اسکام منظر عام پر آئے لیکن اب جبکہ کرنسی کی تبدیلی کے کوئی راستے نہیں رہے ایسی صورت میں کرنسی پکڑے جانے کے واقعات نہ صرف شہریوں کے لئے بلکہ عہدیداروں کے لئے بھی معمہ بنے ہوئے ہیں کہ جو لوگ کرنسی کی تبدیلی کے دعوے کر رہے ہیں وہ کس ذرائع سے کرنسی تبدیل کروا رہے ہیں؟ باوثوق ذرائع سے موصولہ اطلاعات کے مطابق 1000اور 500 روپئے کے منسوخ کرنسی نوٹ اب بھی تبدیل کئے جانے کی اطلاعات کی تحقیقات کے دوران اس بات کا انکشاف ہوا ہے کہ واقعی اب بھی کرنسی کی تبدیلی کا عمل جاری ہے اور شاطر افراد کرنسی کی تبدیلی کو یقینی بنانے کے دعوے جو کر رہے ہیں ان میں کچھ حد تک صداقت بھی پائی جاتی ہے ۔ بتایاجاتاہے کہ حکومت نے دیگر ممالک میں موجود ہندستانی منسوخ کرنسی کی تفصیلات ابھی تک حاصل نہیں کی ہے جس کا فائدہ اٹھانے کی کوشش کی جا رہی ہے اور جن لوگوں کے پاس غیر محسوب کرنسی موجود ہے وہ اس کرنسی کو تبدیل کروانے کا خطرہ مول رہے ہیں ۔ نیپال اور بھوٹان میں کرنسی تبدیل کئے جانے کی اطلاعات موصول ہونے کے بعد محکمہ انٹیلجنس نے چوکسی اختیار کرلی ہے اور کہا جار ہا ہے کہ کرنسی کی منتقلی کے عمل پر سخت نظر رکھی جا رہی ہے ۔ حکومت ہند نے منسوخ کرنسی کے بیرون ملک موجود ذخائر کی مکمل اطلاعات کے حصول میں جو کوتاہی کی ہے اس کے نتیجہ میں اب بھی بعض ممالک میں کرنسی تبدیلی کا عمل تیزی کے ساتھ جاری ہے اور اس عمل کو روکنا حکومت کے اختیار کی بات نہیں نظر آرہی ہے کیونکہ جن ممالک میں سرکاری طور پر ہندستانی کرنسی کارکرد رہی تھی ان ممالک میں کتنی ہندستانی کرنسی زیر استعمال رہی یا ہے اس کا ریکارڈ نہ ہونے کے باعث مجرمانہ ذہنیت کے افراد اس کا فائدہ حاصل کرتے ہوئے نیپال میں کرنسی کی تبدیلی کا اسکام چلا رہے ہیں اور اب جبکہ ایک سے زائد مقامات پر کروڑہا روپئے منسوخ کرنسی کی ضبطی کے بعد حکومت کی جانب سے پڑوسی ملک نیپال میں موجود ہندستانی منسوخ کرنسی کی تفصیلات کے حصول میں تیزی پیدا کردی گئی ہے لیکن بتایاجاتاہے کہ اب تک اس کی مکمل تفصیلات مرکزی حکومت کو حاصل نہیں ہوئی جس کی وجہ سے نیپال میں کرنسی کی تبدیلی کا کاروبار عروج پر پہنچ چکا ہے اور ہندستان سے اب بھی منسوخ کرنسی کی منتقلی کا عمل جاری ہے جس کے سبب منسوخ کرنسی باہر آنے لگی ہے ۔محکمہ انکم ٹیکس کے عہدیداروں کا کہناہے کہ اس سلسلہ میں ریزرو بینک ‘ انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ اور ریزرو بینک آف انڈیا اس وقت تک کوئی کاروائی سے قاصر ہیں جب تک نیپال میں موجود ہندستانی کرنسی کی تفصیلات سامنے نہیں آجاتی۔حکومت نیپال کے خزانہ میں موجود ہندستانی منسوخ کرنسی کے علاوہ نیپال کے شہری جو ہندستانی کرنسی میں تجارت کیا کرتے تھے ان کے پاس موجود کرنسی کی مکمل تفصیلات کے حصول کے بعد ہی اس منتقلی اور کرنسی کی تبدیلی کے عمل کو روکنے میں مدد مل سکتی ہے۔

TOPPOPULARRECENT