Tuesday , November 21 2017
Home / شہر کی خبریں / کرنسی تنسیخ کے بعد نقد سے پاک لین دین کا فروغ

کرنسی تنسیخ کے بعد نقد سے پاک لین دین کا فروغ

عبادت گاہوں کی چندہ وصولی بھی نقد سے پاک ، مسجد کے صحن میں اے ٹی ایم مشین کی تنصیب
حیدرآباد۔28اپریل (سیاست نیوز) ملک میں نقد سے پاک لین دین کے بڑھتے رجحان کی مثال عبادتگاہوں میں بھی دیکھی جانے لگی ہیں اورعبادتگاہوں میں وصول کیا جانے والا چندہ بھی اب نقد پاک ہونے لگا ہے۔ کرنسی تنسیخ کے بعد پیدا شدہ صورتحال سے نمٹنے کے لئے مختلف اداروں نے نقد سے پاک لین دین کو فروغ دینے کا سلسلہ شروع کیا اور اس سلسلہ کا دائرہ کار وسیع ہوتے ہوئے اب مساجد و فلاحی اداروں تک پہنچ چکا ہے۔ شہر حیدرآباد میں واقع مسجد قباء گڈ شیڈ نامپلی میں جہاں غریب ونادار لڑکیوں کے نکاح کے لئے امداد اور مختلف زمروں میں فلاحی خدمات انجام دیئے جاتے ہیں اس مقصد کیلئے مسجد میں مصطفی ٹرسٹ کے نام سے ایک ٹرسٹ بھی چلایا جاتا ہے جس کے توسط سے یہ خدمات انجام دی جاتی ہیں اور ان خدمات میں ماہ رمضان المبارک میں راشن کی تقسیم کے علاوہ مختلف فلاحی سرگرمیاں ہیں ۔ ٹرسٹ کی جانب سے مسجد قباء میں جمعہ کے موقعہ پر چندہ اکٹھا کیا جاتا ہے اور یہ چندہ نہ صرف مسجد کے امور کی تکمیل کے لئے وصول کیا جاتا ہے بلکہ اس مقصد کے علاوہ چندہ کے ذریعہ حاصل ہونے والی آمدنی کے ذریعہ فلاحی خدمات بھی انجام دی جاتی ہیں ۔ مسجد قباء نامپلی شہر حیدرآباد کی پہلی ایسی مسجد نظر آرہی ہے جہاں چندہ کے لئے صرف چادر نہیں پھیلائی جاتی بلکہ اس مسجد کے ذریعہ صحن میں اے ٹی ایم مشین کی تنصیب عمل میں لائی جاتی ہے تاکہ اے ٹی یم‘ ڈیبٹ کارڈ یا کریڈٹ کارڈ کے ذریعہ چندہ ادا کرنے والوں کو سہولت حاصل ہوسکے۔ مسجد قباء کے صحن میں ڈیبٹ کارڈ کے ذریعہ ادائیگی کی سہولت اس بات کو واضح کرتی ہے کہ نقد سے پاک لین دین کو فروغ حاصل ہونے لگا ہے اور لوگ مساجد و فلاحی کاموں کے لئے دی جانے والی رقومات بھی کارڈ کے ذریعہ ادا کرنے لگے ہیں۔مصلیان مسجد کا ماننا ہے کہ کارڈ کے ذریعہ چندہ کی وصولی سے شبہات ختم ہوجاتے ہیں کیونکہ جب راست کھاتہ میں چندہ وصول کیاجاتا ہے تو ایسی صورت میں منتظمین پر کسی قسم کے شبہ کی گنجائش نہیں ہوتی ۔ دونوں شہرو ںمیں موجود بیشتر مساجد ایسی ہیں جن سے منسلک کوئی آمدنی کا ذریعہ نہیں ہے اور ان مساجد کے اخراجات مصلیان کی امداد سے پورے کئے جاتے ہیں یا پھر انتظامی کمیٹی میں شامل مخیر حضرات ان اخراجات کی تکمیل کو ممکن بناتے ہیں۔ مسجد قباء بھی ان مساجد میں ہی ایک مسجد ہے جس کے کوئی آمدنی کے ذرائع نہیں ہیں لیکن اس مسجد کے اخراجات اور مسجد کے مرکز کے ذریعہ مصطفی ٹرسٹ کے تحت انجام دیئے جانے والی خدمات کی انجام دہی کے لئے چندہ کے حصول کے لئے عصری سہولت سے استفادہ کو خوش آئند قرار دیا جانے لگا ہے۔جناب محمد ساجد صدر مسجد قباء و سکریٹری مصطفی ٹرسٹ نے بتایا کہ مصطفی ٹرسٹ کیلئے ہر ماہ دوسرے جمعہ کو چندہ وصول کیا جاتا ہے جبکہ مابقی جمعہ میں وصول ہونے والا چندہ مسجد کے اخراجات کے لئے استعمال کیا جاتا ہے ۔ انہوں نے مزید کہا کہ مسجد کی کمیٹی میں شامل ذمہ داران میں مصطفی ٹرسٹ کے ذمہ داران بھی شامل ہیں اسی لئے مسجد کے ذریعہ مسجد کے اطراف رہنے والے چنندہ ضرورت مند خاندانوں کی کفالت میں مدد کی جاتی ہے جن میں بیوگان اور یتیم بچے شامل ہیں۔

TOPPOPULARRECENT