Sunday , November 19 2017
Home / اداریہ / کرنسی مسئلہ ‘ مودی کا جواب دہی سے گریز

کرنسی مسئلہ ‘ مودی کا جواب دہی سے گریز

لبوں پہ مہرخموشی لگا کے وہ سمجھے
ہر ایک آہ و بکا کا جواب یہ ہوگا
کرنسی مسئلہ ‘ مودی کا جواب دہی سے گریز
بڑے کرنسی نوٹوں کا چلن بند کئے جانے کا مسئلہ ہر گذرتے دن کے ساتھ سنگین ہوتا جا رہا ہے ۔ عوام کو بے طرح مسائل کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے ۔ گھنٹوں طویل قطاروں میں انتظار کے بعد بھی عوام کو اس بات کی ضمانت نہیں ہے کہ ان کے ہاتھ میں رقم آئیگی ۔ جہاں اے ٹی ایم مشینوں پر طویل قطاریں ہیں وہیں بینکوں پر بھی بے پناہ ہجوم ہے ۔ کسی کو یہ اطمینان نہیں ہو پا رہا ہے کہ تین تا چار گھنٹے انتظار کے بعد جب ان کا نمبر آئیگا تو اس وقت تک اے ٹی ایم میں یا پھر بینک میں رقم باقی بچے گی یا نہیں۔ حکومت اس مسئلہ پر مکمل انانیت کا شکار ہوگئی ہے ۔ حکومت اس انتہائی حساس اور اہم ترین مسئلہ پر اپنے موقف میں کسی طرح کی لچک پیدا کرنے کیلئے تیار نہیں ہے ۔ خود وزیر اعظم نریندر مودی اس مسئلہ پر عوام کے آمنے سامنے ہوگئے ہیں اور وہ عوام کو ایک طرف نہ صرف دھمکا رہے ہیں بلکہ وہ عوام کا مذاق بھی اڑانے لگے ہیں۔ وہ نوٹوں کا چلن بند کرنے کے فیصلے پر اپنی من مانی کرتے جا رہے ہیں اور ملک بھر میں اس مسئلہ پر جو بے چینی پھیلی ہوئی ہے اس کو تسلیم کرنے کو تیار نہیں ہیں ۔ حکومت اس مسئلہ پر عوامی تکالیف اور مصائب کو دور کرنے کی بجائے انہیں مسلسل نشانہ بنانے میں مصروف ہوگئی ہے ۔ پارلیمنٹ کے سرمائی اجلاس کا بھی آغاز ہوچکا ہے اور اپوزیشن جماعتیں وہاں بھی اس مسئلہ پر احتجاج شروع کرچکی ہیں۔ حکومت حالاانکہ ایوان میں اس مسئلہ پر مباحث کیلئے تیار رہنے کا ادعا کرتی ہے لیکن وزیر اعظم ان مباحث کا جواب دینے کیلئے تیار نہیں ہیں ۔ حکومت اپوزیشن پر وزیر اعظم کے جواب کی شرط لاگو کرتے ہوئے مباحث سے فرار کا الزام عائد کر رہی ہے جبکہ حقیقت یہ ہے کہ حکومت وزیر اعظم کے بیان سے انکار کرتے ہوئے مباحث سے بچنا چاہتی ہے ۔ کرنسی نوٹوں کا چلن بند کرنے کا اعلان وزیر اعظم نے کیا تھا ۔ انہوں نے جاپان سے واپسی کے بعد عوام سے خود راست خطاب کرتے ہوئے مزید 50 دن کا وقت طلب کیا تھا اور اب وہ جمہوریت کے اعلی ترین مقام پارلیمنٹ میں جواب دینے سے پہلو تہی کر رہے ہیں۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ وہ عوامی مصائب پر جو صورتحال پیدا ہوئی ہے اس سے متعلق سوالات کا جواب دینے کے موقف ہی میں نہیںہیں۔
نوٹوں کا چلن بند کرنے سے جو مسائل عوام کو پیش آ رہے ہیں اور انہیں جو مشکلات درپیش ہو رہی ہیں اس کا اندازہ اس حقیقت سے لگایا جاسکتا ہے کہ اب تک 50 افراد اس سلسلہ میں اپنی جنیں گنوا چکے ہیں۔ ان میں تمام مذاہب کے ماننے والے ہیں۔ یہ سب ہندوستانی شہری ہیں۔ یہ سب ایسے لوگ ہیں جن کے پاس ضروریات زندگی کا سامان مہیا کرنے کیلئے معمولی رقم تک بھی نہیں ہے اور وزیر اعظم انہیں کالا دھن رکھنے والے افراد قرار دے کر ان کا مضحکہ اڑانے میں مصروف ہیں۔ وزیر اعظم کہتے ہیں کہ غریب چین کی نیند سو رہا ہے جبکہ حقیقت یہ ہے کہ جو لوگ اے ٹی ایم مشین پر اور بینکوں پر طویل قطاریں لگائے ہوئے ہیں وہی ملک کے اصل غریب ہیں اور جن کے گھر دولت کے انبار لگے ہوئے ہیںوہ چین کی نیند سو رہے ہیں اور ایسا لگتا ہے کہ ان تک ان کے کالے دھن کا متبادل بآسانی پہونچ رہا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ کوئی صنعتکار ‘ کوئی بڑا تاجر یا بڑا عہدیدار کسی بینک یا اے ٹی ایم کی لائین میں کھڑا دکھائی نہیں دیا ہے ۔ حکومت نے جس اچانک انداز میں یہ اعلان کردیا ہے اور اس سے قبل اپنے دوستوں کو اس فیصلے سے واقف کروانے کا جو الزام عائد کیا جا رہا ہے اس پر حکومت پارلیمنٹ میں آن ریکارڈ بیان دینے کے موقف میں نہیںہے ۔ یہی وجہ ہے کہ وزیر اعظم نریندر مودی ایوان میں اپوزیشن کی تنقیدوں اور ان کے سوالات کا جواب دینے تیار نظر نہیں آتے ۔ ان کا یہ فرار در اصل ملک کے عوام کی مشکلات اور ان کے مسائل سے پہلو تہی قرار پاتا ہے اور یہ رویہ وزیر اعظم کیلئے ذیب نہیں دیتا ۔
پارلیمنٹ کو جمہوریت میں ایک مرکزی مقام حاصل ہوتا ہے ۔ جس وقت پارلیمنٹ کا اجلاس چل رہا ہو اس وقت حکومت ایوان کو مطلع کئے بغیر کوئی اعلامیہ بھی جاری نہیں کرسکتی ۔ اس کا تقدس اور بالادستی مسلمہ ہے ۔ اگر حکومت اس معاملہ میں واقعی سنجیدہ ہے ۔ اس نے واقعی کالا دھن روکنے یہ فیصلہ کیا ہے ۔ اس کے عزائم ٹھیک ہیں۔ ملک میں حکومت کے مطابق کوئی مسئلہ نہیں ہے ‘ واقعی غریب آدمی آرام کی نیند سو رہا ہے تو پھر وزیر اعظم کو اس پر ایوان میں جواب دینے سے عار کیوں ہے ؟ ۔ وہ کیوں پارلیمنٹ ہاوز میں رہتے ہوئے لوک سبھا اور راجیہ سبھا میں آنے سے گریز کر ہرے ہیں۔ وہ کیوں عوامی نمائندوںا ور جمہوریت کے مرکز سے عملا فرار حاصل کر رہے ہیں ؟ ۔ انہیں ان سارے سوالات کا ملک کے عوام کو جواب دینے کی ضرورت ہے ۔

TOPPOPULARRECENT