Tuesday , December 12 2017
Home / شہر کی خبریں / کرنسی منسوخ کرنے پر کے سی آر شدید ناراض ، گورنر سے نمائندگی

کرنسی منسوخ کرنے پر کے سی آر شدید ناراض ، گورنر سے نمائندگی

ریاستی کی معیشت پر اثر پڑنے کا اندیشہ ، عوام میں افراتفری کا عالم خرید و فروخت کا عمل سست

حیدرآباد۔11 نومبر(سیاست نیوز) حکومت ہند کی جانب سے بڑی کرنسی منسوخ کردیئے جانے سے ریاست تلنگانہ کے مالیہ پر بھی اس کا اثر مرتب ہوگا اور اس تشویش کے ساتھ چیف منسٹر تلنگانہ مسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے گورنر تلنگانہ مسٹر ای ایس ایل نرسمہن سے ملاقات کرتے ہوئے مرکز کے فیصلہ پر ناراضگی کا اظہار کیا۔ بتایا جاتا ہے کہ چیف منسٹر نے راج بھون میں گذشتہ شب گورنر سے طویل ملاقات کے دوران وزیر اعظم کے اعلان پر ناراضگی ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ مرکزی حکومت کا فیصلہ عوام اور ریاستوں کے حق میں نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کے اس اقدام سے ریاستوں کی معیشت کو نقصان پہنچنے کا خدشہ ہے اور حکومت کا فیصلہ افراتفری کا عالم پیدا کرچکا ہے۔ گورنر تلنگانہ و آندھرا پردیش مسٹر ای ایس ایل نرسمہن سے چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ کی طویل ملاقات کے دوران دیگر امور پر بھی تبادلۂ خیال کیا گیا۔ بتایا جاتا ہے کہ حکومت ہند کے فیصلہ سے ریاست کے مالیہ پر منفی اثرات پڑیں گے اور ان اثرات کو آئندہ بجٹ میں ہی محسوس کیا جانے لگے گا۔ محکمہ ٔ مال کے عہدیداروں کے بموجب تلنگانہ کو مرکز کے اس فیصلہ سے 20فیصد آمدنی پر اثر پڑنے کا خدشہ ہے۔ ریاستی حکومت نے 2016-17مالی سال کے دوران 1لاکھ 30ہزار کروڑ کا تخمینہ لگاتے ہوئے بجٹ پیش کیا تھا لیکن بتدریج حالات کی تبدیلی کو دیکھتے ہوئے کی گئی نظرثانی کے ایسا محسوس کیا جا رہا ہے کہ ریاست اس بجٹ میں اجرائی و استعمال کے متعلق ایک لاکھ کروڑ کی حد کو بھی تجاوز نہیں کر پائے گی۔ حکومت تلنگانہ کی آمدنی کا سب سے بڑا ذریعہ ریوینیو اسٹامپ کی فروخت تصور کی جا رہی تھی لیکن مرکز کے اس فیصلہ کے بعد رئیل اسٹیٹ مارکٹ میں آنے والی مندی سے کافی نقصان ہوگا۔ اتنا ہی نہیں بلکہ ریاست کو ایکسائز ‘ ویاٹ اور سرویس ٹیکس کے ذریعہ ہونے والی آمدنی میں بھی زبردست گراوٹ ریکارڈ کی جائے گی۔ محکمہ ٔ فینانس کے عہدیداروں کے بموجب 1000اور500روپئے کے نوٹ منسوخ کر دیئے جانے کے بازاروں پر پڑنے والے منفی اثرات کا اثر حکومت کی آمدنی پر بھی مرتب ہوگا اور اس صورتحال میں تجارت ٹھپ ہونے کے خدشات کے باعث خرید و فروخت کا عمل سست ہو جائے گا۔ ریاستی حکومت اس بات کا اعتراف کر رہی ہے کہ جب تک کالا دھن اور غیر محسوب دولت عوام کے درمیان نہیں رہیں گے اس وقت تک رئیل اسٹیٹ مارکٹ میں بہتری لائی جانے کے اقدامات نہیں کئے جا سکتے۔ عہدیداروں نے کہا کہ اراضیات کی خریدو فروخت کی معاملتوں میں کالا دھن کا دخل کوئی نئی بات نہیں ہے اور کالے دھن کے بغیر رئیل اسٹیٹ مارکٹ کی ترقی ممکن نہیں ہوتی۔ اس کے علاوہ حکومت کے اس اقدام کا منفی اثر جائیدادوں کی قیمتوں پر ہو چکا ہے اور ان میں 50فیصد تک کی گراوٹ ریکارڈ کی جانے لگی ہے۔ حکومت تلنگانہ نے ریاست میں موجود سرکاری اراضیات کی فروخت کے ذریعہ 11000کروڑ کی آمدنی حاصل کرنے کا منصوبہ تیار کیا تھا لیکن اراضیات کی قیمت میں ریکارڈ کی جانے والی گراوٹ کے سبب حکومت اراضیات کو کم قیمتوں پر فروخت نہیں کرسکتی جس کے سبب حکومت کے اخراجات کی پابجائی دشوار ہو سکتی ہے۔ چیف منسٹر اور گورنر کی ملاقات کے متعلق کہا جا رہا ہے کہ حکومت اس مسئلہ پر مرکز سے نمائندگی کی خواہاں تھی لیکن اب اس مسئلہ پر کچھ کئے جانے کے امکان نہیں ہیں۔

TOPPOPULARRECENT