Sunday , December 17 2017
Home / شہر کی خبریں / کرنسی نوٹس کی تبدیلی پر پیشگی اطلاع کی جانچ کا مطالبہ

کرنسی نوٹس کی تبدیلی پر پیشگی اطلاع کی جانچ کا مطالبہ

معاملہ انتہائی سنگین، ٹی آر ایس قائدین کا شدید ردعمل
حیدرـآباد۔/12نومبر، ( سیاست نیوز) ٹی آر ایس کے رکن پارلیمنٹ  بی نرسیا گوڑ اور قانون ساز کونسل میں گورنمنٹ چیف وہپ پی سدھاکر ریڈی نے مرکزی حکومت سے مطالبہ کیا کہ کرنسی نوٹ کی منسوخی کے معاملہ میں بعض افراد کو پیشگی اطلاع سے متعلق خبروں کی جانچ کی جائے۔ میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے رکن پارلیمنٹ نے کہا کہ 500 اور 1000 کے کرنسی نوٹس کی منسوخی کی اطلاع پہلے سے بعض افراد کو تھی اس طرح کی اطلاعات اور الزامات گشت کررہے ہیں۔ یہ معاملہ انتہائی سنگین ہے۔ اس سلسلہ میں مرکزی حکومت کو تحقیقات کرتے ہوئے حقائق عوام کے روبرو پیش کرنا چاہیئے۔ انہوں نے چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ کے اس موقف کی تائید کی کہ حکومت کے اچانک فیصلہ سے عوام کو کئی ایک مشکلات کا سامنا ہے۔ اس کے علاوہ ریاستوں کی آمدنی بھی متاثر ہوسکتی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ مرکزی حکومت کو اس فیصلہ سے قبل ریاستوں کو اعتماد میں لینا چاہیئے تھا۔ نرسیا گوڑ نے اپوزیشن جماعتوں پر آبپاشی پراجکٹس کی تعمیر میں رکاوٹ پیدا کرنے کا الزام عائد کیا کہ اور کہا کہ مشن کاکتیہ کے بارے میں غلط تشہیر کی جارہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس پروگرام کو عوام کی جانب سے زبردست تائید حاصل ہوئی ہے اور کانگریس کو الزام تراشی کا سلسلہ بند کرنا چاہیئے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ کانگریس دور حکومت میں پراجکٹس کیلئے باکس ٹنڈرس طلب کئے جاتے رہے جبکہ ٹی آر ایس حکومت نے ای ٹنڈر کے ذریعہ مشن کاکتیہ کے کاموں کو منظوری دی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جس طرح کانگریس دور حکومت میں بے قاعدگیاں ہوئی تھیں کانگریس قائدین ابھی بھی وہی دور تصور کررہے ہیں۔ نرسیا گوڑ نے کہا کہ جس طرح زرد رنگ کی عینک لگانے پر ہر چیز زرد نظر آتی ہے کچھ یہی حال اپوزیشن جماعتوں کا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس پارٹی جو بدعنوانیوں میں غرق ہے اسے  بے قاعدگیوں کے بارے میں بات کرنے کا کوئی حق نہیں پہنچتا۔ انہوں نے کہا کہ آبپاشی پراجکٹس پر کانگریس کی جانب سے کھلے مباحث کے چیلنج پر عوام ہنس رہے ہیں۔ گورنمنٹ چیف وہپ سدھاکر ریڈی نے الزام عائد کیا کہ کانگریس کا دوسرا نام بے قاعدگی اور کرپشن ہے۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس قائدین کو زراعت اور تالابوں کے تحفظ سے کوئی واقفیت نہیں اور وہ شہری علاقوں میں بیٹھ کر کسانوں کے مسائل پر بات کررہے ہیں۔ انہوں نے کانگریس قائدین کو چیلنج کیا کہ وہ آبپاشی پراجکٹس کے مسئلہ پر کھلے مباحث کیلئے تیار رہیں۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس قائدین کے تعین کردہ مقام پر وہ مباحث کیلئے تیار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر کانگریس اور تلگودیشم پارٹی اپنا رویہ ترک نہ کریں تو عوام انہیں گاؤں میں داخل ہونے نہیں دیں گے۔

TOPPOPULARRECENT