Wednesday , December 13 2017
Home / شہر کی خبریں / کرنسی نوٹس کی تنسیخ پر مرکزی حکومت کا عجلت میں فیصلہ

کرنسی نوٹس کی تنسیخ پر مرکزی حکومت کا عجلت میں فیصلہ

عام آدمی کی پریشانیوں میں اضافہ ، وزیر داخلہ تلنگانہ نرسمہا ریڈی کا ردعمل
حیدرآباد۔17 نومبر (سیاست نیوز) مرکز کی جانب سے کرنسی نوٹس کی تنسیخ پر تبصرہ کرتے ہوئے وزیر داخلہ این نرسمہا ریڈی نے کہا کہ مرکز نے عجلت میں یہ فیصلہ کیا ہے۔ عوام کے لئے متبادل انتظامات اور راحت فراہم کرنے کے بجائے اچانک یہ فیصلہ لیا گیا جس کے سبب عوام کو دشواریوں کا سامنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ 500 اور 1000 روپئے کی کرنسی نوٹس کی تنسیخ سے عام آدمی پریشان ہوچکا ہے۔ وزیر داخلہ نے کہا کہ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ عام آدمی اور متوسط طبقات کو اس بحران سے نکالنے کے اقدامات کرے۔ انہوں نے کہا کہ مرکز کے اس فیصلے سے جو دشواریاں پیش آرہی ہیں اسے جلد سے جلد ختم کیا جانا چاہئے تاکہ عام زندگی متاثر نہ ہو۔ انہوں نے تلگودیشم کے فلور لیڈر ریونت ریڈی کی جانب سے چیف منسٹر کے چندر شیکھر رائو پر تنقیدوں کو ناقابل برداشت قرار دیا اور کہا کہ عوام ریونت ریڈی کو بہت جلد سبق سکھائیں گے۔ میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے این نرسمہا ریڈی نے کہا کہ ریونت ریڈی کا رتبہ اس قدر بلند نہیں ہے کہ وہ چیف منسٹر پر تنقید کرسکیں۔ انہیں کے سی آر پر تنقید سے قبل اپنی حیثیت کا جائزہ لینا چاہئے۔ وزیر داخلہ نے کہا کہ حکومت کی فلاحی اور ترقیاتی اسکیمات پر تنقید کرنا تلنگانہ تلگودیشم قائدین کی عادت بن چکی ہے سرکاری اسکیمات اور پراجیکٹس کی تعمیر میں بے قاعدگیوں کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے وزیر داخلہ نے ریونت ریڈی کو مشورہ دیا کہ وہ سیاسی اقدار کا پاس و لحاظ رکھتے ہوئے اپنی زبان قابو میں رکھیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر ریونت ریڈی اپنے رویہ میں تبدیلی نہیں لائیں گے تو انہیں عوام کی برہمی کا سامنا کرنا پڑے گا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت تمام طبقات کے ساتھ انصاف کا منصوبہ رکھتی ہے اور بھلائی کے اقدامات کررہی ہے۔ چیف منسٹر کے چندر شیکھر رائو ہر طبقہ کی بھلائی کے حق میں ہیں۔ وزیر داخلہ نے بتایا کہ زرعی شعبہ کی ترقی اور کسانوں کی بھلائی کے لئے چیف منسٹر چندر شیکھر رائو نے انتخابی وعدوں کی تکمیل کی ہے۔ کسانوں کے لئے حکومت نے قرض معافی کی اسکیم کا اعلان کیا تھا جس کی دوسری قسط کے طور پر حال ہی میں 2000 کروڑ روپئے جاری کئے گئے ۔ انہوں نے کہا کہ آبپاشی پارجیکٹس کی تعمیر کے لئے 25 ہزار کروڑ روپئے مختص کئے گئے ہیں اور کسانوں کو وعدے کے مطابق 9 گھنٹے برقی سربراہ کی جارہی ہے۔ انہوں نے ٹی آر ایس حکومت کو موافق کسان حکومت قرار دیا اور کہا کہ کانگریس اور تلگودیشم کو کسانوں کی بھلائی کے بارے میں کہنے کا کوئی حق نہیں ہے۔ ان دونوں پارٹیوں کی حکومت کے دوران ہزاروں کسانوں نے خودکشی کی تھی۔ وزیر داخلہ نے کانگریس اور تلگودیشم کو تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ کسانوں کے نام پر دونوں پارٹیاں شعبدہ بازی کررہی ہیں۔ کسانوں کے ساتھ جھوٹی ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے سیاسی فائدہ حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں کسانوں کی بھلائی کے اقدامات میں ٹی آر ایس حکومت نمبر ون ہے۔

TOPPOPULARRECENT