Monday , November 20 2017
Home / شہر کی خبریں / کرنسی نوٹوں کے مسئلہ پر مرکز سے نمائندگی کے لیے کے سی آر پر زور

کرنسی نوٹوں کے مسئلہ پر مرکز سے نمائندگی کے لیے کے سی آر پر زور

ریاستی عوام کو کئی دشواریوں کا سامنا ، پارلیمنٹ میں ٹی آر ایس ارکان آواز اٹھائیں گے
حیدرآباد۔/15نومبر، ( سیاست نیوز) مرکزی حکومت کی جانب سے 500 اور 1000 کے کرنسی نوٹس منسوخ کرنے کے معاملہ میں چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ کو بھی الجھن میں مبتلاء کردیا ہے۔ شہر اور اضلاع میں عوام کو پیش آنے والی دشواریوں کے سبب وزراء اور عوامی نمائندے اس سلسلہ میں چیف منسٹر سے خواہش کررہے ہیں کہ وہ مرکز سے نمائندگی کرتے ہوئے عوام کو راحت دلانے کے اقدامات کریں۔ پارٹی کیڈر اور قائدین کے بڑھتے دباؤ اور عوام میں پھیلی ناراضگی نے چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ کیلئے نہ صرف مسائل میں اضافہ کردیا بلکہ وہ یہ طئے نہیں کرپارہے ہیں کہ موجودہ صورتحال میں مرکزی حکومت کے فیصلہ پر کس طرح ردعمل کا اظہار کریں۔ چیف منسٹر اگرچہ پارٹی قائدین اور وزراء کے درمیان اس فیصلہ کی مخالفت کررہے ہیں لیکن انہوں نے کھل کر ابھی تک اظہار خیال سے گریز کیا۔ ملک کے دیگر غیر بی جے پی چیف منسٹرس نے حکومت کے اس فیصلہ کے خلاف نہ صرف اعتراض جتایا بلکہ  فیصلہ سے دستبرداری کی مانگ کی۔ بعض چیف منسٹرس نے احتجاجی لائحہ عمل کو قطعیت دے دی ہے۔ ایسے میں کے سی آر بھی صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہیں اور نئی دہلی میں اپوزیشن جماعتوں کے موقف اور پارلیمنٹ کے اجلاس کے حالات دیکھنے کے بعد وہ کوئی موقف اختیار کریں گے۔ باوثوق ذرائع نے بتایا کہ چیف منسٹر نے پارٹی ارکان پارلیمنٹ کو ہدایت دی ہے کہ عوام کی تکالیف سے مربوط اس مسئلہ پر پارلیمنٹ میں آواز اٹھائیں اور اپوزیشن جماعتوں کے مشترکہ احتجاج سے خود کو وابستہ کریں۔ بتایا جاتا ہے کہ چیف منسٹر نے ملک کی اہم اپوزیشن کانگریس پارٹی کی خاموشی پر بھی حیرت کا اظہار کیا ہے۔ ان کا خیال ہے کہ کانگریس پارٹی کو حکومت کے فیصلہ کے ساتھ ہی احتجاجی راستہ اختیار کرنا چاہیئے تھا۔ بتایا جاتا ہے کہ چیف منسٹر کے قریبی ساتھیوں نے مشورہ دیا ہے کہ پارلیمنٹ میں اپوزیشن کے احتجاج اور پھر حکومت کے موقف کو دیکھتے ہوئے ٹی آر ایس کو کوئی قدم اٹھانا چاہیئے۔ موجودہ صورتحال میں ٹی آر ایس حکومت اس موقف میں نہیں کہ مرکز کی این ڈی اے حکومت سے راست ٹکراؤکی راہ پر چلے۔ ریاست کے معاشی بحران سے نمٹنے کیلئے ریاستی حکومت مرکز پر انحصار کئے ہوئے ہے اور زائد فنڈز کے حصول کی کوششیں ٹکراؤ کی صورت میں متاثر ہوسکتی ہیں۔بتایا جاتا ہے کہ کرنسی نوٹس کی منسوخی سے ریاست کی آمدنی بھی بری طرح متاثر ہوگی۔ مرکز نے حال ہی میں ٹیکس کی حصہ داری میں ریاست کو گذشتہ کے مقابلہ کم فنڈز فراہم کئے ہیں۔ ٹی آر ایس کے ذرائع کے مطابق چیف منسٹر بعض غیر بی جے پی چیف منسٹرس سے ربط میں ہیں اور وہ مناسب وقت پر اپنی حکمت عملی طئے کریں گے۔ چیف منسٹر نئی دہلی کے دورہ کا منصوبہ رکھتے ہیں تاہم اس کا انحصار نئی دہلی میں اپوزیشن کے احتجاج سے حکومت پر پڑنے والے اثرات پر ہوگا۔ چیف منسٹر نے اگرچہ ابھی تک دورہ دہلی کی تاریخ طئے نہیں کی ہے تاہم قریبی ذرائع کا کہنا ہے کہ وہ جاریہ ماہ کے اواخر تک دہلی کا دورہ کریں گے۔دوسری طرف ٹی آر ایس کے کئی اہم قائدین اور عوامی نمائندے اپنی دولت کو نئی کرنسی میں تبدیل کرنے کی تگ و دو میں مصروف ہیں۔ اس کام کیلئے بتایا جاتا ہے کہ بعض بڑے کنٹراکٹرس اور کمپنیوں کا سہارا لیا جارہا ہے۔

TOPPOPULARRECENT