Tuesday , November 21 2017
Home / Top Stories / کرنسی کا چلن بند کرنے کے فیصلے پر مودی جذباتی ہوگئے

کرنسی کا چلن بند کرنے کے فیصلے پر مودی جذباتی ہوگئے

BELAGAVI, NOV 13 (UNI):- Prime Minister Narendra Modi addressing at Karnataka Lingayat Education Society Centenary Celebrations, in Belagavi, Karnataka on Sunday. UNI PHOTO-55U

مجھے زندہ جلادیا جائے تب بھی کرپشن کے خلاف لڑائی جاری رکھوں گا، 50 دن میں سب ٹھیک ہوجانے کا دعویٰ

پاناجی / بیلگاوی / بارہ متی /13 نومبر (سیاست ڈاٹ کام) وزیراعظم نریندر مودی پرانی کرنسی کا چلن بند کرنے کے مسئلہ پر آج جذبات سے مغلوب ہوگئے ۔ ساتھ ہی ساتھ انہوں نے جارحانہ تیور دکھاتے ہوئے وعدہ کیا کہ اگر مجھے زندہ جلادیا جائے تب بھی کرپشن کے خلاف مزید سخت اقدامات کریں گے ۔ اپوزیشن بالخصوص کانگریس کو نشانہ بناتے ہوئے مودی نے کہا کہ جو لوگ بڑے بڑے اسکامس میں ملوث تھے آج 4000 روپئے کا تبادلہ کرانے کیلئے قطاروں میں کھڑے ہیں ۔ وہ سمجھتے ہیں کہ اگر وہ میرے بال کھینچ لے تو میں رک جاؤں گا اور کچھ نہیں کرونگا لیکن میں ان کے آگے جھکنے والا نہیں ہوں ۔ یہاں تک کہ مجھے زندہ جلادیا جائے تو بھی میں اپنا کام جاری رکھوں گا ۔ ان کی تقریر جہاں ایک طرف جذباتی تھی وہیں انہوں نے پھر جارحانہ تیور دکھائے ۔ مودی نے کہا کہ وہ کسی بھی انجام کا سامنے کرنے کیلئے تیار ہیں کیونکہ بعض طاقتیں ان کے خلاف اٹھ کھڑی ہوئی ہیں ۔

کیونکہ کرنسی کا چلن بند کرنے سے ان کی 70 سال سے جاری لوٹ مار خطرے میں پڑگئی ۔ مودی نے جو دوران خطاب کئی مرتبہ جذباتی ہوتے دکھائی رہے تھے، مزید کہا کہ ’’میں جانتا ہوں کہ چند طاقتیں میرے خلاف صف آراء ہوچکی ہیں۔ شاید وہ مجھے زندہ نہیں چھوڑیں گی۔ شاید وہ مجھے تباہ و برباد کردیں گی کیونکہ ان (طاقتوں) کی 70 سال کی گئی لوٹ کھسوٹ اب مشکل میں آگئی ہے لیکن میں (انجام کا) سامنا کرنے تیار ہوں‘‘۔ مودی نے کہا کہ ’’یہ حکومت دیانت دار افراد کو چھیڑنا نہیں چاہتی لیکن بددیانت افراد کو بخشنا بھی نہیں چاہتی۔ 50 دن میرا ساتھ دیجئے۔ سب کچھ ٹھیک کردیا جائے گا۔ آپ ہی بتایئے کہ ہندوستان کو لوٹا گیا یا نہیں؟ کہا میں اس کو روکنے نہیں جارہا ہوں۔ میں آزادی کے 70 سال سے جاری رشوت ستانی کی ساری تاریخ بے نقاب کروں گا‘‘۔ انہوں نے کہا کہ ’’یہ (نوٹوں کی تبدیلی) آخری اقدام نہیں ہے۔ ہندوستان کو رشوت سے پاک بنانے کیلئے میرے ذہن میں اور بھی کئی پراجیکٹ ہیں۔ ہم بے نامی جائیدادوں کے خلاف بھی کارروائی کریں گے۔

کالے دھن اور رشوت کے خاتمہ کی سمت یہ بہت بڑا قدم ہوگا۔ ہندوستان میں اگر کوئی رقم لوٹی گئی تھی اور وہ ہندوستانی ساحل کے اس پار جاچکی ہے تو یہ ہماری ذمہ داری ہوگی کہ اس کا پتہ چلایا جائے‘‘۔ انہوں نے کہا کہ 2014ء میں عوام نے رشوت کے خلاف ووٹ دیا تھا اور ’’میں وہی کررہا ہوں جو اس ملک کے عوام نے کہا تھا‘‘ میری کابینہ کے پہلے اجلاس سے ہی یہ واضح ہوگیا تھا جب (کالے دھن پر) ایک خصوصی تحقیقاتی ٹیم (ایس آئی ٹی) تشکیل دی گئی تھی۔ ہم نے عوام کو کبھی تاریکی میں (بے خبر) نہیں رکھا۔‘‘ مودی نے عوام پر زور دیا کہ وہ سنسنی کا شکار ہوکر اپنے 500 روپئے کے نوٹ 300 سے تبدیل نہ کریں بلکہ 50 دن تک حکومت سے تعاون کریں اور ’’ایک مرتبہ صفائی مکمل ہوجائے گی تو ایک مچھر بھی باقی نہیں رہے گا‘‘۔ وزیراعظم نے جذباتی انداز میں کہا کہ ’’اگر آپ میرے ارادوں میں کوئی غلطی پاتے ہیں تو مجھے برسر عام لٹکادیں۔ میں وعدہ کرتا ہوں کہ آپ کو ویسا ہی ہندوستان دوں گا جس کی آپ نے تمنا کی ہے۔ اگر کسی کو کوئی مسئلہ ہوتا ہے تو مجھے بھی تکلیف محسوس ہوتی ہے۔ میں ان (عوام) کے مسائل سمجھتا ہوں لیکن یہ صرف 50 دن (30 ڈسمبر تک) کی بات ہے۔ 50 دن بعد ہم اس صفائی مہم میں کامیاب ہوجائیں گے‘‘۔ ایک مرحلہ پر مودی جذبات سے مغلوب ہوگئے اور ان کے ہونٹ کپکپارہے تھے ۔ انہوں نے اپنے آنسو روک کر کہا کہ میرے عزیز ساتھیو میں نے ہر چیز اپنا گھر اپنا خاندان چھوڑدیا ۔ ملک کی خاطر میں نے ہر چیز چھوڑ دی ۔ مودی نے عوام پر زور دیا کہ وہ اپنی رقومات بینکوں میں جمع کردیں۔

مودی کو حقیقت کا اندازہ ہوا :راہول
نئی دہلی ۔/13 نومبر (سیاست ڈاٹ کام) عام آدمی کو مشکلات پر وزیراعظم نریندر مودی کے جذباتی ہونے پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کانگریس لیڈر راہول گاندھی نے کہا کہ وزیراعظم اب حقیقت کا سامنا کررہے ہیں ۔ انہوں نے سلسلہ وار ٹوئٹس میں کہا کہ ’’پہلے ہنسی اور اب آنسو ، باتیں کرنے والوں کو اب حقیقت کا اندازہ ہوا ‘‘ ۔ انہوں نے ایک اور ٹوئٹ میں کہا کہ ٹرکس چلنا بند ہوجائے تو پھر اشیائے ضروریہ کی سربراہی رک جائے گی اور سارا ملک مفلوج ہوجائے گا ۔ توقع ہے کہ مودی اس کے لئے بھی کوئی منصوبہ رکھتے ہوں گے ۔

عوام کوسزاء کی وجہ بتائیے :سی پی آئی
نئی دہلی ۔ /13 نومبر (سیاست ڈاٹ کام) سی پی آئی لیڈر ڈی راجہ نے مودی کی آنکھ میں آنسو پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ انہیں جذباتی ہونے کے بجائے غیردیانتدار افراد کے خلاف لڑائی کے نام پر دیانتدار عوام کو سزاء دینے کی وجہ بتانی چاہئیے ۔ انہوں نے کہا کہ مودی کا جذباتی ہونا کوئی معنی نہیں رکھتا ۔

انہوں نے وارننگ پر مبنی اپیل کے طور پر کہا کہ ’’چند لوگ اگر ہنوز یہ سمجھتے ہیں کہ اس معاملے میں (پوشیدہ دولت کو بینکوں میں رکھنے) مزید کچھ انتظار کیا جاسکتا ہے تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ ان افراد نے ہنوز مجھے نہیں پہچانا ہے‘‘۔

 

جنگ کیلئے دوسروں کو نصیحت کرنا آسان :مودی
وزیراعظم نریندر مودی نے کہا کہ جنگ کے بارے میں دوسروں کو نصیحت کرنا آسان ہے لیکن حکومت کو عام آدمی پر اس کے اثرات پر بھی سوچنا پڑتا ہے ۔ انہوں نے بتایا کہ حال ہی میں ایک صحافی نے ان سے کہا کہ جنگ چھیڑدینی چاہئیے ۔ مودی نے کہا کہ انہوں نے پوچھا کہ اگر مسائل درپیش ہوں تو کیا ہوگا ؟ برقی ، اشیائے ضروریہ کی سربراہی بند ہوجائے گی ۔ ٹرینیں منسوخ ہوجائیں گی ۔ انہوں نے کہا کہ بلند بانگ دعوے کرنا آسان ہے لیکن حکومت کیلئے تمام پہلو اہمیت رکھتے ہیں۔

TOPPOPULARRECENT