کرنسی کی منسوخی سلطان تغلق نے بھی کی تھی اور نقصان اُٹھایا!

 

امجد خان
نوٹ بندی کے پُراسرار اقدام کا ایک سال مکمل ہوگیا ہے اور کالے دھن پر اس کے اثرات کے تعلق سے نیز عام آدمی کو آنے والے وقت میں کیا کچھ حالات کا سامنا پڑسکتا ہے اس بارے میں اضطراب کی صورتحال برقرار ہے۔ آیا یہ جرأت مندانہ اقدام قابل لحاظ فوائد کا موجب بنے گا، ایسا سوال ہے جس کا جواب بتدریج گزرتے وقت کے ساتھ ہی ملے گا، لیکن ایک فوری اثر پہلے ہی واضح ہوچکا ہے۔کروڑوں ہندوستانیوں کی زندگیوں میں بھونچال پیدا کردیا گیا ہے۔
جہاں یکایک فیصلے پر بہت سارے گوشوں سے تنقیدیں ہوئی ہیں، وہیں اسے پذیرائی بھی حاصل ہوئی ہے۔ نیز اس اقدام نے کئی لوگوں کو قرونِ وسطیٰ کے بادشاہ محمد بن تغلق کی یاد دلائی جس نے 14 ویں صدی کے ہندوستان میں رائج الوقت سکہ منسوح کیا تھا۔ نوٹ بندی ایسا عمل ہے جس میں پرانی نوعیت کی کرنسی کو واپس لیتے ہوئے اس کی جگہ نئی کرنسی متعارف کی جاتی ہے۔ تغلق نے اپنی حکمرانی کے دوران سونے اور چاندی کے سکوں کا بطور کرنسی چلن بند کرتے ہوئے ان کی جگہ تانبا اور پیتل کے سکے رائج کردیئے تھے۔ قرونِ وسطیٰ کے ہندوستان کی نہایت دلچسپ شخصیتوں میں شامل محمد بن تغلق نے 1324ء تا 1351ء ہندوستان برصغیر کے شمالی حصوں اور دکن پر حکمرانی کی۔ کھلے ذہن اور منفرد دانشورانہ اختراعیت کا حامل قابل شخص تغلق شاعری، علم نجوم، مذہب اور فلسفہ پر خاصا عبور رکھتا تھا۔

ایسا حکمران جس کی حقیقی قابلیت و مہارت کا مظاہرہ جنگ کے وقتوں میں ہوا، تغلق نے دہلی کے سلطان کی حیثیت سے نشیب و فراز والے اقتدار کے دوران نظم و نسق میں اصلاحات کیلئے بعض نہایت جرأت مندانہ اور سخت اقدامات کئے۔ 1309 ء میںاُس نے اپنا پایہ تخت دہلی سے منتقل کرتے ہوئے مہاراشٹرا کے زیادہ وسطی محل وقوع والے دیواگیری کو بنایا تھا، جس کا نام بدل کر دولت آباد رکھا گیا۔ اُس کے ایسا کرنے کے پس پردہ کئی مقاصد تھے۔ بار بار پیش آنے والے منگول حملوں سے اپنے دارالحکومت کو بچانے کے علاوہ اس اقدام کا مقصد دکن کی کافی زرخیز زمینوں پر اپنے کنٹرول کو مضبوط کرنا اور گجرات اور کورومنڈل ساحل پر مصروف بندرگاہوں تک رسائی کو یقینی بنانا تھا۔ جہاں تغلق کے عملی فیصلے میں بنیادی طور پر کچھ غلط نہیں تھا، لیکن اُس کی فاش غلطی ایسا حکم جاری کرنے میں سرزد ہوئی کہ (محض اپنے سرکاری دربار کو منتقل کرنے کی بجائے) دہلی کی ساری آبادی بھی منتقل ہوجائے۔ سفر کرنے والوں کی سہولت کیلئے کئے گئے متعدد انتظامات کے باوجود عوام کی مشکلات بہت تکلیف دہ ثابت ہوئی اور کئی افراد راستے میں مرگئے۔
تاہم ، سلطان تغلق کی دولت آباد کو منتقلی کے بعد جلد ہی بنگال کے ساتھ ساتھ شمال مغربی سرحد پر گڑبڑ پھوٹ پڑی۔ تغلق کو سمجھ آگیا کہ اُس کا نیا دارالحکومت منگول حملوں سے محفوظ رہنے کیلئے معقول دوری پر ضرور ہے، لیکن یہ اتنا دور بھی ہے کہ شمالی ہندوستان کی حفاظت نہیں کی جاسکتی ہے۔ لہٰذا، سیماب صفت حکمران نے اپنے لوگوں کو دوبارہ حکم دیتے ہوئے کہا کہ دہلی کو واپس چلیں۔ دہلی کو واپسی کیلئے 1500 کیلومیٹر مصیبت آمیز سفر میں ہزاروں لوگ فوت ہوگئے۔ اگرچہ تغلق نے کئی محاصل برخاست کرتے ہوئے اور راحت کاری اقدامات کے ذریعے تلافی کرنے کی کوشش ضرور کی لیکن اقتصادی نقصان بہت زیادہ تھا اور دہلی کیلئے نتائج و عواقب سنگین ثابت ہوئے۔
نہ صرف پُرشکوہ شہر دہلی اپنے متعدد لوگوں سے محروم ہوگیا، بلکہ اس کی سابقہ خوشحالی اور شان و شوکت بھی ہوا ہوگئی۔ سلطان تغلق کے خلاف وسیع پیمانے پر عوامی ناراضگی نے بھی بغاوتوں اور تلخ ماحول کو جنم دیا جس نے سلطنت کو آنے والے کئی برسوں تک متزلزل رکھا۔ اگرچہ تغلق نے کئی اسکالرز اور فنکاروں کو شہر میں بس جانے کی دعوت دی، لیکن اس واقعہ کا اثر دور رس نتائج کا حامل رہا۔ مشہور سیاح ابن بطوطہ جو 1334ء میں (تغلق کی حکمرانی کے دوران) دہلی پہنچا، اس نے اپنی خودنوشت میں لکھا کہ اسے شہر کے بعض حصوں کو ہنوز ویران پایا ہے۔
تاہم، تغلق ایسا حکمران رہا جو انتظامی تجربات سے محظوظ ہوا کرتا تھا۔ جب قحط جیسے حالات اور بار بار بغاوتیں اس کے خزانوں پر بوجھ بننے لگیں، تب تغلق کیلئے سونا اور چاندی کے سکوں کی سربراہی کو بڑے پیمانے پر برقرار رکھنا مشکل ہوگیا۔ لہٰذا، اُس نے ’ٹوکن کرنسی سسٹم‘ متعارف کیا اور بڑی مقدار میں تانبا و جست اور پیتل کے سکے ڈھلوائے جن کا مقررہ مقدار میں سونا اور چاندی کے ساتھ تبادلہ کیا جاسکتا تھا۔ یوں تو اس فیصلے نے سلطنت کے مالیہ کیلئے ابتداء میں مدد کی، لیکن یہ جعلسازوں کیلئے پُرکشش طریقہ بھی ثابت ہوا جو بڑی تعداد میں کھوٹے سکے جاری کرنے لگے۔ بعض خامیوں جیسے سادہ ڈیزائن (تغلق کے سکوں میں بس چند چیزیں کندہ تھیں) اور شاہی مہر نہ ہونے سے جعلسازوں کیلئے کام آسان تر ہوگیا۔ ہر گھر میں تانبے کے سکے ڈھلنے لگے جبکہ سونا اور چاندی کے سکوں کا لالچ کے ساتھ ذخیرہ کردیا گیا۔ جلد ہی ساری مارکیٹ میں کھوٹے سکے نظر آنے لگے۔
جب اچھی کرنسی چلن سے ہٹالی گئی تو علامتی سکوں کی عملاً کچھ قدر نہ رہی، جس کے نتیجے میں غیرمعمولی افراطِ زر ہوگیا۔ بیرونی تاجرین نے بھی ان کو قبول کرنے سے انکار کیا، اور تجارت مفلوج ہوگئی۔ اپنی اسکیم ناکام ہوجانے کے پیش نظر تغلق نے معاشی ابتری کو دور کرنے کی کوشش میں نئی کرنسی سے دستبرداری اختیار کرلی۔ تاہم، کھوٹے سکوں کی تعداد اس قدر زیادہ تھی کہ کئی برسوں تک بے قیمت تانبا اور پیتل کے سکوں کے ڈھیر جو حکومت نے مسترد کردیئے، شاہی قلعہ کے باہر پڑے رہے۔ اس معاشی نراج اور عوامی ناراضگی بھی ایک بڑی وجہ رہی کہ کیوں تغلق کی وفات تک اُس کی سلطنت گھٹ کر دہلی کے اطراف چھوٹے خطہ تک محدود ہوگئی تھی۔
محمد بن تغلق کے ارادے اچھے رہے اور اُس کے اقدامات اپنے وقت کے اعتبار سے جرأت مندانہ رہے لیکن عملدرآمد ناقص طور پر کیا گیا۔ نیز، اپنے خوابوں کی تکمیل کی عجلت میں اُس نے اپنے جلدبازی والے اقدامات کی جس کسی نے مخالفت کی اُسے سخت سزا دی۔ یہ چیز اس کی عادت کے ساتھ مل کر کہ جوکھم کا اندازہ کئے بغیر اور غیرمتوقع مشکلات کیلئے انتظام کئے بغیر کوئی اقدام کردینے کے نتیجے میں اس کی انتظامی چالیں تباہی پر ختم ہوئیں۔ اس میں کچھ تعجب نہیں کہ مورخین شاید یہی پس منظر میں تغلق کو ’دانشمند احمق‘ قرار دیتے ہیں!
تاہم، قدیم تاریخ میں یہی واحد موقع نہیں رہا کہ نوٹ بندی پیش آئی۔ دیگر مثالیں بھی ہیں جو مالی نظام کے غیرمعمولی نازک پن کو اجاگر کرتی ہیں۔ 1735ء میں نادر شاہ نے خود اپنی کرنسی کی قدر گھٹائی، دو پیسہ کے سکہ کو ایک پیسہ کا سکہ بنایا، ساہوکاروں کو حکم دیا کہ اپنی دکانات میں زائد از 50 محمودی (چاندی کے سکے) جمع نہ رکھیں۔ اس اقدام کے معاشی نتائج سے ناخوش نادرشاہ نے بعد میں اس حکمنامہ سے دستبرداری اختیار کرلی اور نئے سکے تک جاری کئے، لیکن تب تک سکہ کی قدر میں کمی نے عام اشیاء کو زیادہ مہنگا بنا دیا تھا۔
دلچسپ امر ہے کہ کرنسی سے دستبرداری کی دو دیگر مثالیں بھی ہیں؛ ایک 7 ویں صدی عیسوی کے چین میں (جس میں کاغذی نوٹوں کا سونا، سلور یا ریشم سے تبادلہ کرنے کی اجازت دی گئی) اور 13 ویں صدی عیسوی میں فارس کے بادشاہ کا اقدام (جس کے تجربے نے اس قدر نراج برپا کیا کہ اسے اندرون آٹھ یوم اپنا اقدام واپس لینا پڑا تھا)۔

TOPPOPULARRECENT