Saturday , February 24 2018
Home / اضلاع کی خبریں / کرنول میں اُردو یونیورسٹی کا قیام سنگ بنیاد تک محدود

کرنول میں اُردو یونیورسٹی کا قیام سنگ بنیاد تک محدود

دو سال گذرنے کے باوجود ذاتی عمارت کیلئے کوئی اقدام نہیں، رجسٹرار نہ ہونے سے انتظامیہ کی حالت خراب
کرنول۔/15نومبر، ( سیاست نیوز) ڈاکٹر عبدالحق اردو یونیورسٹی کرنول کا سنگ بنیاد وزیر اعلیٰ آندھرا پردیش چندرا بابو نائیڈو کے ہاتھوں عمل میں آئے 11نومبر کو مکمل دو سال کا عرصہ ہوگیا۔ سنگ بنیاد کے بعد سے تاحال یونیورسٹی کی ذاتی عمارت کیلئے کسی بھی طرح کے اقدامات نہیں کئے گئے۔ محکمہ اقلیتی بہبود کا قلمدان خود وزیر اعلیٰ چندرا بابو اپنے پاس رکھنے کے باوجود یونیورسٹی عمارت کی تعمیر کیلئے فنڈس جاری نہیں کررہے ہیں۔ یونیورسٹی اپنے آغاز سے تاحال کرایہ کی عمارتوں میں منتقل ہوتی جارہی ہے اور یونیورسٹی میں رجسٹرار کا پوسٹ خالی ہوکر دو ماہ سے زائد عرصہ ہورہا ہے، اس کے باوجود یونیورسٹی میں رجسٹرار کا تقرر نہیں کیا جارہا ہے۔ یونیورسٹی میں رجسٹرار نہ ہونے کی وجہ سے انتظامیہ کی حالت بہت خراب ہے۔ واضح ہو کہ ریاستی سطح پر ضلع کرنول مسلم آبادی کے تناسب میں پہلے نمبر پر ہے اور مسلم آبادی کے تناسب کو مدنظر رکھتے ہوئے یونیورسٹی کا قیام کرنول میں عمل میں لایا گیا تھا۔ ضلع کرنول کے اوروکل منڈل میں9 اپریل2015 کو وزیر اعلیٰ چندرا بابو نائیڈو نے بڑی عجلت میں یونیورسٹی کا سنگ بنیاد رکھا تھا اور اوروکل منڈل کے سروے نمبرات 531، 526، 506-B، 603 ، 609 ، 630 اور 631 میں تقریباً 150 ایکڑ اراضی یونیورسٹی کیلئے حکومت کی جانب سے مختص کی گئی تھی اور وزیر اعلیٰ نے جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ یونیورسٹی کی عمارت کیلئے 20 کروڑ روپئے جاری کئے جارہے ہیں۔ وزیر اعلیٰ نے اعلان تو کردیا مگر فنڈس تاحال جاری نہیں کئے گئے اور یونیورسٹی کے آغاز کیلئے عارضی طور پر صرف 2 کروڑ روپئے جاری کئے گئے۔ واضح ہو کہ وزیر اعلیٰ چندرا بابو نائیڈو خود اپنے پاس وزارت اقلیتی بہبود کا قلمدان رکھتے ہیں اس کے باوجود انہوں نے یونیورسٹی کی تعمیر و ترقی کیلئے کوئی فنڈس جاری نہ کرنے سے اقلیتوں میں شدید ناراضگی پائی جاتی ہے۔ عارضی و کرایہ کی عمارتوں میں یونیورسٹی اپنے آغاز سے تاحال کلاسیس چلارہی ہے۔ ابتداء میں یونیورسٹی کا آغاز عثمانیہ کالج کی ملکیت والی عمارت میں ہوا تھا اور حالیہ دنوں میں شہر کے مضافاتی علاقہ بنگلور روڈ پر ایک کالج کی عمارت کرایہ پر حاصل کرکے یونیورسٹی کو وہاں منتقل کردیا گیا ہے جس کا کرایہ ایک لاکھ روپیوں سے زائد بتایا جارہا ہے اور اس عمارت میں ایک یونیورسٹی کے شایان شان سہولیات کا شدید فقدان پایا جاتا ہے جس کی وجہ سے ایک یونیورسٹی کی شان کے مطابق تعلیم نہیں ہوپارہی ہے اور یونیورسٹی میں صرف اور صرف 140 طلبہ ہی ہیں۔ پی جی (پوسٹ گریجویٹ ) میں صرف چار کورسیس ایم اے اکنامکس، ایم اے انگلش، ایم اے اردو اور ایم کام ہی ہیں اور ڈگری کورسیس میں بی ایس سی ( کمپیوٹرس ) ، بی اے، بی کام، بی اے ( اردو ) جیسے کورسیس ہی پڑھائے جارہے ہیں۔ یہ یونیورسٹی مکمل طور پر ریاستی حکومت کی جانب سے قائم کئے جانے کی وجہ سے مرکزی حکومت کی جانب سے کسی بھی طرح کے فنڈس جاری نہیں کئے جارہے ہیں۔ اگر مرکزی حکومت کی جانب سے فنڈس جاری بھی کئے جائیں تو وہ بالکل معمولی فنڈس ہوتے ہیں۔ ریاستی حکومت کی جانب سے یونیورسٹی کی ترقی کیلئے فنڈس جاری کرنا ہوتا ہے اس یونیورسٹی کے انچارج رجسٹرار ڈاکٹر ستار ساحر امسال ماہ اگسٹ میں سبکدوش ہوگئے۔ اس وقت سے تاحال یونیورسٹی بغیر رجسٹرار کے ہی چلائی جارہی ہے، اور یونیورسٹی کے تمام مسائل و انتظامات وائس چانسلر کے ہی ذمہ ہیں اور یونیورسٹی وائس چانسلر نے یونیورسٹی مشیر کی حیثیت سے سنٹرل یونیورسٹی حیدرآباد کے وظیفہ یاب اے سی نارائنا کا تقرر کررکھا ہے جس کی وجہ سے یونیورسٹی کے حالات دگرگوں ہیں اور تدریسی و غیر تدریسی عملہ جملہ 14 افراد پر مشتمل ہے جن میں 10 افراد پر مشتمل عملہ غیر تدریسی ہی ہے۔ یونیورسٹی کی دیکھ بھال نہ ہونے کی وجہ سے من چاہے فیصلے کئے جارہے ہیں۔ تاحال حکومت نے یونیورسٹی انتظامیہ کا قیام بھی عمل میں نہیں لایا ہے۔ وزیر اعلیٰ چندرا بابو نائیڈو نے ضلع کرنول کو ایجوکشنل ہب میں تبدیل کرنے کا اعلان کیا تھا مگر تاحال وزیر اعلیٰ کے اعلانات عملی جامہ نہ پاسکے۔ اردو یونیورسٹی کا سنگ بنیاد رکھ کر ہوا میں چھوڑ دیا گیا۔ ان خیالات کا اظہار طلبہ تنظیم ایس ایف آئی کے ضلع صدر ناگراج نے کیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ رائلسیما یونیورسٹی کی ترقی کیلئے بھی ناکافی فنڈس جاری کئے جارہے ہیں۔ جبکہ وزیر اعلیٰ نے ٹریپل آئی ٹی کا وعدہ بھی کیا ہے جو تاحال وفا نہ ہوسکا۔ سی پی ائی سٹی سکریٹری غوث دیسائی نے کہا کہ وزیر اعلیٰ محکمہ اقلیتی بہبود خود کے پاس رکھنے کے باوجود یونیورسٹی کی ترقی اور ذاتی عمارت، تدریسی عملہ اور غیر تدریسی عملہ کیلئے اقدامات نہیں کررہے ہیں۔ صرف سنگ بنیاد رکھ کر مسلمانوں کو خوش کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ انہوں نے وزیر اعلیٰ سے مطالبہ کیا کہ فوری یونیورسٹی کی ترقی کیلئے درکار تما اقدامات کئے جائیں۔

TOPPOPULARRECENT