Thursday , June 21 2018
Home / Top Stories / کرن بیدی چیف منسٹر امیدوار ، کجریوال کٹر حریف

کرن بیدی چیف منسٹر امیدوار ، کجریوال کٹر حریف

نئی دہلی۔ 19 جنوری ۔ ( سیاست ڈاٹ کام )بی جے پی نے داخلی ناراضگی کی باتوں کو بالائے طاق رکھتے ہوئے آج پارٹی میں شامل نئی لیڈر کرن بیدی سابقہ آئی پی ایس آفیسر کو 7 فبروری کے دہلی اسمبلی انتخابات کیلئے اپنی وزارت اعلیٰ امیدوار نامزد کردیا ۔ بی جے پی پارلیمنٹری بورڈ کی میٹنگ کے بعد یہ اعلان کرتے ہوئے صدر پارٹی امیت شاہ نے کہاکہ 65 سالہ بیدی

نئی دہلی۔ 19 جنوری ۔ ( سیاست ڈاٹ کام )بی جے پی نے داخلی ناراضگی کی باتوں کو بالائے طاق رکھتے ہوئے آج پارٹی میں شامل نئی لیڈر کرن بیدی سابقہ آئی پی ایس آفیسر کو 7 فبروری کے دہلی اسمبلی انتخابات کیلئے اپنی وزارت اعلیٰ امیدوار نامزد کردیا ۔ بی جے پی پارلیمنٹری بورڈ کی میٹنگ کے بعد یہ اعلان کرتے ہوئے صدر پارٹی امیت شاہ نے کہاکہ 65 سالہ بیدی کو چیف منسٹری کیلئے آگے بڑھانے کافیصلہ ’’متفقہ ‘‘ ہے ۔ انھوں نے کہا کہ بی جے پی70 رکنی اسمبلی کے کلیدی چناؤ بیدی کی قیادت میں لڑے گی ۔ وہ مشرقی دہلی میں جسے بی جے پی کا گڑھ سمجھا جاتا ہے ، کرشنا نگر نشست سے چناؤ لڑیں گی ۔ پارلیمنٹری بورڈ میٹنگ میں وزیراعظم نریندر مودی ، وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ ، وزیر فینانس ارون جیٹلی ، وزیر اُمور خارجہ سشما سوراج و دیگر شریک ہوئے ۔ دریں اثناء ایک نیوز چینل کے سروے کے مطابق کرن بیدی کو عام آدمی پارٹی کے سربراہ اروند کجریوال کی طرف سے وزارت اعلیٰ کیلئے سخت کشمکش کاسامنا رہے گا۔ اے بی پی نیوز ۔ نیلسن کے اسناپ پول کے مطابق کجریوال بدستور 47 فیصد کے ساتھ نہایت ترجیحی وزارت اعلیٰ امیدوار برقرار ہیں جبکہ بیدی کو 44 فیصد شرکائے سروے کی تائید حاصل ہوئی ہے ۔ خواتین میں تو کجریوال تقریباً 50 فیصد حمایت کے ساتھ مزید مقبول ہیں جبکہ بیدی کو 41.4 فیصد تائید ملی ۔ قبل ازیں بیدی نے دعویٰ کیا کہ دہلی میں صرف بی جے پی ہی ترقی کیلئے مرکز کے ساتھ ارتباط میں کام کرسکتی ہے ۔ انھوں نے روہنی میں منعقدہ روڈ شو میں خود کو اس چناؤ میں پارٹی کی شناخت بتاتے ہوئے بی جے پی کے برسراقتدار آنے پر عوام کی زندگیوں میں کئی تبدیلیاں لانے کا وعدہ کیا۔ دوسری طرف کجریوال نے بی جے پی کو ’’ڈوبتی کشتی‘‘ سے تعبیر کیا جس نے شکست کی صورت میں اپنی ساکھ بچانے کیلئے سابقہ پولیس عہدیدار کو میدان میں اُتار دیا ہے اور اُنھیں یقین ہے کہ ناکامی کی ذمہ داری اُنھیں پر ڈال دی جائے گی ۔

TOPPOPULARRECENT