Thursday , July 19 2018
Home / شہر کی خبریں / کرن کمار ریڈی کی آج راہول گاندھی سے ملاقات

کرن کمار ریڈی کی آج راہول گاندھی سے ملاقات

کانگریس میں شمولیت کا رسمی اعلان متوقع
حیدرآباد ۔ 12 ۔ جولائی (سیاست نیوز) متحدہ آندھرا پردیش کے آخری چیف منسٹر این کرن کمار ریڈی کل صدر اے آئی سی سی راہول گاندھی سے ملاقات کریں گے اور کانگریس پارٹی میں باقاعدہ شمولیت اختیار کرلیں گے۔ کرن کمار ریڈی آج نئی دہلی پہنچ گئے ۔ جمعہ کو 11.30 بجے دن راہول گاندھی سے ملاقات کا وقت مقرر ہے۔ آندھراپردیش کی تقسیم اور تلنگانہ ریاست کی تشکیل کے بعد سرگرم سیاست سے دور رہنے والے کرن کمار ریڈی کی کانگریس میں شمولیت سے آندھراپردیش میں دوبارہ پارٹی کے احیاء میں مدد مل سکتی ہے۔ اے آئی سی سی کے انچارج جنرل سکریٹری اومن چانڈی نے گزشتہ دنوں حیدرآباد میں کرن کمار ریڈی سے ملاقات کرتے ہوئے انہیں کانگریس میں شمولیت کی دعوت دی تھی ۔ ان کے علاوہ آندھراپردیش کے کئی سینئر کانگریسی قائدین نے بھی کرن کمار ریڈی کو دوبارہ سرگرم سیاست میں حصہ لینے کا مشورہ دیا۔ واضح رہے کہ آندھراپردیش کی تقسیم کے بعد نئی ریاست آندھرا میں کانگریس زوال سے دوچار ہوگئی ۔ پارٹی کا ایک بھی ایم ایل اے منتخب نہیں ہوسکا۔ پارٹی کی موجودہ صورتحال کو دیکھتے ہوئے ہائی کمان نے کرن کمار ریڈی جیسے چالاک اور نوجوان قائدین کو پارٹی میں واپس لانے کا فیصلہ کیا ہے ۔ حالیہ عرصہ میں آندھراپردیش کی سیاست میں اس وقت نمایاں تبدیلی دیکھی گئی جب برسر اقتدار تلگو دیشم پارٹی نے بی جے پی سے اپنی دوستی کو ختم کرلیا ۔ این ڈی اے سے علحدگی اختیار کرتے ہوئے چندرا بابو نائیڈو نے ریاست کی تقسیم کے وقت کئے گئے وعدوں کی تکمیل میں ناکامی کا مرکز پر الزام عائد کیا گیا ۔ تلگو دیشم ریاست کو خصوصی درجہ دیئے جانے کے مطالبہ پر احتجاج کر رہی ہے۔ صدر کانگریس راہول گاندھی نے اعلان کیا کہ مرکز میں کانگریس کے برسر اقتدار آتے ہی آندھراپردیش کو خصوصی موقف عطا کرتے ہوئے احکامات پر پہلی دستخط کرینگے ۔ راہول گاندھی کے اس اعلان کو عوام کے درمیان پہنچاکر کانگریس قائدین پارٹی کو مستحکم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ پارٹی سے علحدگی اختیار کرنے والے قائدین کو دوبارہ واپس لانے کی تحریک شروع کی گئی۔ بتایا جاتا ہے کہ کرن کمار ریڈی کو آندھرا پردیش میں پارٹی کیلئے فائدہ مند تصور کیا جارہا ہے کیونکہ انہوں نے تقسیم کی مخالفت کرتے ہوئے چیف منسٹر کے عہدہ سے استعفیٰ دے دیا تھا ۔

TOPPOPULARRECENT