کرن کمار نے اسمبلی میں بھی تلنگانہ بل کی سخت مخالفت کی

حیدرآباد۔/22جنوری، ( پی ٹی آئی) آندھراپردیش کے چیف منسٹر این کرن کمار ریڈی نے ریاست کی مجوزہ تقسیم کی آج سخت ترین مخالفت کی اور کہا کہ یہ اقدام ریاست کے تمام علاقوں کیلئے نقصاندہ ہوگا۔ آندھرا پردیش تنظیم جدید بل 2013کے مسودہ پر اسمبلی میں جاری بحث میں آج شام حصہ لیتے ہوئے مسٹر کرن کمار ریڈی نے تلنگانہ ارکان اسمبلی کی زبردست ہنگامہ آرائ

حیدرآباد۔/22جنوری، ( پی ٹی آئی) آندھراپردیش کے چیف منسٹر این کرن کمار ریڈی نے ریاست کی مجوزہ تقسیم کی آج سخت ترین مخالفت کی اور کہا کہ یہ اقدام ریاست کے تمام علاقوں کیلئے نقصاندہ ہوگا۔ آندھرا پردیش تنظیم جدید بل 2013کے مسودہ پر اسمبلی میں جاری بحث میں آج شام حصہ لیتے ہوئے مسٹر کرن کمار ریڈی نے تلنگانہ ارکان اسمبلی کی زبردست ہنگامہ آرائی اور مسلسل خلل اندازی کے درمیان کہا کہ یہ ان کی بدقسمتی ہے کہ انہیں ریاست کی تقسیم کے مسئلہ پر بات کرنا پڑ رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’’ ہر کوئی چیف منسٹر بننا پسند کرتا ہے لیکن یہ میری بدبختی ہے کہ میں چیف منسٹر بن گیا ہوں اور مجھے ( تقسیم کے) مسئلہ پر بات کرنا پڑ رہا ہے‘‘۔ کرن کمار ریڈی جو آندھرا پردیش کی تقسیم اور علحدہ ریاست تلنگانہ کے قیام سے متعلق کانگریس ورکنگ کمیٹی کی طرف سے 30جولائی کو منظورہ قرارداد کی کھلے عام مخالفت کرچکے ہیں ایوان اسمبلی میں بھی آج انہوں نے وہی کہا جو گذشتہ سات ماہ کے دوران کھلے عام اظہار خیال کرتے رہے ہیں۔

کانگریس لیڈر نے کہا کہ ’’ ہماری سی ڈبلیو سی نے یہ فیصلہ کیا ہے لیکن میں اس کا سخت مخالف ہوں، یہ ( فیصلہ) کسی کے بھی حق میں نہیں ہے‘‘۔ چیف منسٹر نے آج ایک ایسے وقت اس بل پر خطاب کرنے کا فیصلہ کیا جب اس بات پر اُلجھن اور غیر یقینی میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے کہ آیا صدر جمہوریہ 23جنوری کو مقررہ مہلت میں مزید توسیع کریں گے یا نہیں۔ اپوزیشن لیڈر اور مختلف جماعتوں کے ارکان کی بحث کے بعد چیف منسٹرکا بیان اگرچہ ایک روایت ہے لیکن کرن کمار ریڈی نے آج اس وقت ہی اپنے خطاب کا آغاز کردیا جبکہ اپوزیشن لیڈر چندرا بابو نائیڈو نے تاحال اس بحث میں حصہ نہیں لیا۔ وزیر فینانس آنم رام نارائن ریڈی نے مسودہ بل کی واپسی کیلئے مقررہ مہلت میں توسیع کے بارے میں پیدا شدہ غیریقینی کا حوالہ دیا چنانچہ چیف منسٹر نے فی الفور خطاب کرنے کا فیصلہ کیا کیونکہ اسمبلی میں بحث کے بعد اس بل کو صدر جمہوریہ سے رجوع کرنے کیلئے 23جنوری تک مہلت دی گئی تھی جس میں توسیع کے بارے قطعی طور پر کچھ کہا نہیں جاسکتا۔ تلنگانہ سے تعلق رکھنے والے ارکان اسمبلی نے چیف منسٹر کی تقریر کے دوران مسلسل ہنگامہ آرائی اور خلل اندازی کی

اور وہ یہ جاننا چاہتے تھے کہ مسٹر کرن کمار ریڈی آخر کس حیثیت سے بیان دے رہے ہیں۔ وزیر پنچایت راج کے جانا ریڈی نے یہ مسئلہ اٹھایا اور چیف منسٹر سے خواہش کی کہ وہ اس بات کی وضاحت کریں کہ آیا وہ قائد ایوان کی حیثیت سے یا پھر ایک رکن اسمبلی کرن کمار ریڈی کی حیثیت سے اس بل کی مخالفت کررہے ہیں۔ جس پر چیف منسٹر نے جواب دیا کہ تفصیلی طور پر اس بات سے واقف کروائیں گے کہ آیا وہ اس بل کی مخالفت کیوں کررہے ہیں۔ تاہم ٹی آر ایس کے ارکا ن اسمبلی ان کے جواب س مطمئن نہیں ہوئے اور وضاحت کا مطالبہ کرتے ہوئے ایوان کے وسط میں جمع ہوگئے۔ ایک مرحلہ پر جب ایوان میں زبردست شور وغل شروع ہوگیا آنم رام نارائن ریڈی نے کہاکہ چیف منسٹر کو بھی اپنے نظریات کے اظہار کا حق حاصل ہے،کوئی بھی قائد ایوان کے مقام کو چیلنج نہیں کرسکتا۔

جس پر جانا ریڈی نے کہا کہ اگر کرن بحیثیت قائد ایوان اس بل کی مخالفت کررہے ہیں تو وہ( تلنگانہ ارکان اسمبلی ) ان کے موقف کے فریق نہیں ہوں گے۔ بعد ازاں چیف منسٹر نے اپنا خطاب جاری رکھا اور پہلے ریاستی تنظیم جدید کمیشن کے اقتباسات پڑھ کر سنایا۔ علاوہ ازیں سابق وزرائے اعظم پنڈت جواہر لعل نہرو اور اندرا گاندھی کی تقاریر کا حوالہ دیتے ہوئے تقسیم کے خلاف اپنی بحث کو مدلل بنانے کی کوشش کی۔ انہوں نے حتیٰ کہ سابق ریاست حیدرآباد میں کی گئی بحث کا بھی حوالہ دیا اور دعویٰ کیا کہ 1956ء میں ریاست آندھرا میں سابق ریاست حیدرآباد کا انضمام زبردستی نہیں کیا گیا تھا۔ انہوں نے ٹی آر ایس کے صدر چندر شیکھر راؤ کا طنزیہ حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ محض ترقی کے نام پر علحدہ ریاست مانگنے والے چند مفادات حاصلہ عناصر کو خوش کرنے کیلئے نئی ریاست کا قیام عمل میں نہیں لایا جاسکتا۔ ان کے اس ریمارک پر ٹی آر ایس ارکان نے شدید احتجاج کیا۔ تاہم کرن کمار ریڈی نے اپنی تقریر کا سلسلہ جاری رکھا اور ریاست میں سرکاری ملازمتوں، آبپاشی اور دیگر شعبوں سے متعلق اعداد و شمار کا انبار لگادیا۔ ان کی تقریر غیر مختتم رہی اور ایوان کی کارروائی کل تک کیلئے ملتوی کردی گئی۔

چیف منسٹر کے آبائی ضلع کیلئے
زائد فنڈز مختص کرنے کا اعتراف
حیدرآباد۔/22 جنوری(سیاست نیوز) چیف منسٹر مسٹر این کرن کمار ریڈی نے آج ادعا کیا کہ ان کی حکومت نے ان کے اپنے ضلع چتور کے لئے پینے کے پانی کے مسئلہ کی یکسوئی کے لئے زائد فنڈس مختص کئے۔ ایوان اسمبلی میں جب ٹی آر ایس کے ڈپٹی لیڈر مسٹر ٹی ہریش راؤ نے الزام عائد کیا کہ ریاستی حکومت نے تلنگانہ اضلاع کے تئیں امتیاز برتا اور جس کی مثال یہ ہے کہ صرف ضلع چتور کو 6,000 کروڑ روپے مختص کئے گئے ہیں تو چیف منسٹر نے ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ موسم گرما میں روزانہ ضلع چتور میں 250 تا 300 بورویلز خشک ہوجاتے ہیں جس کے نتیجہ میں پینے کے پانی کا مسئلہ سنگین بن جاتا ہے۔ ضلع کے عوام پانی کو ترسنے لگے ہیں، اسی لئے ان کی حکومت نے اس مسئلہ کو حل کرنے ضلع کے لئے فنڈس مختص کی ہے۔ انہوں نے یاد دلایا کہ تلنگانہ خطہ میں پرنہیتا۔چیوڑلہ آبپاشی پراجکٹ 38,000کروڑ روپے کے تخمینی موازنہ سے شروع کیا گیا۔

TOPPOPULARRECENT