Thursday , October 18 2018
Home / شہر کی خبریں / کروڑہا شہریوں کو پانی سربراہ کرنے والا واٹر ورکس قرض میں غرق

کروڑہا شہریوں کو پانی سربراہ کرنے والا واٹر ورکس قرض میں غرق

اخراجات پر قابو پانے سے قاصر، آر ٹی آئی کے تحت درخواست پر انکشاف
حیدرآباد ۔ 12 مارچ (سیاست نیوز) ایک کروڑ شہریوں کو پینے کا پانی سربراہ کرنے والا حیدرآباد میٹرو واٹر ورکس قرضوں میں ڈوبا ہوا ہے۔ خاص کر بڑھتے ہوئے برقی چارجس، تنخواہوں اور دیگر اخراجات میں اضافے کی وجہ سے ادارہ ترقیاتی کام انجام دینے سے قاصر ہے اور اس مناسبت سے کسی بھی جدید پراجکٹ پر عمل آوری کیلئے قرضوں کا سہارا لینا پڑرہا ہے۔ کرشنا، گوداوری اور دیگر پراجکٹوں کیلئے حاصل کیا گیا قرض 6138 کروڑ تک پہنچ گیا ہے اور اب مزید پراجکٹ جیسے آؤٹر رنگ روڈ کے مواضعات کو پانی کی سربراہی، کیشواپور آبی ذخیرے وغیرہ کیلئے قرض حاصل کرنے کے سواء کوئی چارہ نہیں ہے۔ واضح ہوکہ حیدرآباد میٹرو واٹر ورکس کے صدرنشین کی حیثیت سے خود وزیراعلیٰ کے سی آر ہیں اس کے باوجود ادارہ قرضوں میں ڈوبا ہوا ہے۔ میٹرو واٹر ورکس کی آمدنی اور اس کے اخراجات مساویانہ بھی نہیں ہیں اور ہر ماہ 40 کروڑ نقصان کا بجٹ پیش کیا جارہا ہے اور یہ تمام تفصیلات شہر سے تعلق رکھنے والی ایک این جی اوز کی جانب سے آر ٹی آئی کے تحت داخل کردہ درخوست کے جواب سے واضح ہوئی ہیں۔ میٹرو واٹر ورکس نے بعض ایسے قرضے بھی حاصل کئے ہیں جن پر 12.5 فیصد سود ادا کیا جارہا ہے جس سے ظاہر ہوتا ہے مستقبل میں یہ ادارہ اپنی حیثیت کھو دے گا۔ واضح ہوکہ میٹرو واٹر ورکس کو سب سے زیادہ نقصان برقی کے زیادہ استعمال سے ادا کی جانے والی رقومات سے ہورہا ہے جبکہ واٹر ورکس کو جدید کنکشن اور دیگر ذرائع سے ماہانہ 100 کروڑ کی آمدنی ہوتی ہے جس میں سے ماہانہ 70 کروڑ روپئے برقی چارجس ادا کرنے پڑتے ہیں مگر 40 کروڑ روپئے ہی ماہانہ ادا کئے جارہے ہیں اور بقیہ چارجس پر 11 فیصد ٹکٹ پنالٹی ڈالی جاتی ہے اور تاحال برقی بقایا جات 200 کروڑ تک پہنچ گئے ہیں۔ میٹرو واٹر ورکس بھاری اخراجات کے باوجود عوام کو کم قیمتوں پر پانی سربراہ کررہا ہے۔ اس ادارے کی اتنی بڑی خدمت کے باوجود جنوبی تلنگانہ کا برقی ادارہ کمرشیل چارجس کے تحت ہی برقی سپلائی کررہا ہے اور اس مناسبت سے واٹر ورکس کی جانب سے کئی مرتبہ نمائندگیوں کے باوجود اقدام نہیں کیا جارہا ہے اور حالیہ دنوں میں کرشنا ندی کی تیسری قسط، گوداوری پراجکٹوں کا آغاز ہونے کے بعد مزید 40-30 کروڑ کے برقی چارجس کا اضافہ ہوا ہے تاحال جملہ 70 کروڑ کا اضافہ ہوا ہے اور عنقریب یہ چارجس 100 کروڑ سے بھی آگے جاسکتے ہیں۔ ماضی میں برقی بقایا جات کے 300 کروڑ کی ادائیگی کیلئے میٹرو واٹر ورکس کے مرکزی دفتر کو رہن رکھتے ہوئے قرضہ حاصل کیا گیا تھا اور اس قرض پر 12.5 فیصد سالانہ سود ادا کیا جارہا ہے تو دوسری جانب گوداوری پراجکٹ کیلئے ہیڈکو سے 3 ہزار کروڑ کا قرض حاصل کیا گیا ہے اور اس قرض پر 10.5 فیصد سود ادا کیا جارہا ہے اور حالیہ دنوں میں مضافاتی بلدیات کو پانی سربراہ کرنے کیلئے 1900 کروڑ کا قرض حاصل کیا گیا ہے۔ آوٹر رنگ روڈ کے اطراف موجود 190 مواضعات و بستیوں کو پانی سربراہ کرنے کیلئے 700 کروڑ کی لاگت سے کام جاری ہیں اور اس پر بھی 13 فیصد سود ادا کیا جائے گا۔ مزید کیشوا پور پراجکٹ کیلئے برقی برڈ یونیٹی کے تحت 6 ہزار کروڑ 13 فیصد سود کی ادائیگی کی شرط پر لون حاصل کیا گیا ہے۔ حکومت کی جانب سے اگر بروقت امداد دی گئی تو واٹر ورکس کی حالات میں سدھار آسکتا ہے اور اس مناسبت سے بورڈ کے عہدیداران نے بجٹ میں 3 ہزار کروڑ جاری کرنے سے متعلق حکومت کو سفارشات پیش کئے ہیں۔ اگر حکومت نصف بجٹ بھی مختص کرتی ہے تو واٹر ورکرس خدمات انجام دے سکتا ورنہ میٹرو واٹر ورکس ایک ڈوبنے والی کشتی کے مترادف ہوگا۔ میٹرو واٹر ورکس نے سال 2014-15ء میں 1809.16 کروڑ سال 2015-16ء میں 1588.83 کروڑ اور 2016-17ء میں 2740 کروڑ اس طرح جملہ 6137.99 کروڑ کا قرض حاصل کیا ہے۔

TOPPOPULARRECENT