Wednesday , December 12 2018

کروڑہا ڈالرس مالیتی امریکی ساختہ عصری ہتھیار داعش کے قبضے میں

واشنگٹن 16 سپٹمبر (سیاست ڈاٹ کام) عراق اور شام میں دولت اسلامیہ عراق و شام (داعش) کی غیرمعمولی پیشرفت اور نظام خلافت کے اعلان کے ساتھ ہی امریکہ اور اس کے حلیفوں میں زبردست بے چینی پیدا ہوئی لیکن آئی ایس آئی ایس کے خلاف فیصلہ کن کارروائی میں اس نے عجلت پسندی سے کام نہیں لیا۔ تاہم امریکی صحافی اور دو برطانوی امدادی کارکنوں کے سر تن سے

واشنگٹن 16 سپٹمبر (سیاست ڈاٹ کام) عراق اور شام میں دولت اسلامیہ عراق و شام (داعش) کی غیرمعمولی پیشرفت اور نظام خلافت کے اعلان کے ساتھ ہی امریکہ اور اس کے حلیفوں میں زبردست بے چینی پیدا ہوئی لیکن آئی ایس آئی ایس کے خلاف فیصلہ کن کارروائی میں اس نے عجلت پسندی سے کام نہیں لیا۔ تاہم امریکی صحافی اور دو برطانوی امدادی کارکنوں کے سر تن سے جدا کردیئے جانے کے علاوہ دشمن فوجیوں کو بہیمانہ انداز میں موت کے گھاٹ اُتار دینے داعش کے ظالمانہ طریقہ سے امریکہ کے بشمول مغربی طاقتیں تڑپ اُٹھی ہیں۔ امریکہ کو اس بات کا خطرہ ہے کہ اگر دولت اسلامیہ عراق و شام کی سرکوبی نہیں کی گئی تو سارے علاقہ میں بقول امریکی انٹلی جنس ایجنسیوں کے دنیا کا یہ خطرناک دہشت گرد گروپ زبردست تباہی مچادے گا۔ چنانچہ مغربی و مسلم ممالک کو اعتماد میں لیتے ہوئے امریکہ نے داعش کے خلاف عالمی اتحاد کو قطعیت دی ہے۔ اس اتحاد میں 30 ممالک شامل ہیں جنھوں نے داعش کے خلاف لڑائی میں امریکہ کا ساتھ دینے کا عہد کیا ہے۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ امریکی زیرقیادت اس اتحاد میں ایران کو شامل نہیں کیا گیا۔

تاہم ایران کے روحانی رہنما آیت اللہ علی خامنہ ای کا کہنا ہے کہ امریکہ نے داعش کے خلاف اس اتحاد میں شامل ہونے کی ایران سے درخواست کی تھی لیکن ایران نے اس درخواست کو ٹھکرادیا۔ امریکی و مغربی دفاع تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے لئے نظام خلافت کا احیاء بہت خطرناک اشارہ ہے اور ابوبکر البغدادی نے اپنی خلافت کا اعلان کرتے ہوئے مغربی طاقتوں اور علاقہ میں ان کے حریفوں پر ہیبت طاری کردی ہے۔ امریکہ و برطانیہ کیلئے ایک اور پریشان کن بات یہ ہے کہ داعش کسی دہشت گرد تنظیم کی طرح نہیں بلکہ ایک منظم فوج کی طرح خود کو آگے بڑھارہی ہے۔ ان کیلئے داعش میں مغربی ممالک سے تعلق رکھنے والے سفید فام مرد و خواتین کی شمولیت بھی تشویش کا باعث بنی ہوئی ہے۔ افغانستان میں برطانوی فوج کے ساتھ کمانڈر کرنل رچرڈ کیمپ کے خیال میں امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے فضائی حملوں سے کچھ ہونے والا نہیں ہے۔ داعش کی کمر توڑنے اور اسے کمزور کرنے کیلئے زمینی فوجی حملہ ناگزیر ہے۔ کرنل رچرڈ کیمپ کا کہنا اس لئے درست ہے کہ دولت اسلامیہ عراق و شام نے شمالی و وسطی عراق میں پیشرفت کے دوران عراقی فوج سے بھاری مقدار میں امریکی ساختہ ہتھیار، دبابے اور عصری بندوق چھیننے میں کامیابی حاصل کی۔ یہی وجہ ہے کہ 8 سپٹمبر سے 13 سپٹمبر تک امریکہ نے جملہ 160 فضائی حملے کئے لیکن داعش کو کوئی خاص نقصان نہیں پہنچا۔ عراق میں پیشرفت کے دوران داعش جنگجوؤں نے عراقی فوج سے جو ہتھیار اور سامان حربی چھینا ہے

اس میں 52 ، M192 ، 155M ہوٹ زیرس توپیں بھی شامل ہیں۔ اس ایک توپ کی قیمت 5 لاکھ ڈالر بتائی جاتی ہے اس طرح 1500 امریکی ساختہ Humvees اور PKC 4000 مشین گنس بھی داعش کے قبضے میں آگئے۔ یہ ایسی مشین گنیں ہیں جو فی منٹ 800 راؤنڈ فائرنگ کرتا ہے۔ امریکی انٹلی جنس ایجنسیوں کو اچھی طرح احساس ہے کہ داعش فی الوقت دنیا کا سب سے دولتمند اور عصری ہتھیاروں سے لیس عسکری گروپ ہے جو علاقہ میں اپنی سرگرمیوں کو وسعت دینے کے خواب کو شرمندہ تعبیر کرنا چاہتا ہے۔ دفاعی تجربہ نگاروں کا کہنا ہے کہ امریکہ خود کو سوپر پاور کہتا ہے پھر داعش کے خلاف اسے اتحادیوں کی ضرورت کیوں پیش آرہی ہے۔ ان تجزیہ نگاروں کے مطابق دنیا کو اچھی طرح معلوم ہے کہ داعش، یمن میں سرگرم القاعدہ، جزیرۃ العرب، مانی میں سرگرم القاعدہ اسلامی گروپ، نائجیریا میں اپنی کارروائیوں سے ہلچل مچانے والی بوکو حرام، صومالیہ میں دہشت کا باعث بنی ہوئی الشباب، افغانستان و پاکستان میں شرعی حکومت کے خواہاں طالبان، لیبیا میں اسلامی نظام قائم کرنے کی متمنی انصار الشرعیہ ، لیبیا، تیونس میں اسلامی انقلاب لانے والی انصار الشرعیہ تیونس، انڈونیشیاء کی جماعۃ اسلامیہ اور فلپائن میں معروف ابو سیاق گروپ سے کہیں زیادہ خطرناک دولتمند اور عصری ہتھیاروں سے لیس ہے۔ ان حالات میں اس کے ساتھ اتحاد کے ذریعہ ہی مقابلہ کیا جاسکتا ہے۔

TOPPOPULARRECENT