Tuesday , June 19 2018
Home / ہندوستان / کرپشن معاملات میں امتیاز پر سی وی سی برہم

کرپشن معاملات میں امتیاز پر سی وی سی برہم

نئی دہلی 7 اگسٹ ( سیاست ڈاٹ کام ) مرکزی ویجیلنس کمیشن کی جانب سے کرپٹ اور بدعنوان عہدیداروں کے خلاف کارروائی اور انہیں سزا دینے سے متعلق سفارشات کو مختلف سرکاری محکمہ جات بشمول او این جی سی اور وزارت خارجہ میں قبول نہیں کیا گیا ہے ۔ سنٹرل ویجیلنس کمیشن کی سالانہ رپورٹ برائے 2013 میں کہا گیا ہے کہ گذشتہ سال 17 ایسے موقع رہے جہاں سی وی سی ن

نئی دہلی 7 اگسٹ ( سیاست ڈاٹ کام ) مرکزی ویجیلنس کمیشن کی جانب سے کرپٹ اور بدعنوان عہدیداروں کے خلاف کارروائی اور انہیں سزا دینے سے متعلق سفارشات کو مختلف سرکاری محکمہ جات بشمول او این جی سی اور وزارت خارجہ میں قبول نہیں کیا گیا ہے ۔ سنٹرل ویجیلنس کمیشن کی سالانہ رپورٹ برائے 2013 میں کہا گیا ہے کہ گذشتہ سال 17 ایسے موقع رہے جہاں سی وی سی نے مختلف عہدیداروں کے خلاف کارروائی کی سفارش کی تھی لیکن یا تو ان کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی گئی یا پھر معمولی سزاوں کے ذریعہ انہیں چھوڑ دیا گیا ہے ۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ چار مقدمات کا تعلق دہلی ڈیولپمنٹ اتھاریٹی سے ‘ تین کا وزارت تیلوے سے ‘ دو کا میونسپل کارپوریشن دہلی

اور دو کا تیل و قدرتی گیس کمیشن سے تعلق تھا ۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سنٹرل پبلک ورکس ڈپارٹمنٹ ‘ دہلی جل بورڈ ‘ ایل آئی سی ہاوزنگ فینانس لمیٹیڈ‘ وزارت خارجہ ‘ اسٹیٹ بینک آف انڈیا اور بیورو آف انڈین اسٹانڈرڈس میں کم از کم ایک عہدیدار کے ساتھ صرف مخصوص عہدیداروں کو نشانہ بنانے کا معاملہ سامنے آیا ہے جبکہ دوسروں کو بخش دیا گیا ۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ کچھ محکمہ جات کی جانب سے عہدیداروں کے خلاف کسی طرح کی کارروائی یا سزا نہ دینے کا معمولی سزائیں اور معمولی جرمانوں سے غلط پیام جاتا ہے اس کے علاوہ دوسرے عہدیداروں کی حوصلہ افزائی بھی ہوتی ہے جو اپنے عہدوں کا بیجا استعمال کرتے ہیں۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ جب کبھی کمیشن کے علم میں ایسے معاملات لائے جاتے ہیں وہ اپنی تشویش اور فکر سے متعلقہ محکمہ جات کو واقف کرواتا رہا ہے تاکہ ایسے معاملات میں امتیازی سلوک نہ ہونے پائے ۔

TOPPOPULARRECENT