Friday , July 20 2018
Home / کھیل کی خبریں / کرکٹرس کے ڈوپنگ ٹسٹ :بی سی سی آئی کو اقدامات کرنے کا مشورہ

کرکٹرس کے ڈوپنگ ٹسٹ :بی سی سی آئی کو اقدامات کرنے کا مشورہ

تمام اسپورٹس میں ڈوپنگ کے انسداد کیلئے معائنے ، کرکٹ کو استثنیٰ نہیں : وزیر اسپورٹس
نئی دہلی۔ 19 نومبر (سیاست ڈاٹ کام) وزیر اسپورٹس راجیہ وردھن سنگھ راٹھور نے آج کہا کہ ہندوستانی کرکٹرس کے قومی انسداد ڈوپنگ ادارہ کی طرف سے معائنہ کو یقینی بنانے کے لئے بی سی سی آئی کو اقدامات کرنا چاہئے، تاہم انہوں نے عالمی انسداد ڈوپنگ ادارہ پر زور دیا کہ وہ ہندوستانی بورڈ کو اپنے ضابطہ کا پابند بنائے۔ راتھور نے یہ تبصرہ اس وقت کیا جب ہندوستانی کرکٹرس پر ڈوپ ٹسٹنگ قومی ادارہ کے دائرۂ کار میں شامل نہ ہونا سے متعلق بی سی سی ائی کے پرزور ردعمل کے بارے میں دریافت کیا گیا تھا۔ راٹھور نے کہا کہ ’’مجھے خوشی ہے کہ کسی بیرونی ادارہ کی طرف سے ڈوپ کنٹرول کیا جارہا ہے لیکن ملک کے تمام اسپورٹس ادارے اور چند دیگر ممالک بھی قومی انسداد ڈوپنگ ادارہ پر جب بھروسہ کررہے ہیں تو کرکٹرس کو بھی اس پر بھروسہ کرنا چاہئے۔ راٹھور نے جو دہلی ہاف میراتھن کے موقع پر اخباری نمائندوں سے بات چیت کررہے تھے، مزید کہا کہ تاہم اس مسئلہ پر ہم عالمی انسداد ڈوپنگ ادارہ کی ایماء پر چھوڑتے ہیں کیونکہ یہ اس کی صوابدید پر منحصر ہے۔ آئی سی سی چونکہ عالمی ادارہ کے تحت رجسٹرڈ ہے چنانچہ انہیں ڈوپنگ معیارات کا پابند ہونا چاہئے۔ اس طرح انسداد ڈوپنگ کے عالمی ادارہ (واڈا) پر یہ منحصر ہے کہ کرکٹرس پر اپنی طرف سے ڈوپ ٹسٹ کو یقینی بنائے‘‘۔ وزیر اسپورٹس نے کہا کہ ہندوستانی کرکٹ کے ڈوپ ٹسٹ کا مسئلہ حل کرلیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ ’’ہمیں اس موضوع پر کوئی واضح مسئلہ درپیش نہیں ہے۔ ہمارے پاس اور بھی کئی اسپورٹس توجہ طلب ہیں اور ہم تمام اسپورٹس پر فخر کرتے ہیں‘‘۔ بی سی سی آئی نے انسداد ڈوپنگ کے قومی ادارہ (ناڈا) کو ایک سخت جواب دیتے ہوئے کہا تھا کہ ہندوستان کرکٹرس کی ڈوپ ٹسٹنگ سرکاری ادارہ کے دائرہ کار میں شامل نہیں ہے۔ ناڈا کے سربراہ نوین اگروال نے 8 نومبر کو بی سی سی آئی کے سی ای او راہول جوہری کے نام اپنے ایک مکتوب میں واضح کیا تھا کہ ناڈا کو اپنے کرکٹرس کے ڈوپنگ معائنے کی ضرورت نہیں ہے، کیونکہ بورڈ کوئی قومی اسپورٹس فیڈریشن نہیں ہے چنانچہ انسداد ڈوپنگ کا موجودہ طریقہ کافی ہے۔ اسپورٹس میں ڈوپنگ کے بارے میں عام طور پر کی جانے والی باتوں کا تذکرہ کرتے ہوئے راٹھور نے کہا کہ ’’ہمارے لئے تین باتیں کافی اہم ہیں جو کھلاڑی، کوچ اور اسپورٹس شائقین۔ جب ڈوپنگ ہوتی ہے تو شائقین کے ساتھ دھوکہ دہی ہوتی ہے چنانچہ ہر ادارہ کو یہ یقینی بنانا ہوگا کہ ان کے کھیل میں کوئی دھوکہ دہی نہیں ہوئی ہے اور اس میں کرکٹ کو کوئی استثنیٰ نہیں ہے‘‘۔

TOPPOPULARRECENT