Tuesday , December 18 2018

کرکٹ میں بھی سرخ اور زرد کارڈس کے استعمال کا مطالبہ

لندن 13 اگسٹ (سیاست ڈاٹ کام) کرکٹ کے حلقوں میں یہ بحث جاری ہے کہ فٹبال کی طرح کرکٹ میں بھی سرخ اور زرد کارڈوں کا استعمال شروع کر دیا جائے۔انگلینڈ اور ہندوستان کے درمیان ٹرینٹ بریج میں پہلے ٹسٹ میچ کے دوران انگلش بولر جیمس اینڈرسن اور ہندوستانی آل راؤنڈر رویندر جڈیجہ کے جھگڑے کے بعد کرکٹ حلقوں میں یہ بحث چھڑ گئی ہے کہ کیا کرکٹ کھلاڑی

لندن 13 اگسٹ (سیاست ڈاٹ کام) کرکٹ کے حلقوں میں یہ بحث جاری ہے کہ فٹبال کی طرح کرکٹ میں بھی سرخ اور زرد کارڈوں کا استعمال شروع کر دیا جائے۔انگلینڈ اور ہندوستان کے درمیان ٹرینٹ بریج میں پہلے ٹسٹ میچ کے دوران انگلش بولر جیمس اینڈرسن اور ہندوستانی آل راؤنڈر رویندر جڈیجہ کے جھگڑے کے بعد کرکٹ حلقوں میں یہ بحث چھڑ گئی ہے کہ کیا کرکٹ کھلاڑیوں کی بدتمیزی سے نمٹنے کے معاملے میں بہت نرم ہے۔دنیا کے دیگر کھیلوں کے مقابلے میں کرکٹ امپائر کے پاس ایسا کوئی اختیار نہیں جس سے وہ کسی کھلاڑی کو میدان سے باہر نکال دے۔

تاہم میچ کے بعد آئی سی سی کی جانب سے نامزد کیے جانے والے میچ ریفری ایسے کھلاڑیوں کو سزائیں دے سکتے ہیں یا جرمانے عائد کرسکتے ہیں۔یہ بحث جاری ہے کہ فٹبال کی طرح کرکٹ میں بھی سرخ اور زرد کارڈوں کا استعمال شروع کر دیا جائے تاکہ امپائروں کو میدان میں کھلاڑیوں کے معمولیجھگڑے نمٹنے میں سہولت ہو جائے۔لیکن کیا یہ تبدیلی کرکٹ کی اصل روح کو بدلنے کے مترداف نہیں ہو گی؟خیال رہے کہ رواں برس آئی سی سی اور ایم سی سی کے اجلاسوں میں اس بارے میں غور کیا گیا تھا۔
کرکٹ کمنٹیٹر پرکاش واکینکر کے بموجب جب تک امپائروں کو مداخلت کے مزید اختیارات نہیں دیے جاتے، کرکٹ کا کھیل متاثر ہوتا رہے گا۔انھوں نے کہا ’ہمیں ایسے نظام کی ضرورت ہے جو کھلاڑیوں کے کریئر کے ساتھ ساتھ چلتا رہے اور وہ ان کے برے رویے پر انھیں سخت سزا دے سکے۔

Top Stories

TOPPOPULARRECENT