Sunday , June 24 2018
Home / کھیل کی خبریں / کرکٹ کو بی سی سی آئی سے شدید نقصان: سپریم کورٹ

کرکٹ کو بی سی سی آئی سے شدید نقصان: سپریم کورٹ

نئی دہلی۔ 24؍نومبر (سیاست ڈاٹ کام)۔ انڈین پریمئر لیگ (آئی پی ایل) کی اِسپاٹ فکسنگ اور سٹے بازی پر سنوائی کا آغاز کرتے ہوئے سپریم کورٹ نے آج بی سی سی آئی پر سخت برہمی ظاہر کی اور کہا ہے کہ دولت مند ٹورنمنٹ دراصل بی سی سی آئی اور آئی پی ایل کے درمیان باہمی تجارتی مفادات کا گروپ ہے۔ مدگل پینل کی جانب سے داخل کردہ رپورٹ پر آج ہوئی سنوائی میں بی سی سی آئی نے چند اہم نکات پر اپنا بیان جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ بی سی سی آئی جس پر ایک عام آدمی نے بھروسہ کیا ہے، لیکن اس نے کھیل کے تقدس کو پامال کرنے کے علاوہ عوام کے بھروسے کو بھی شدید نقصان پہنچایا ہے۔ سپریم کورٹ کا یہ تبصرہ این سرینواسن کے لئے شدید دھکا ہے، کیونکہ سپریم کورٹ نے انھیں بی سی سی آئی کے صدر اور چینائی سوپر کنگس کے مالک کے عہدہ پر اُس وقت واپسی کی ہدایت دی تھی، جب وہ ان الزامات اور تنازعات سے خود کو پاک کرلیں گے۔ سپریم کورٹ نے بی سی سی آئی سے استفسار کیا کہ کس طرح ارکان جو مالی اعتبار سے اتنے مستحکم نہیں ہیں، وہ آئی پی ایل میں ٹیموں کے مالک بن چکے ہیں؟ اور یہ کھیل کے مفاد میں بالکل نہیں ہے۔ سپریم کورٹ نے یہ بھی ہدایت دی کہ کرکٹ کو اس کی صحیح اِسپرٹ کے ساتھ کھیلنے کے علاوہ ہندوستان میں مقبول ترین کھیل کو ’جنٹلمین گیم‘ کی طرح ہی منعقد کیا جانا چاہئے۔ بی سی سی آئی، کرکٹ میں اِسپاٹ فکسنگ اور سٹے بازی کو فروغ دے رہی ہے جوکہ کرکٹ کے لئے شدید نقصاندہ ہے۔ سنوائی کے دوران سپریم کورٹ نے سرینواسن کے لئے اُس وقت راحت کا سامان فراہم کیا ہے جب اس نے بی سی سی آئی کو کہا ہے کہ چونکہ سرینواسن کے خلاف کوئی شکایت درج نہیں ہے، لہٰذا انھیں دوبارہ ان کے عہدہ پر فائز کیا جاسکتا ہے۔ 18 نومبر کو منعقدہ بی سی سی آئی کے اجلاس میں بورڈ نے یہ فیصلہ کیا تھا کہ این سرینواسن اور آئی پی ایل کے مشترکہ مالک سندر رامن کی حمایت کی جائے اور اس کے لئے ورکنگ کمیٹی کا ایک ہنگامی اجلاس منعقد ہوا تھا۔ سپریم کورٹ نے میچ فکسنگ کے الزامات میں این سرینواسن کو کلین چِٹ دی ہے، لہٰذا بی سی سی آئی کے صدر اور چینائی سوپر کنگس کے عہدہ پر ان کی واپسی کی راہ ہموار ہوئی ہے۔ مدگل کمیٹی جس نے 17 نومبر کو رپورٹ داخل کی تھی، اس میں این سرینواسن کے علاوہ بی سی سی آئی کے مزید چار عہدیداروں کے خلاف قواعد کی خلاف ورزی کی شکایت درج کی تھی، لیکن سپریم کورٹ نے سرینواسن کو کلین چِٹ دی ہے۔ قبل ازیں 14 نومبر کو سپریم کورٹ نے 7 ناموں کا بھی انکشاف کیا تھا جن کے خلاف مدگل کمیٹی نے تحقیقات کی ہے۔ آئی پی ایل اِسپاٹ فکسنگ تنازعہ میں کئی بڑے نام جن میں آئی سی سی کے صدر این سرینواسن، ان کے داماد گروناتھ میئپن، راجستھان رائلز کے مشترکہ مالک راج کندرا بھی شامل ہیں۔ علاوہ ازیں کرکٹ کھیلنے والے کئی موجودہ کھلاڑیوں کے نام بھی ان میں شامل کئے گئے ہیں اور ممکن ہے کہ عنقریب ان کے متعلق مزید انکشافات کئے جائیں گے۔ دریں اثناء وزیر اسپورٹس سربانندا سنوول نے اس معاملہ کو سنگین نوعیت کا معاملہ قرار دیا اور کہا ہے کہ انڈین پریمئر لیگ کے اِسپاٹ فکسنگ تنازعہ میں خاطی پائے جانے والے افراد کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔ سنوول نے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ یقینا جو کوئی بھی آئی پی ایل اِسپاٹ فکسنگ میں قصوروار پایا جائے گا، اس کو سزا دی جائے گی، جیسا کہ میں نے پہلے ہی کہا ہے کہ یہ کافی سنگین نوعیت کا معاملہ ہے۔ سنوول جو یہاں مرکزی وزیر برائے فرٹیلائزر اننت کمار کی رہائش گاہ پر بلائنڈ کرکٹ ونڈے ورلڈ کپ کے ضمن میں ہندوستانی ٹیم سے تبادلۂ خیال کررہے تھے۔

TOPPOPULARRECENT