Sunday , November 19 2017
Home / کھیل کی خبریں / کرکٹ کے میدان میں ٹیم کی کارکردگی پر اصل توجہ مرکوز

کرکٹ کے میدان میں ٹیم کی کارکردگی پر اصل توجہ مرکوز

میدان کے باہر کے متنازعہ مسائل سے ممکنہ حد تک گریز ۔ ویسٹ انڈیز کپتان جیسن ہولڈر
دوبئی 6 نومبر ( سیاست ڈاٹ کام ) ویسٹ انڈیز کے ٹسٹ کپتان جیسن ہولڈر نے کہا کہ وہ میدان کے باہر متنازعہ مسائل سے بچنے کی کوشش کرینگے اور ٹیم کی قیادت کرنے کے اپن اصل کام پر توجہ دینگے ۔ سنٹرل کنٹراکٹ کو قبول نہ کرنے ڈارین براوو ‘ مارلن سیموئیلس اور کارلوس براتھویٹ کے انکار سے متعلق میڈیا کے سوال پر ہولڈر نے کہا کہ وہ ایسے انتظامی امور میں کوئی اختیار نہیں رکھتے اور انہیں صرف ویسٹ انڈیز ٹیم کی میدان پر کارکردگی بہتر بنانے کی ذمہ داری ہے ۔ یہ تینوں کھلاڑی اس ٹسٹ ٹیم کا حصہ تھے جس نے بالآخر 19 مہینوں بعد کوئی میچ جیتا تھا ۔ یہ میچ بھی چار سال میں پہلی مرتبہ بیرونی سرزمین پر جیتا گیا تھا ۔ اس ٹیم نے پاکستان کو تیسرے اور آحری ٹسٹ میںچارجہ میں پانچ وکٹس سے شکست دی تھی ۔ ہولڈر نے کہا کہ وہ پہلے بھی کہہ چکے ہیں کہ ویسٹ انیز کرکٹ کے تعلق سے جو بھی منفی چیزیں ہیں وہ بنیادی طور پر ان کے کنٹرول سے باہر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس بات پر ان کا کوئی قابو نہیںہے کہ کون کنٹراکٹ کرتا ہے یا ان کے ساتھ کون ہے ۔ وہ صرف کرکٹ کے میدان پر اپنی قسمت پر کنٹرول رکھتے ہیں اور ڈریسنگ روم میں بھی یہی بات چل رہی ہے ۔ ویسٹ انڈیز کرکٹ بورڈ نے جاریہ ہفتے یہ بتایا تھا کہ براوو ‘ سیموئیلس اور براتھویٹ نے کنٹراکٹ کی تجدید سے گریز کیا ہے اور یہ معیاد آئندہ سال ستمبر میں ختم ہوگی ۔ ڈارین براوو ویسٹ انڈیز کے ان کھلاڑیوں کے گروپ کے سربراہ ہیں جو بورڈ سے نبرد آزما ہے ۔ سیموئیلس بھی ٹیم کے سینئر کھلاڑی ہیں اور وہ ویسٹ انڈیز کیلئے اب تک 71 ٹسٹ اور 187 ونڈے میچس کھیل چکے ہیں۔ براتھ ویٹ کو حال ہی میں ٹوئنٹی 20 ٹیم کا کپتان نامزد کیا گیا تھا اور وہ ونڈے اور ٹسٹ دونوں ٹیموں کا بھی حصہ ہیں۔ کنٹراکٹ پر دستخط نہ کرنے کے ان کے فیصلے سے ان کے مستقبل کے تعلق سے سوال پیدا ہوگئے ہیں لیکن ہولڈر نے کہا کہ بالآخر یہ ہر کھلاڑی پر منحصر ہے کہ وہ اپنی کارکردگی اور کیرئیر کی ذمہ داری کو سمجھے ۔ انہوں نے کہا کہ بحیثیت کھلاڑی ہمیں اپنے عمل میں ذمہ دار ہونا چاہئے اور شخصی وقار کو بھی ملحوظ خاطر رکھنے کی ضرورت ہے ۔ سب سے اہمیت کی بات یہ ہے کہ کرکٹ کی بہتری ہونی چاہئے ۔ کھلاڑی آئیں گے جائیں گے لیکن کرکٹ برقرار رہے گی اور اس کا سب کو خیال رکھنے کی ضرورت ہے ۔

TOPPOPULARRECENT